آزادی کیوں اور کیسے ؟ جشن آزادی خصوصہ مضمون

آزادی ۔ کیوں کیسے ؟

سیٹھ وسیم طارق

وسیم طارق

سیٹھ وسیم طارق

آزادی (Independence) کے لفظی مطلب خودمختاری ، حریت اور بیباکی کے ہیں اصطلاح میں اس کا مطلب ایک قوم، ملک یا ریاست کی ایک حالت ہے جس میں اس کے باشندے اور آبادی، یا اس کے کچھ حصے، خود حکومت کا استعمال، اور زیادہ تر علاقے پر عام طور پر خود مختاری ہو۔ قومی یوم آزادی انسان کو اپنے نفس اور اپنے معاملات میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہونا اس طور پر کہ اسمیں اسکا کوئی معارض نہ ہو۔ (گوگل)

آزادی ایک نعمت ہے۔ بلکل بجا بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ بندے کو آزادی کیوں چاہئے جبکہ اس کو تمام نعمتیں میسر ہوں۔ آخر ایسے کون سے محرکات ہیں جن کی بدولت وہ اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے بے نیاز ہو کر آزادی کا صور پھونکنے لگ جاتا ہے۔ جب معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو، پنجرے میں قید پرندے کو،کچھار میں قید شیر کو اور چڑیا گھر میں قید بندروں کو بروقت کھانا پانی اور ہر وہ آسائش میسر ہے جو وہ آزاد رہ کر حاصل نہیں کر سکتے تھے تو وہ کیوں آزادی چاہیں گے۔ وہ کیوں بغاوت کا اعلان کریں گے وہ کیوں دل میں نفرت کے انگار جمع کرتا رہیں گے۔ اس کو تو پنجرے اور معاشرے میں وہ سب حاصل ہے جو ایک آزاد آدمی کو میسر ہی نہیں مثلا کھانا پینا اور سونا۔ ایک آزاد بندہ تو ساری زندگی دماغی تھکان کا ہی شکار رہتا ہے۔ لیکن ایک غلام کو ایسی کوئی ذہنی تھکان کی شکایت نہیں ہوتی اس کو پتا ہے کہ شام کو کھانا مل ہی جانا ہے تو پھر وہ کیونکر مالک کا دروازہ چھوڑے گا کیوں کہے گا کہ مجھے آزاد کرو میں یہاں نہیں رہنا۔وہ اس بات پہ بغاوت کا اعلان کر سکتا ہے کہ مالک نے مجھے شام کا کھانا نہیں دیا تو پھر اسکا آزادی کیلئے رونا جائز ہے۔ پھر تو پنجروں میں قید چرند پرند کا واویلا کرنا بھی بنتا ہے۔ بصورت دیگر ایسے کونسے محرکات ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں رہنے والے علاقائی حد بندی کرنے پہ تلے ہوتے ہیں۔

 اگر بات غلامی کی کریں تو آزادی حاصل کرنے کے باوجود بھی کچھ لوگ غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور منہ سے شکوہ شکایت جیسا کوئی لفظ ادا نہیں کرتے۔ ان کیلئے آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو غلامی سے آزادی پانے کے باوجود غلامی کا ڈھنڈوڑا پیٹتے نظر آتے ہیں۔ خصوصی طور پہ عورتیں جو کہ مغربی روایات کی طرز کی آزادی چاہتی ہیں لیکن یہ بھولی عورت یہ نہیں جانتی کی جب وہ عورتیں ان کے طرز زندگی پہ نظر دوراتی ہیں تو کتنا رشک کرتی ہیں۔ وہ کسی کے ماتحت ہونے کو غلامی کا نام دیتی ہیں حالانکہ ماتحت ہونا قطعی غلامی نہیں ہے۔ دنیا میں تقریبا ہر کوئی کسی کے ماتحت ہے لیکن سوائے عورتوں کے ایسا ڈھنڈوڑا کوئی نہیں پیٹتا۔ ہاں اگر ماتحتی کے ساتھ ساتھ ظلم و زیادتی کا اضافہ ہو جائے تو پھر سمجھ میں آتا ہے کہ آزادی کا حصول لازم وملزوم ہے اگر ظلم و زیادتی نہیں تو پھر بغاوت کا مطلب نہیں بنتا جیسے کہ محمد بن قاسم نے کیا جب ان کو لڑکی کا خط موصول ہوا تب ہی انکو سندھ پہ حملے کا حکمنامہ ملا۔ برصغیر پہ مسلمانوں کی ہزار صالہ حکومت کیخلاف ہندووں نے اعلان بغاوت نہیں کیا جبکہ جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں نے ہندووں کے دور حکومت میں آزادی کی تحریک کا اعلان کر دیا۔ جو کہ ظلم و زیادتی کی بدولت ہی ایسا قدم اٹھایا گیا کیونکہ یہ رام رام کرنے والے بغل میں چھڑی ضرور رکھتے ہیں۔ اور کچھ اس وقت ایسے بھی کانگرسی تھے جو کہ رام رام کے ہی دلدادہ تھے اور آنے والے وقت سے بے خبر انکے حمایتی بنے رہے لیکن بعد میں تاریخ کے پنے بتاتے ہیں کہ انہوں نے ان کو بھی نہ بخشا تھا۔ اور کچھ ایسے بھی دوراندیش تھے جوکہ جانتے تھے کہ اب ان دو تلواروں کا ایک میان میں رہنا ناممکن ہے تو اس کے لیے اسی وقت سے تیاری شروع کردی۔ اور اللہ کی رحمت اور اس تیاری کے ثمر میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔

یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ محرکات کے پنپنے سے پہلے ہی آزادی کیلئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں یا کہ بیٹھے کسی معجزہ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اگر تو پہلے سے تیار بیٹھے ہوں گے تو آزادی آپ کے مقدر کاحصہ بن جاتی ہے ورنہ پچاس ساٹھ سال گزرنے کے بعد بھی کشمیر کے ٹکڑے کو فتح کرنا ناممکنات میں سے ہوجاتا ہے۔ محرکات کے پنپنے کے بعد بھی اگر کوشش کی جائے تو آزادی کا حصول ممکن ہے لیکن اس کیلئے انسان کو ایک جامع حکمت عملی بنانی پڑتی ہے اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے چاہے تو اس طوطے کی طرح چالاکی سے مرنے کی ایکٹنگ کر کے آزادی حاصل کر سکتا ہے یا فتح مکہ کی مثال کو سامنے رکھ کر بغیر قتل و غارت کے حاصل کر سکتا ہے یا راجہ داہر کی فوج کو شکست سے ہمکنار کر کے حاصل کر سکتا ہے یا قائد کی طرح قانونی لڑائی لڑ کر آزادی حاصل کی جاسکتی ہے یا حضرت عمر رض کی طرح فلسطین کو اپنے حسن اخلاق سے فتح کروانے کی طرح فتح پا سکتا ہے۔ صرف گلے شکوے اور زبانی تیراندازی کرنے سے آزادی نہیں مل جاتی۔ گلے شکوے سے تو ایک بہو کو ساس سے بھی آزادی میسر نہیں ہوتی اس کیلئے بھی اس کو جان جوکھوں میں ڈال کر شیر کا بال کھینچنا پڑتا ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں