بات تو احساس کی ہے ناول قسط نمبر2

 بات تو احساس کی ھے

 

 

 

ناول بات توہے

ناول

 

 

 

 

از سحرش طفیل

 

 

 

قسط_نمبر_02

"تیرا مکھڑا حسین جادو کر گیا

یہ دل لیا گیا میری جان

میں نے دیکھی ھے بڑی لڑکیاں سوہنیا

نہیں ...............

" شاہ میر بیٹا فارغ ھو"

شاہ میر جو اپنے ھی خیال میں گم  گنگنارہا تھا فورا چپ کر گیا اور مڑ کے عالیہ بیگم کی طرف دیکھتے ھوئے بولا

"جی امی میں فارغ ھو کوئی کام تھا آپ کو"

ہاں میں کہہ رہی تھی ذرا مجھے ثوبیہ کی طرف تو لے چلو"

"ثوبیہ کی طرف تو میں لئے جاتا ھو مگر خیر تو ھےنہ آپ کو کوئی کام ھے "

"ہاں بہت ضروری کام ھے تم چلو تو میں بتاتی ھو اور ہاں راستے میں سے مٹھائی بھی لینی ھے "

"مٹھائی کیوں لینی ھے"

"بس ھے اک بات تم چلو میں بتاتی ھو"

------------------------------------

"لو جی طوطا مینا کی جوڑی آگئی خبردار ھوشیار"

تانیہ نے صبا اور مومل کو متوجہ کیا

"بکواس نہیں کرو" صبا نے کہا

"ہاۓ فرینڈز کیا ھو رہا ھے"

"کچھ نہیں یہ صبا بہت پریشان تھی تو اس کو سمجھا رھی تھی"

تانیہ نے صبا اور مومل کو آنکھ مارتے ھوئے کہا

نور"صبا کیا بات ھے کیوں پریشان ھو"

"کچھ نہیں یار ماما پنڈی جا رہی ھے خالہ کی طرف"

"تو اس میں پریشانی کی کیا بات ھے" امبر بولی

"پریشانی یہ ھے کہ مجھے شاپنگ پر جانا ھے "

صبا نے امبر کو دیکھ کر کہا

امبر"تو اس میں پریشانی کی کیا بات ھے شاپنگ کر لو تم"

صبا امبر کو گھورتے ھوئے بولی

"میں شاپنگ پر صرف نور کے ساتھ ھی جاتی ھو اور مجھے لگتا ھے کہ نور آج کل بزی ھے تو شاید وہ نہ جاۓ"

نور"ارے کس نے بولا میں بزی ھو چلو ابھی چلتے ھیں"

"ابھی"

"کیوں ابھی کیا ھے"

"وہ نور میرا وولٹ تو گھر ھے اور پیسے اس میں  ھیں "

امبر فورا بولی "ارے صبا تمہارا وولٹ تو تمہارے بیگ میں ھے تمہیں شاید یاد نہیں صبح بک نکالتے نیچھے گر گیا تھا"

صبا امبر کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ھوئےبولی

" او سوری میں بول گی "

نور "اف چھوڑو نہ میرے پاس پیسے ھیں صبح ہی بابا جان سے لیے تھے اب سب اٹھو واپسی میں پیزا بھی کھائیں گۓ "

امبر "سوری نور میں تو نہیں جا سکتی مجھے آج جلدی گھر جانا ھے ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں تم لوگ جاؤ اور انجواۓ کرو"

نور "تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا ھم لوگ بھی تمہارے ساتھ چلتے ھے اسی بہانے آنٹی کی عیادت بھی ھو جاۓ گی اور ھم تمہارا گھر بھی دیکھ لے گئیں کیوں گرلز کیا خیال ھے تمہارا"

"Good idea "

مومل,صبا اور تانیہ نے اک دوسرے کو دیکھا اور "ہاں" میں سر ہلا دیا

--------------------------------------------

عالیہ اور ناہید بیگم دونوں اس وقت سر جوڑ کر بیٹھی ھوئی تھی اور ہلکی آواز میں باتیں کر رھی تھی نور نے باھر سے آ کر ھمیشہ کی طرح بلند آواز سے سلام کیا عالیہ اور ناہید بیگم نے چونک کر نور کو دیکھااور عالیہ بیگم فورا بولی

"وعلیکم سلام کتنی لمبی عمر ھے میری بیٹی ابھی میں ناہید کو پوچھ ھی رہی تھی کہ نور ابھی تک کالج سے نہیں آئی "

"تھنیک یو آنٹی بڑے دونوں بعد آپ آئی ھیں آپ ٹھیک تو تھی نہ "

"ہاں بیٹا اللہ کا شکر ھے بس شاہو کے آنے کی وجہ سے گھر سے نکلنا ھی نہیں ھوا"

"کیا مطلب آنٹی آپ کو میری اتنے دن یاد ھی نہیں آئی"

شاہ میر کا نام سن کر اسے اس روز کا واقعہ یاد آ گیا

"ارے نہیں بیٹا تمہاری  یاد آئی تو تم سے ملنے چلی آئی پھر تم نے بھی اتنے دنوں سے گھر کا چکر نہیں لگایا "

"بس آنٹی پڑھائی میں بزی تھی سوری "

"کوئی بات نہیں بیٹا میں آئی یا تم بات تو ایک ھی ھے نہ"

"نور جلدی سے چینج کر کے کھانا کھا لو"

"جی امی,آنٹی میں ابھی آئی"

نور ڈرائینگ روم سے نکل کے اوپر جانے کے لے سیڑھیوں کی طرف بڑھی جیسے ھی وہ سیڑھیوں کا موڑ مڑی دوسری طرف سے آتے ھوئے شاہ میر سے بری طرح ٹکرا گی بکس ہاتھ سے نکل کر پاؤں پر لگی تو نور کی چیخ نکل گئی

شاہ میر "Sorry, I am very very Sorry"

"آپ..........آپ دیکھ کر نہیں چل سکتے کیا ,اندھے ھیں"

"او ھیلو ....اگر میں اندھا ھو تو محترمہ آپ ھی دیکھ لیتی"

"کیا ھوا ...کیا ھوا  ..  ...."

ثوبیہ چیخ کی آواز سن کر آئی

"بھابھی میرا پاؤں "

" جی ٹوٹ گیا ھے "

شاہ میر نے نور کی بات کو درمیان میں کاٹ کر بولا

"اللہ نہ کرے ....آپ کا اپنا ٹوٹا ھو گا منہ اچھا نہ ھو تو انسان کو بات تو اچھی کرنی چاہیے"

" محترمہ میرا منہ الحمداللہ بہت اچھا ھے ھزاروں لڑکیاں مرتی ھیں"

"جی بالکل وہ بھی آپ کی ھی طرح اندھی ھو گئی "

"چپپپپپ......ایک دم چپ خبردار اب جو تم دونوں میں سے کوئی بولا ھو تو بچوں کی طرح جھگڑ رھے ھو ,شاہ میر تمہیں آفس سے دیر ھو رھی تھی نہ اور نور تم چلو روم میں "

"بھابھی نہیں چلا جا رہا"

شاہ میر مسکراتے ھوئے

"میں اٹھا کر روم میں چھوڑ آؤ کیا"

جی نہیں شکریہ میں چل سکتی ھو"نور کے اک دم کہنے پر

شاہ میر نے مسکراتے ھوئے اپنے روم کی طرف جاتی ھوئی نور کو دیکھا اور سر جھٹک کر نیچھے کی طرف بڑھ گیا

---------------------------------

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر

سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ

الحمداللہ الحمداللہ الحمداللہ الحمداللہ

ناہید بیگم تسبیح کو پڑھتے ھوئے بیڈ پر آ کر بیٹھی اور بشر صاحب کی طرف دیکھا جو کہ اپنے ہاتھ میں موجود کتاب کو بہت دھیان سے پڑھ رھے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اگر اک بھی لفظ چھوٹ گیا تو بہت بڑا نقصان ھو جاۓ گا.ناہید بیگم بشر صاحب کو پکارتی ھوئے

"اجی سنیے"

"ھھھو"

ناھید بیگم کی بات پر بشر صاحب نے ھنکارہ بھرا

"میں نے کہا سنیے "

"بیگم ھم کانوں سے سنتے ھیں اور اللہ کے فضل و کرم سے ھمارے کان بالکل ٹھیک ھیں "

ناھید بیگم نے بہت بےبسی کے ساتھ بشر صاحب کو دیکھا اور بولی

"آج عالیہ بھابھی آئی تھی "

"یہ تو بہت اچھی بات ان کا اپنا گھر ھے ضرور آئیں"

"اف وہ مٹھائی لیکر آئی تھی"

"مٹھائی ,مٹھائی کس خوشی میں کہی انھوں نے شاہ میر کا رشتہ تو پکا نہیں کر دیا"

"جی وہ شاہ میر کے رشتے کے لیے ہی آئی تھی"

بشر صاحب کتاب چھوڑ کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ناھید بیگم سے بولے

"آپ کہنا کیا چاھتی ھیں کھل کر بات کرے"

"بھابھی نور کے رشتے کے لئے آئی تھی "

"نور کے رشتے کے لئے"

"جی!وہ کہہ رہی تھی کہ اگر آج بھائی بھابھی زندہ ھوتے تو وہ خود بات کرتے نور کو شاہ میر کی دلہن بنانا ان کی خواھش تھی مگر اللہ نے ان کو اتنی مہلت ھی نہیں دی"

بشر صاحب نے اک لمبا سانس لیا اور اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے مرحوم دوست اور کزن کو یاد کیا اور بند آنکھوں سے بولے

"آپ نے انھیں کیا جواب دیا".

" میں نے کیا جواب دینا ھے میں نے کہا آپ سے پوچھ کر بتاؤ گی"

"ھووو...... لڑ کا تو اچھا ھے کوئی برائی بھی نہیں ماشااللہ اپنا کاروبار کر رہا ھے آپ کیا کہتی ھے "

"سچ بولو تو مجھے یہ رشتہ بہت پسند ھے لڑکا اکلوتا ھے سب سے بڑی بات ھماری بچی ھماری آنکھوں کے سامنے رھے گی"

"ھو...ٹھیک کہا آپ نے "

"پھر میں بھابھی کو ہاں بول دو"

"نہیں پہلے آپ نور سے اس کی رضا مندی پوچھے اگر وہ ہاں بولے تو پھر بھابھی بیگم کو ہاں بولنےمیں کوئی مذائقہ نہیں"

"جی ٹھیک ھے میں پوچھ لیتی ھوں"

"لائٹ بند کر دے پلیز"

آنکھوں میں آئی نمی کو اپنی بیگم سے چھپانے کے لے بشر صاحب کروٹ لے کر لیٹ گئے

----------------------------------------

"نور بیٹا فارغ ھو تم سے کچھ بات کرنی ھے "

ناھید بیگم ہاتھ میں دودھ کا گلاس لئے نور کے کمرے میں داخل ھوتے ھوۓ بولی,نور نے بک پڑھتے ھوئے سر اٹھایا اور بولی

"جی امی آیئے میں فارغ ھو آپ کو مجھ سے کیا بات کرنی ھے "

"وہ بیٹا تمہارے لئے اک رشتہ آیا ھے مجھے اور تمہارے بابا کو بہت پسند ھے اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ھو تو ھم بات آگئے بڑھائیں"

کیا رشتہ اور وہ بھی میرے لئے, ھم تو سمعان بھائی کے لے رشتہ دیکھ رہے تھے نہ تو میں کہا سے آ گئی,وہ ویسے بھی مجھے ابھی پڑھنا ہے"

"اوھو .......اک تو تم بولتی بہت ھو ,یہ کس نے بولا کہ سمعان کے ھوتے تمہارا رشتہ نہیں ھو سکتا "

"آ پ ہی تو اس روز رشتے والی خالہ کو بول رہی تھی"

"نور ....خبردار جو تم اب درمیاں میں بولی, میری بات دھیان سے سنو ,پہلی بات تو یہ کہ ھم تمہاری شادی تمہاری پڑھائی مکمل ھونے کے بعد کرے گئے, دوسری بات اب تک جتنے بھی رشتے آئیں ھیں سب غیروں میں سے تھے یہ رشتہ اپنوں میں ھے تم خوش رہو گی پھر سب سے اچھی بات کے ھماری آنکھوں کے سامنے رہو گی ,بیٹا اکیلا لڑ کا ماں باپ تو اس کے بچپن میں ھی انتقال کر گئے تھے پڑھا لکھا ھے اپنا کام ھے"

"ٹھیک ھے امی اگر آپ کو اور بابا کو پسند ھے تو اوکے"

"جیتی رھو بیٹا ھمیشہ خوش رھو"

ناھید بیگم نے نور کی فرمابرداری پر اس کا ماتھا چوم لیا.

------------------------------------------

دیسا دا راجہ میرے بابل دا پیارا

امڑی دے دل دا سہارہ تے ویر میرا کھوڑی چڑھیا

"یہ کیا بدتمیزی ھے اتنے بڑی ھو گئی ھو مگر عقل نہیں آئی"

عالیہ بیگم سے سارا حال احوال لینے کے بعدثوبیہ چہکتی ھوئی شاہ میر کے کمرے میں داخل ھوئی ,شاہ میر کی ڈانٹ سن کر اک لمحے کے لے وہ چپ ھوئی اور پھر دوبارہ سے کھلکھلا کر ھنستے ھوئے بولی

"جی جناب بالکل اب ھم تو آپ کو پاگل ھی لگے گئے ھم کوئی نور تھوڑے ھیں جو غصے میں . ......."

"کیا... کیا بک رہی ھو اور یہ نور کہا سے درمیان میں آگئی اور تم میرے روم میں کر کیا رھی ھو نکلو ادھر سے "

"اللہ اللہ کیا معصومیت ھے شاہو اتنے تیز نہیں بنو مجھے پتہ ھے امی نے تمہیں سب بتا دیا ھے "

"ہاں بتا دیا ھے پھر ...اور اب نکلو میرے کمرے سے مجھے سونا ھے صبح آفس بھی جانا ھے "

"ہاں ہاں جا رہی ھو اور تمہیں دیکھ کر تو میں نور کے لئے اب بس دعا ھی کر سکتی "

" تو ویٹ کس کا کر رھی ھو جاؤ اور دعا کرو "

"شاہو بہت بدتمیز ھو"

ثوبیہ پیر پھٹکتے ھوئے شاہ میر کے کمرے سے نکلی ,شاہ میر کمرے کا دروازہ بند ھوتے ھی مسکرا دیا اگر وہ سب نہیں کرتا تو ثوبیہ نے اسے جو تنگ کرنا تھا سو کرنا تھا مگر اس نے نور کو بھی نہیں تھا بخشنا,شاہ میر بیڈ پر بیٹھ کر گنگنانے لگا

میرے سپنوں کی رانی کب آۓ گی تو

آ ئی رت مستانی کب آۓ گی تو

بیتی جاۓ زندگانی کب آۓ گی تو

چلی آ تو چلی آ چلی آ تو چلی آ

"آ جا گی اتنے دل سے پکاروں گئے تو ضرور آئے گی"

ثوبیہ نے دروازہ کھول کر بولا تو شا ہ میر اچھل کر بیڈ سے نیچھے گر پڑا ,اسے نیچھے گرتا دیکھ کر ثوبیہ زور زور سے ھنسنے لگی شاہ میر نے بیڈ سے کشن اٹھا کر ثوبیہ کو دی مارا اس سے پہلے کہ کشن ثوبیہ کو لگتا اس نے دوبارہ دروازہ بند کر دیا ,کشن دروازے کو لگ کے نیچھے گر گیا ,شاہ میر سر پر ہاتھ پھیر کر مسکرانے لگا.

----------

میری پیاری بہنیا بنے کی دلہنیا

سج کے آۓ گئے گے دولہے راجا

بھیا راجہ بجائے گا باجا بھیا راجہ بجائے گا باجا

سبحان نور کے کمرے میں داخل ھوتے ھوئے اپنی آواز کا سر بکھر رہا تھا نور نے پاس پڑا کشن اٹھا کر سبحان کو دے مارا مگر سبحان بھی اپنے نام کا ایک ھی تھا وہ فورا نیچھے جھک گیا اور کشن اندر داخل ھوتے ھوئے علیان کو لگا

"ارے ارے کیا ھو گیا بھائی"

"علی بھائی منا کرے نہ اس کو مجھے کب سے تنگ کر رہا ھے "

اتنا بول کر نور نے رونا شروع کر دیا

"نور نور کیا ھو گیا پلیز چپ کرو"

"سوری پلیز چپ کر جاؤ نہیں تو بابا سے مجھے ڈانٹ پڑ جائے گی"

"تم جاؤ اور جوس لے کر آؤ "

"جی بھائی"

"نور گڑیا کیا ھوا ھے میری طرف دیکھو کیا تم اس رشتے سے خوش نہیں ھو مجھے بتاؤ میں امی ,بابا سے خود بات کرتا ھو "

"بھائی اسی کوئی بات نہیں ,آپ بابا اور امی سے کچھ نہیں بولنا "

"پھر تم روئی کیوں"

" ویسے ھی رونا آگیا بھائی "

"پاگل "

اتنی دیر میں سبحان جوس لے آیا اور سبحان کے پیچھے سمعان اور ثوبیہ بھی کمرے میں داخل ھوئے علیان نے سبحان کے ہاتھ سے جوس لے کر نور کو دیا نور نے تھوڑا سا پیا اور گلاس ساتھ پڑے ٹیبل پر رکھ دیا ,سبحان نے گلاس کو پکڑا اور اک ہی سانس میں سارا پی لیا سب سبحان کو دیکھنے لگے ,سبحان گبھرا کر بولا

"میں نے سوچا نور سے پیا نہیں جا رہا ھے میں ھی پی لو"

سبحان کی بات سن کر سب ہنس پڑے ,سمعان نور سے بولا

"نور پیزا کھانے چلے"

"بھائی پہلے گول گپے پھر پیزا"

"تو تم آج سمی کی جیب خالی کروانا چاہتی ھو "

ثوبیہ کے بولنے کے ساتھ ھی سبحان بولا

"گڈ آئیڈیا"

"اور واپسی پر ھمیں آئس کریم سبحان کھلائے گا "

"کیا نہہہہییییں..........."

نور کی بات سن کر سبحان چلا کر بولا اور سب مسکرا دیئے

------------------------------------------

"لو جی آگئی ھماری مینا "

مومل کی بات سن کر امبر اور تانیہ نے سر اٹھا کر دیکھا اور نور کو دیکھ کر مسکرا دی

"چلو جلدی جلدی اپنا اپنا سامان سمیٹوں اور میرے ساتھ چلو "

"کیوں کیا ھوا خیر تو ھے نہ "

نور کی بات سن کر امبر بولی

"ہاں خیر ھی ھے وہ کل میری انگیجمنٹ ھے"

"کیا........انگیجمنٹ کہاں, کس کے ساتھ,کون ھے ,کیا کرتا ھے اور تم ھم کو اب بتا رھی ھو "

تینوں نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی

نور"پلیز یار سانس تو لو سب بتاتی ھو ,کل ھی یہ سب طے ھوا اور آج میں تم کو بتا رھی ھو ,کون ھے تو بھابھی کا کزن ھے ,اسی شہر میں رہتا ھے ,اپنا بزنس ھے اب باتیں ختم کرو اور میرے ساتھ چلو مجھے کچھ شاپنگ کرنی ھے "

"تم نے صبا کو بتایا "

" کل رات سے ٹرائی کر رہی ھو اس کا نمبر بند ھے ,پلیز اب چلو بھی اور ہاں کل تم سب نے صبح ھی میرے گھر آ جانا ھے اوکے"

امبر "یہ بھی کوئی کہنے کی بات ھے "

---------------------------------------------

پنک,یلو اور لائٹ بیلو کلر کے فراک اور چوڑی دار میں نور آج بہت پیاری لگ رھی تھی دوسری طرف شاہ میر بلیک ٹو پیس میں بہت سمارٹ لگ رہا تھا سب لوگ انھیں چاند سورج کی جوڑی قرار دے رھے تھے شاہ میر کی آنکھیں بار بار نور کی جانب اٹھ رھی تھی رنگ پہناتے ھوئے شاہ میر نے پر جوش انداز اور محبت سے نور کا ہاتھ دبا دیا اور آہستہ سے نور کے کان میں بولا

"بہت پیاری لگ رہی ھو "

رسم کے بعد جیسے ھی شاہ میر اسٹیج سے نیچھے اترا تو وہ تینوں جلدی سے اسٹیج پر چڑھ گئی اور نور سے باتیں کرنے لگی اور دور کھڑے علیان اور سمعان کی نظر جیسے ھی اسٹیج پر پڑی تو انھیں لگا کہ وہ پتھر کے ھو گئے ھیں ایک کی آنکھوں میں خوشی کے جگنو چمک رہے تھے تو دوسرے کی آنکھیں حیرت کی زیارتی سے پھٹی جا رہی تھی

-----------------------------------------

"جمی میرا کام کب کرو گئے مجھے واپس بھی جانا ھے "

صبا نے اپنے کزن جمشید عرف جمی سے کہا جو کہ ایک بگڑا ھوا ریس زادہ ھے

"یار ھو جائے گا کام فکر نہیں کرو,ویسے یار تیری ساری دوستیں کمال کی ھے مگر اس کی بات الگ ھے"

جمی نے نور کی تصویر کو دیکھتے ھوئے کہا

"یہ تمہارے جال میں آنے کی نہیں سو اپنا ٹائم ویسٹ مت کرو "

"یار میرا تو اس پر دل آ گیا ھے اور تمہیں پتا ھے نہ..."

ہاں مجھے سب پتا مگر جمی یہ تمہارے چکر میں آنے کی نہیں "

"تم مجھے چیلینج کر رہی ھو "

"اگر میں کہو ھاں تو "

"مجھے تمہارا چیلینج قبول ھے"

"ڈن ,میں تمہیں ایک ماہ دیتی ھو اگر تم جیت گئے تو جو تم بولو گئے وہ میں کرو گئی اور اگر تم ہار گئے تو تمہیں مجھ سے شادی کرنی ھو گئی"

"ڈن مگر ایک ماہ بہت زیادہ ہے 15 دن کافی ھیں

جاری ھے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں