کراچی والے کسی چوزے کو مُرغا نہیں بننے دیتے- مشتاق احمد یوسفی

کراچی والے کسی چوزے کو مُرغا نہیں بننے دیتے

مشتاق احمد یوسفی

مشتاق احمد یوسفی کی آب گم سے اقتباس

خان صاحب بحث کے دوران ہر بات اورہر صورتِ حال کے عموماً دو سبب بتاتے تھے، جن میں سے ایک کی حیثیت محض پخ کی ہوتی تھی-مثلاً ایک دن بشارت نے شکایت کی "کراچی کی صُبح کیسی گدلی گدلی اور مضمحل ہوتی ہے- خود سورج کو نکلنے میں آلکسی آتی ہے- صُبح اُٹھنے کو جی نہیں چاہتا-بدن ایسا دُکھتا ہے جیسے کسی باکسر نے رات بھر اس پر مشق کی ہو- میں کانپور میں مُرغ کی پہلی ہی اذان پر اس طرح اُٹھہ بیٹھتا تھا گویا کسی نے اسپرنگ لگا دیا ہو-" خان صاحب اپنی بریدہ انگشتِ شہادت ان کے گھٹنے کی طرف اُٹھاتے ہوئے بولے کہ "اس کے دو سبب ہیں- پہلا تو یہ کہ کراچی والے کسی چوزے کو مُرغا نہیں بننے دیتے-اذان دینے سے پہلے ہی اُس کا قصّہ تمام کر دیتے ہیں- دوسرا یہ کہ آپ کے اسپرنگ کو گٹھیا ہو گئی ہے- چالیس دن تک دانہ میتھی کی بھجیا کھاؤ اور بوڑھے گھٹنے پر گودر (پنگھٹ) کے پودے کا لیپ لگاؤ-

ہمارا پشتو شاعر کہہ گیا ہے کہ پنگھٹ کا ہر پودا دوا ہوتا ہے، کیوں کہ کنواریوں کے پلّو اسے چھوتے رہتے ہیں- میں تو جب بھی کراچی آتا ہوں، حیران پریشان رہتا ہوں- جس سے ملو، جس سے بولو، کراچی سے کچھ نہ کچھ گلہ ضرور رکھتا ہے- ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو اپنے شہر پر فخر کرتا ہو- اس کے دو سبب ہیں- پہلا تو یہ کہ یہاں فخر کے لائق کوئی چیز نہیں- دوسرا یہ کہ۔۔۔۔۔

دوسرا سبب بتانے کے لیے اُنھوں نے اپنی انگشتِ شہادت ابھی سُوئے فلک بلند کی ہی تھی کہ مرزا عبدالودود بیگ بیچ میں کود پڑے-

کہنے لگے "صاحب! دوسرا سبب یہ کہ مہاجر، پنجابی، سندھی، بلوچ، پٹھان---- سب اپنے رب کا فضل تلاش کرنے کے لیے یہاں آ آ کر آباد ہوئے-کڑی دھوپ پڑ رہی تھی- سب کے سروں پر کراچی نے مادرِمہربان کی طرح اپنی پھٹی پرانی چادرکا سائبان تان دیا- اُن پر بھی جو بسر کرنے کے لیے فقط ٹھیا ٹھکانہ مانگتے تھے- پھر پسرتے چلے گئے- لیکن سب شاکی، سب آزردہ خاطر، سب برہم- مہاجرہی کو لیجیے- دلّی، لکھنؤ، بمبئی، بارہ بنکی، جونا گڑھ۔ حد یہ کہ اُجاڑ جھجھنوں (جےپور- راقم الحروف کی طرف اشارہ) کو یاد کر کے آہیں بھرتا ہے-

اسے یہ احسا نہیں کہ جنھیں یاد کرکر کے وہ خود پر دائمی رقّت طاری کیے رہتا ہے وہ چھوڑا پوا شہر نہیں، بلکہ اُس کی رُوٹھی جوانی ہے جو لوٹ کر نہیں آسکتی- ارے صاحب! اصل رونا جغرافیہ کا نہیں جوانی اور بیتے سَمے کا ہے جو آبِ حیاتِ امروز میں زہر گھول دیتا ہے-پنجابی جنھیں سب سے پہلے سر سیّد احمد خان نے "زندہ دلانِ پنجاب" کا لقب دیا تھا، جنّت میں پہنچ کر بھی "لہور لہور اے" پکاریں گے- کیں ریساں شہر لہور دیاں- انھیں کراچی ذرا نہیں بھاتا- وہ سندھ کے چتی دار کیلے، چیکو اور پپیتے میں ملتان کے آم اور منٹگمری کے مالٹے کا مزہ نہ پا کر سچ مچ اُداس ہو جاتے ہیں- فرنٹیر کا گل زمان خان چوکیدار شیر شاہ کالونی کے جونگڑہ1 میں اپنے وطن کے کوہ ودشت ودریا مانگتا ہے-

کوئی نہیں جو اُٹھا لائے گھر میں صحرا کو. وہ صبح دلّی کی نہاری کھاتا ہے- سہ پہر کو سیٹھ کی کوٹھی کے ایک اوجھل کونے میں مکئی کے بے موسم پودے کو بڑے لاڈ سے پانی دیتا ہے-

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں