بقر عید یا بکرا عید ؟

بقر عید یا بکرا عید ؟

تحریر : رفاقت حیات

عید قرباں

بقر عید

بقر عید بکروں سمیت سروں پر آن پہنچی ہے۔ بکرے کی ماں بس چند دنوں تک ہی خیر منا پائے گی۔ اس کے بعد انہوں نے معدے میں جاکر جو اودھم مچانا ہے اس سے امید ہے کہ سب کی دوڑیں "وارڈ شعبۂ حادثات" میں لگ جانی ہیں۔
گوشت کھاتے ہوئے پیٹ کی اتھاہ گہرائیوں سے "ھل من مزید" یعنی یہ "پیٹ مانگے اور" کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ ان صداؤں سے دماغ پر پردے قالین اور غالیچے سب پڑ جاتے ہیں۔اور انسان اپنے معدے کو لبالب بھر لیتا ہے جیسے آخری بار کھانے جارہے ہوں۔جس سے ایک بڑی حد تک گڑ بڑ کے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں.
اس لیے مستقبل قریب میں "پیٹی گڑ بڑی" سے بچنے کےلیے ابھی سے کسی خاندانی حکیم سے رابطہ کرلیں.اور جس پھکی پر لکڑ ہضم پتھر ہضم لکھا ہو اس کا ایک پیکٹ بک کرالیں۔
اس کے علاوہ ابھی سے کھانا پینا کم کردیں۔تاکہ زیادہ سے زیادہ اپنے معدے کو تیار کیا جاسکے اور عید کے دن گوشت پر قاتلانہ حملہ کیا جاسکے۔
اور ان سب سے پہلے درج ذیل اہم نکات کو پلو سے باندھ لیجیے.
اپنے فریزر اور فریج کو کسی اچھےمکینک سے ایک بار چیک کروالیں تاکہ عین عید کے موقعے پر کچھ غلط نہ ہوجائے۔ اس سے آپ کے معدے کو کافی دھچکا لگ سکتا ہے۔

کسی دوست احباب خاص طور پر رشتے داروں سے ناراضی ہے تو انہیں آج ہی منالیں۔ نہیں تو گوشت ملنے کے مواقع کم ہوکر رہ جائیں گے.
فیس بک پر کسی قریبی دوست کو بلاک کر رکھا ہے تو اسے آزاد کردیں.وجہ اوپر والی لائن میں بیان کردی گئی ہے۔
اگر آپ کی زبان پہلے قینچی کی طرح رواں ہوتی رہی ہے تو اب اس قینچی کے آرام کرنے کا وقت آچکا ہے. اپنی زبان میٹھی کرلیں۔ خود کو بہت نرم خو اور ہنس مکھ بنا لیں۔ یاد رہے یہ مشق صرف ذی الحجہ کے تین دنوں کے لیے ہیں۔اس کے بعد آپ من مانیاں کرسکتے ہیں۔
نوٹ: زبان میٹھی کرنے کےلیے جلیبیاں بھی کھائی جاسکتی ہیں.شوگر زدہ افراد دور رہیں۔کیونکہ آپ پہلے ہی بہت میٹھے ہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں