ہاشم ندیم کا رائٹنگ سٹائل ۔ رفاقت حیات

 ہاشم ندیم کا رائٹنگ سٹائل

ہاشم

ناول نگار

تحریر :رفاقت حیات

میں لبنیٰ کے ساتھ ایک ریستوران میں بیٹھا تھا.اتنے میں ویٹر آئسکریم لے آیا.ہم دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے.نہ جانے انسان آنکھوں سے ہی کیوں دیکھتا ہے؟کانوں سے کیوں نہیں دیکھ سکتا.شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ کان سننے کےلیے ہوتے ہیں.آئسکریم ایک کپ میں پڑی پگھل رہی تھی.اور میرااپنا وجود بھی ایک آئسکریم کی طرح لگ رہا تھا.جو میرے سامنے بیٹھی مہ جبین کی غزال آنکھوں کی تپش سے پگھل رہا تھا.نہ جانے یہ آئسکریم کیوں پگھل جاتی ہے؟ جب پگھل جاتی ہے تب بھی وہ آئسکریم رہتی ہے.نہ اس میں آئس رہتی ہے نہ کریم نظر آتی ہے.ہم انسان بھی کاش اسی طرح کے ہوتے۔

لبنی کبھی کوئی شعر گنگنا دیتی.اور مسکرا کر رہ جاتا.اتنے میں کہیں سے طویل سفر کرکے آنے والی مکھی آئسکریم کپ پر بیٹھ گئی.اس کی بھیں بھیں لبنی کی آواز سے بہت مترنم لگ رہی تھی.مکھی نے تھوڑی سی آئسکریم چکھی.لبنی نے جھٹ سے اسے پھونک مار کے اڑا دیا.میں سوچتا رہا کہ اس بیچاری ننھی مکھی نے کتنی آئسکریم کھالی ہوگی جو اسے یوں پھونک مار کر اڑا دیا گیا؟ہم انسان بھی عجیب ہیں خود تو سو ڈیڑھ سو کی چیزیں کھاجاتے ہیں لیکن جب کوئی معمولی مکھی آنے ڈیڑھ آنے کی چیز کھا لے تو ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔

میں اسی طرح کئی سوچوں میں گم تھا مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میں نے آئسکریم شروع کی اور کب ختم ہوگئی۔ وہ تو بعد میں احساس ہوا کہ کمبخت لبنی میرے حصے کی بھی کھا گئی.وہ دیکھ تو میری طرف رہی تھی لیکن منہ باقاعدہ چلا رہی تھی.جیسے تیسے کرکے ہم وہاں سے آگئے۔ ساری رات میں سوچتا رہا کہ کبھی کبھی ہم انسان کس قدر خود غرض ہوجاتے ہیں کہ دوسرے کے حصے کی بھی آئسکریم چٹ کرجاتے ہیں۔ نہ جانے کب تک میں یہ سوچتا رہا کہ کل اس لبنی کی بچی سے اپنی آئسکریم کے پیسے نکلواؤں گا,رات بٹوہ کھولتے اور بند کرتے گزر گئی.لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ پیسے جتنے بار بھی گنو,رہیں گے اتنے ہی.
کاش کہ یہ چیزوں کے پیسے نہ دینے ہوتے.جو مرضی کھاؤ, جتنا کھاؤ , پیسے کے جھنجھٹ سےدور ہوجاؤ۔ شاید اسی کومفت خوری کہتے ہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں