بابا کا آخری خواب بھی ٹوٹ گیا

بابا کا آخری خواب بھی ٹوٹ گیا

نورالہدی شاہین

بابا جان

بابا جی

الیکشن کے دن اورنگی ٹاون میں ایک پولنگ اسٹیشن کے اندر گیا تو تیسری منزل سے دو افراد ایک بابا کو دونوں بازوں سے پکڑ کر نیچے اتار رہے تھے۔

سیڑھیاں تنگ تھیں میں ایک سائیڈ پر کھڑا ہوگیا۔ بابا نیچے میرے پاس پہنچے تو میں نے کہا۔۔ بابا آپ کا جذبہ قابل دید ہے کہ آپ اس کمزوری کی حالت میں ووٹ دینے کے لیے پہنچ گئے۔
بابا میری طرف دیکھتے ہوئے پہلے تو مسکرائے اور پھر یکدم ان کی آنکھیں بھر آئیں اور کہنے لگے۔
بیٹا ہم نے اپنے گلی محلوں سے درجنوں بچوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ کسی کو بھتہ نہ دینے پر مارا اور کسی کو مخالف جماعت کی حمایت پر غدار قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔ اب 40 سال بعد اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کی آزادی ملی ہے۔ اس لیے خود چل کر آیا ہوں کہ اپنے بچوں کے قاتلوں کی سیاسی موت پر انگوٹھا ثبت کرسکوں۔ کیا پتہ اگلی مرتبہ زندگی ووٹ دینے کا موقع دے یا نہ دے۔

اگر ہم سیڑھیوں پر کھڑے نہ ہوتے اور لوگوں کا راستہ بند نہ ہوتا تو میں موبائل نکال کر بابا کی گفتگو ریکارڈ کرلیتا اور اسے اپنے پاس محفوظ رکھتا۔
آج تحریک انصاف نے نمبر گیم پورا کرنے کے لیے بابا کے بچوں کے ان قاتلوں کے ساتھ اتحاد کرکے ایک نئی سیاسی زندگی دی ہے جن کی سیاسی موت پر 80 سالہ بابا انگوٹھا لگانے دو بندوں کے سہارے پولنگ اسٹیشن پہنچے تھے۔
بخدا مجھے یہ سوچ کر خوف آتا ہے کہ یہ خبر جب بابا کے پاس پہنچے گی تو ان کو دل کا دورہ نہ پڑ جائے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں