بات تو احساس کی ہے ناول قسط نمبر1

بات تو احساس کی ہے

 

 

بات تو احساس کی ہے ناول

ناول

از سحرش طفیل

قسط_نمبر_01

 "اسلام علیکم امی" گھر میں داخل ھوتے ہی اس نے بلند آواز میں سلام کیا مگر جب نظر سامنے بیٹھی خالہ پر پڑی تو اسے ایسا لگا جیسے کڑوا بادام منہ میں آگیا ھو

"ارے نور آج بہت دیر لگا دی چلو جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا لگاتی ھو "

بھابھی نے اس کا چہرہ دیکھتے ہی فوراکہا

 "جی بھابھی"

یہ کہا کر وہ اپنے کمرے چلی گئی اور پیچھے ناہید بیگم اور خالہ اک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے

---------------------------------

بشر صاحب اور بیگم ناھید بشر کو اللہ نے نعمت اور رحمت دونوں سے نوازہ ھے بشر صاحب کپڑے کا کام کرتے ھیں ان کی قسمت کو تب عروج ملا جب نور اس دنیا میں آئی,جیسے جیسے نور بڑی ھوتی رھی بشر صاحب کا کام بھی بڑھتا رہا اک چھوٹی سی کپڑے کی دوکان سے اپنی فیکٹری کا سفر کیسےطے ھوا وہ آج بھی سمجھ نہیں سکے .وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدلا نہ بدلا تو اس گھر کے لوگو کے دلوں میں موجود نور کے لے پیار نہیں بدلا.

سب سے بڑےبیٹے علیان جو  شادی شدہ ھیں ان کی      بیگم ثوبیہ جو کہ ان کی ماموں زاد بھی ھیں پھر دوسرے نمبر پر سمعان جن کے لے ابھی لڑکی دیکھی جا رھی ھے,پھر ماہ نور اور آخر میں سبحان

ماہ نور کو اللہ نے دل کھول کر ھر چیز سے نوازہ چاھے وہ رنگ روپ ھو,ذھانت ھو یا گھر داری.

دودھ جیسا سفید رنگ,گہری بھوری آنکھیں ,لمبے بال اور 5.4 کا قد

کوئی بھی دیکھ کر دوبارہ ضرور دیکھتا ھے

-

 اصل کہانی تب شروع ھوئی جب سمعان کے لے لڑکی دیکھنی شروع کی گئی

خالہ بی روز اپنا بیگ اٹھا کر آجاتی اور ناہید بیگم اور نور تیار ھو کر خالہ کے ساتھ چل پڑھتی کبھی کسی کا رنگ کالا ھوتا اور کبھی کسی کی آنکھیں چھوٹی ھوتی ,کسی کا قد چھوٹا ھوتا تو کوئی بہت موٹی ھوتی کوئی لڑکی اسی نہیں ملی جو ان کے دل کر بھاتی.خالہ پھر بھی خوش تھی کیوں نہ ھوتی ناھید بیگم ھر بار اک بڑا نوٹ جو ان کو دیتی تھی اور جو لڑکی والوں کی طرف سے طرح طرح کا کھانے کو ملتا وہ الگ.

-

"ھائے نور کیسی ھو اور کیسا رہا کل کا وزٹ"

نور جیسے ھی کالج میں داخل ھوئی اس کو صبا نے اس کو پکڑ لیا

"یار مت پوچھو یہ خالہ بھی نہ پتہ نہیں کیسے کیسے رشتے دیکھاتی ھیں"

"مگر ھوا کیا'کچھ بتاؤ تو"

مومل نے مزہ لیتے ھوئے پوچھا

"یار ان کا گھر بہت اچھا تھالڑکی بھی پیاری تھی مگر یار وہ بھائی کے مقابلے میں اتنی پڑھی ھوئی نہیں تھی"

"کیا مطلب"

"یار اس نے ایف ایس کے بعد ترجمہ تفسیر اورعالمہ فاضلہ کا کورس کیا ھوا ھے سچ بولو تو لڑکی تو بہت پیاری ھے سمعان بھائی کے ساتھ خوب جوڑی سجتی   پر امی اور بھابھی نے منع کر دیا

بھابھی او پیاری بھابھی

نور گنگناتے ھوئے بھابھی کے روم میں جیسے ہی داخل ھوئی سامنے دیکھتے ہی اس کا منہ بند ھو گیا

"ارے نور رک کیوں گئی آؤ نہ ,نور یہ شاہ میر ہےھماری شادی کے ٹائم یہ سٹڈی کے لے باھر تھا کل ھی آیا ھے اور شاہ میر یہ نور ہے میں نے تم کو بتایا تھا نہ "

"جی ہاں آپ نے ذکر کیا تھا کیسی ھیں آپ"

شاہ میر نے ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا

"جی ٹھیک,بھابھی آپ نے میرا ریڈ ڈوپٹہ دیکھا ھے کیا"

نور نے جواب دے کر فورا بھابھی سے پوچھا

"ہاں میں نے لیا تھا اک منٹ ,یہ لو,تم کہی جا رہی ھو"بھابھی نے پوچھا

"شکریہ ,جی بھابھی صبا کی طرف جا رہی ھو سبحان کے ساتھ آپ پلیز بھائی کو بول دیجئے گا کہ واپسی پر مجھ کو پک کر لے" اوکے میں بول دو گی"

نور کے باھر جاتے ھی بھابھی نے شاہ میر سے پوچھا

"کیسی لگی?"

"اچھی ھے مگر "

"اچھی نہیں بہت اچھی ھے مگر کیا"

کچھ مغرور سی لگی مجھےاینی وے دیکھیں گئے

---------------------------------

"تم کچھ جلدی نہیں آگئی,ویسے تم اتنے روز سے ھو کدھر ,کالج کیوں نہیں آرہی"

نور کو دیکھتے ہی صبا بولی

"ارے ارے آرام سے یار آرام سے مجھے سانس تو لینے دو پہلے "

کیوں تم پیدل آئی ھو ,جو تم کو سانس لینے دو جلدی سے میرے سوال کا جواب دو

اف,سبحان کے ساتھ بائیک پر آئی ھو تمہیں پتہ ھے نہ وہ کتنی بری بائیک چلاتا ھے,دیر اس لے ھو گئی کیوں کہ بھابھی کا بھائی آیا ھوا تھا اور کالج یار موڈ نہیں تھا ,بس یا اور کچھ "

"صدقے جاؤ آپ کے موڈ کے ,ویسے یہ بھابھی کا بھائی کہا سے آگیا شادی پر تو نہیں تھا"

کتنے سوال کرتی ھو تم بھابھی کی پھوپھو کا بیٹا ھے بھابھی اور بھائی کی شادی پر باہر تھا اب آیا تو ملنے چلا آیا "

"کیسا ھے " اچھا ھے ھینڈسم ھے اب مجھے جلدی سے نوٹس دو تاکہ میں جاؤ

بڑی جلدی ھے جانے کی خیر تو ھے نہ

صبا کی بچی رکو تم "

-------------------------------------

"یہ کون ھے اور میری سیٹ پر کیا کر رہی ھے "

نورجیسے ھی کلاس میں داخل ہوئی سامنے دیکھتے ھی فورا بولی

او سوری میں تجھے بتانا ھی بول گئی یہ امبر ھے نیو اسٹوڈنٹ تم نہیں تھی آرہی تو میم نے اسے تمہاری سیٹ پر بیٹھا دیا"

اوکے آؤ دیکھتے ھیں

ہائے آپ میری سیٹ پر بیٹھی ھیں

او سوری ,میں اٹھ جاتی ھو

کوئی بات نہیں,میں ماہ نور

میرا نام امبر ھے

بہت اچھا نام ھے

اور آپ کا بھی

 --------------------------------

کچھ ھی دنوں میں امبر اور نور کے درمیاں اتنی دوستی ھوگئی کہ وہ باقی کی تمام دوستیں ان کو دیکھ کر حسد کرنے لگی

"صبا یار کچھ کر ایسے تو ھم بھوکے مرے گئے تجھے پتہ ھے میرے موبائل میں کارڈ نور ڈلواتی ھے ,کنٹین پر بھی وہ ھی پیسے دیتی اور تو اور تجھے ھر ھفتے شاپنگ بھی وہ ھی کرواتی ھے

ھائے میری تو فیس بھی وہ ھی بھرتی ھے

پلیز یار کچھ ایسا کر کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

فکر نہیں کرو میں کچھ کرتی ھو...........

-------------

دل دل پاکستان

جان جان پاکستان

ایسی زمین اور آسمان

ان کے سوا جانا کہا

بڑھتی رہے یہ روشنی

چلتا رہے یہ کارواں

دل دل پاکستان جان جان پاکستان

جیسے ھی شاہ میر اور سمعان کمرے میں داخل ھوئے  جنید جمشید کی آواز نے ان کا استقبال کیا مگر جیسے ھی سمعان کی نظر کمرے میں پڑی اس کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے جبکہ شاہ میر کی حالت بالکل مختلف تھی وہ پر شوق نظروں سے نور کو دیکھ رھا تھا جو ادرگرد سے بے خبر مزے سے چپس کھاتے ھوئے بک پڑھ رھی تھی ٹیبل پرکافی کا کپ پڑا تھا جس میں سے بھاپ اڑ رھی تھی ساتھ ایک بول میں چپس اور ایک پلیٹ میں گاجر کا حلوہ پڑا ھوا تھا سامنے ایل سی ڈی پر کارٹون لگے ھوئے تھے سی ڈی پر ملی نغمہ چل رھے تھا اور نور صاحبہ کا ڈوپٹہ صوفے پر, صوفے کے کشن زمین پر اس کے ادرگرد پڑے تھے

سمعان نے چیخ کر نور کو آواز دی

"نور"

ڈر کے مارے نور کے ھاتھ سے بک گری اور نور کا اپنا ہاتھ چپس کے بول سے جا ٹکرایا اور ساری چپس بول سمت نیچھے

"کککیا ھوا کیا ھوا بھائی"

"یہ تم نے ڈرائینگ روم کی کیا حالت کی ھوئی ھے کب بڑی ھو گی تم"

"بھائی میں نے تو کچھ نہیں کیا "

تو یہ کون کر گیا ھے بولو

بھائی وہ"

بولتے بولتے نور کی نظر شاہ میر پر پڑی ,شاہ میر کو مسکراتے دیکھ کر نور کو تو آگ لگ گئی اس نے جلدی سے صوفے پر سے اپنا ڈوپٹہ پکڑ کر اڑا .

"کیا وہ فورا یہاں سے یہ سب سمیٹو جلدی,سوری شاہ میر ایسا کرتے ھیں میرے کمرے میں بیٹھ کر بات کر لیتے ھیں"

"نو پرابلم یار کوئی بات نہیں "

اتنی دیر میں سمعان کے موبائل کی بیل ھوتی ھے اور وہ ایکسیوز کر کے موبائل لے کر باہر چلا جاتا ھےشاہ میر مسکراتے ھوئے نور کو دیکھتا ھے

" کیسی  ھو ماہ نور"

"خبردار جو آپ نے میرا نام لیا ھو تو"

"ارے اتنا غصہ اور وہ بھی مجھ غریب پر ,وجہ پوچھ سکتا ھو خاتون"

"کیا کیا خاتون ,خاتون کس کو بولا ,کیا میں آپ کو خاتون لگ رھی دماغ ٹھیک ھے آپ کا"

نور کو ایسا لگا جیسے اسے کسی نے انگاروں پر پھینک دیا ھو بہت غصے میں وہ مڑی اور کافی کا کپ اٹھا کر جیسے ھی وہ شاہ میر کے پاس سے گزرنے لگی اس کا پاؤں اپنے ھی ڈوپٹے میں الجھ گیا اور گرم کافی ساری شاہ میر پر گر گئی اس سے پہلے کہ نور خود بھی گر جاتی شاہ میر نے اسے پکڑ لیا.نور نے فورا خود کو سنبھالا اور بغیر پیچھے مڑ کر دیکھے بھاگ کر کمرے سے نکل گئ اور شاہ میر ادھر ھی فریز ھو کر رہ گیا.

-------------------------------------

صبا جیسے ھی کالج کے لون میں آ کر بیٹھی مومل کو دیکھ کر چونک گئ

تم کو کیا ھوا یہ منہ پر بارہ کیوں بجا رکھے ھیں "

مومل "فکر نہیں کرو اگر یہ ھی حالات رہے تو بہت جلد تمہارے منہ پر بھی بج جاۓ گۓ"

"اللہ نہ کرے,ہوا کیا ھے یہ بتاؤ"

تانیہ"یار ھونا کیا ھے آج پھر مومل صاحبہ نے ناشتہ نہیں کیا وجہ وہ ھی رات کا سالن ,اب نور تو ھے نہیں جو اس پیٹو کوسموسے,چاٹ,برگر کھلا سکے

بس اتنی سی بات کا رونا ہے"

مومل "وہ وقت دور نہیں جب تم داخلہ فیس اور تم شاپنگ نہ ھونے کی وجہ سے رورہی ہو گئ"

صبا "یار  بات تو واقعی سوچنے کی ھے "

"ہاۓ گرلز کیا ھو رہا ھے کبھی کوئی پریڈ بھی لے لیا کرو تم اور یہ لو بھائی کھاؤ   اور مجھے اور امبر کو دعائیں دو "

نور نے بیٹھتے ھوئے کہا اور اپنے اورامبر کے ہاتھ میں موجود پلیٹس نیچھے رکھ دی جس میں گرم گرم سموسے اور برگر موجود تھے

صبا"یار ھم تم دونوں کا ہی انتظار کر رہی تھی تاکہ مل کر کنٹین چلیں "

امبر "تم لوگ ابھی سوچ رہے ھو اور ہم ھو بھی آۓ"

مومل ,صبا,تانیہ نے اک دوسرے کو دیکھا

صبا"امبر تم لوگ پہلے پنڈی میں رھتے تھے نہ "

"ہاں ہم پہلے پنڈی رھتے تھے میں ادھر ھی پیدا ھوئی ھو "

صبا"تو پھر ادھر کیوں آۓ ھو"

"اووکھو اووکھو اووکھو اووکھو"

"ارے پانی دو امبر پانی پیو ,تھوڑا سا  ,امبر تم ٹھیک ھو ?"

"ہاں میں ٹھیک ھو سوری"

نور "اب کوئی بات نہیں کرے گا چپ کر کے کھاؤ"

تانیہ ,صبا اور مومل نے اک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا.

---------------------------------------

"بھابھی مجھے اک بک نہیں مل رہی,کیا میں بھائی کی سٹڈی روم میں دیکھ لو"

"ارے اس میں پوچھنے کی کیا بات ھے دیکھ لو"

شکریہ بھابھی

نور مسکراتے ھوئے سٹڈی روم میں داخل ھوئی اور مختلف ریک میں سے بکس نکال کر دیکھنے لگی

جیسے ھی اس نے اک شاعری کی بک کو پکڑا وہ اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچھے گر گئی اور اس میں موجود کاغذ بھی, نور نے جھک کر بک کو اٹھا کر بکس ریک میں رکھا اور کاغذ کو پکڑ کر دیکھنے لگی

"نور مل گئ بک"

نور نےجلدی سے کاغذ کو اپنی بک میں رکھا اور مڑ کر بھابھی کو دیکھ کر مسکراتے ھوئے بولی

"جی بھابھی مل گئ بک شکریہ"اور فورا روم سے چلی گئ

"ارے اسے کیا ھوا"

----------------------------------------

اپنے روم میں جاتے ہی نور نے روم کو لاک کیا اور کاغذ کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی کاغذ کے اک کونے پر لکھا تھا

                 میرے پیارے علیان کے نام

نور نے جلدی سے کاغذ کے اندر ہاتھ ڈالا تو اندر سے ایک لیٹر اور ایک اور کاغذ نکلا نور نے غور سے کاغذ کو دیکھا اسے کچھ سمجھ نہ آئی ,اتنے میں روم کا دروازہ کسی نے زور سے بجایا

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں