بلوچی زبان کے ممتاز ادیب جناب غوث بہار گزشتہ رات انتقال فرما گئے ـ

بلوچی زبان کے ممتاز ادیب جناب غوث بہار گزشتہ رات انتقال فرماگئے ـ

ذوالفقار علی زلفی

بلوچی شاعر

غوث بہار

ان کا شمار بلوچی زبان کے سینئر ترین ادبا میں ہوتا تھا ـ ان کی دلچسپی کا اہم ترین موضوع لسانیات تھا ـ انہوں نے بلوچی زبان کی نوک پلک سنوارنے کے لئے متعدد مقالے، مضامین و کتابیں لکھیں ـ

بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ سے تعلق رکھنے والے غوث بہار اپنے قوم پرست نظریات کی وجہ سے ہمیشہ پاکستانی حکومت کے زیرِ عتاب رہے ـ اپنی جوانی کے تقریباً نو سال انہوں نے پسِ زنداں گزارے ـ بلوچ قومی تحریک کے حالیہ ابھار کے بعد انہوں نے پیراں سالی میں قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ میں شمولیت اختیار کرلی ـ اس دوران وہ "جی بی بلوچ" کے قلمی نام سے اردو روزنامہ "توار" میں سیاسی مضامین بھی لکھتے رہے ـ

پاکستان نے جب بلوچ سیاسی کارکنوں و دانشوروں کو اغوا کرکے مسخ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا تو بہی خواہوں کے مشورے پر انہوں نے جلاوطنی اختیار کرلی ـ جلاوطنی کے دوران ان کو کینسر کا عارضہ لاحق ہوا ـ یہ عارضہ بالآخر جان لیوا ثابت ہوا ـ

جناب غوث بہار کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ ظہر ان کے آبائی شہر اورماڑہ میں ادا کی جائے گی ـ

غوث بہار کا تعلق قلم و کتاب کے اس قبیلے سے ہے جس نے نامساعد حالات میں بھی قلم کی حُرمت کا سودا نہ کیا ـ

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ـ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں