چاپلوس لوگوں سے محتاط رہیں

چاپلوس لوگوں سے محتاط رہیں

تحریر : رحیم بلوچ

چاپلوس لوگ

چاپلوس لوگوں سے مجھے سخت نفرت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان لوگوں کا اخلاق بناوٹی اور کاروباری ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ اس دوکان سے سودا لیتا ہوں جس کا مالک کھرا بندہ ہو۔
آج کچھ ادویات خریدنے کے لیے ایک میڈیکل اسٹور پہ گیا۔ اس کے مالک نے انتہائی خوش اخلاقی سے مصافحہ کیا۔ پرچی دیکھ کر کہا کہ دوائیں ڈھونڈنے میں دس پندرہ منٹ لگیں گے آپ اس کرسی پہ تشریف رکھیں۔ اس نے اپنی کرسی آفر کی اور اپنے شاگرد کو دواؤں کے نام کنفرم کرنے کے لیے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ شاگرد دواؤں کے نام کنفرم کر کے واپس آیا ، تمام دوائیں دستیاب تھیں مگر ایک ٹیبلیٹ نہیں مل رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس کے شاگرد نے ایک گاہک کو پیسے ہاتھ میں دینے کے بجائے اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیے تو میڈیکل والے نے اس شاگرد کو پیچھے سے ایک تھپڑ لگایا اور ساتھ میں بہن کی گالی بھی دی۔ مجھے اس حرکت پر بڑا غصہ آیا لیکن ایک کڑوا گھونٹ پی کر رہ گیا۔ شاگرد بے چارہ روہانسی ہوگیا میں نے دوسری طرف دیکھ کر ایسے ظاہر کیا گویا میں نے کچھ دیکھا ہی نہیں تاکہ اس شاگرد کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
تھوڑی دیر بعد اس بندے نے تمام دوائیاں میرے سامنے رکھیں اور کہا کہ ایک ٹیبلیٹ نہیں مل رہا۔ میں نے کہا میرا پرچی واپس دو آپ کے پاس ساری دوائیں موجود نہیں ، میں کسی اور میڈیکل سے لے لوں گا۔

اس رمضان ہمارے مسجد میں تبلیغ والے آئے ہوئے تھے اسی روز ایک بندہ چندہ لینے کے واسطے مسجد میں آیا جو ہمیشہ موٹر سائیکل پہ قرآن پاک اٹھائے آتا تھا اور یسین شریف گھروں میں بھیج کر چندہ لیتا تھا۔ اس کو روزہ نہیں تھا اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔ عصر کی نماز کے بعد تبلیغ والے امیر صاحب جب بیان سے فارغ ہوئے تو اس نے اس کی انداز بیان کی تعریف شروع کی کہ کمال کی تقریر تھی۔ حالانکہ امیر صاحب نے صرف چھ نمبر سنایا تھا۔ پھر اس نے ادھر کی باتیں شروع کیں۔ سب کو روزہ تھا ، محلے کے ایک بزرگ نے کہا کہ آپ جماعت والوں تنگ نہ کریں ان کو روزہ ہے ، آپ بیٹھک میں تشریف لائیں۔ اس بات پہ وہ بڑا مشتعل ہوا اور تھوڑی دیر پہلے تعریفوں کے پل باندھنے والا اب ہذیان بکنے لگا اور تبلیغ والوں کو منافق ، بے غیرت دین فروش قرار دیا اور اسی وقت موٹرسائیکل پہ سوار ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

ہمارے اردگرد بہت سارے ایسے لوگ رہتے ہیں جن کا اخلاق مصنوعی ہوتا ہے اور ذرا بھی ان کے مزاج کے خلاف بات ہو تو وہ اپنی اوقات پہ اتر آتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی بلا وجہ شرافت اور اخلاق مظاہرہ کرے تو اس سے محتاط رہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں