میلے کپڑے

میلے کپڑے

تحریر : محمد ارسلان چشتی

طنز و نزا

محمد ارسلان چشتی

جن گھروں میں 6 سے زائد لڑکے اور 4 سے زائد بھابھیاں ہوں وہاں اکثر گھر کے کام کاج کا معمہ رہتا ہی رہتا ہے، اور ساس بھی ایسی ہو جیسے اللہ میاں کی گائے تو بھابھیوں کے مزے اور مزے بھی ایسے کے جیسے دودھ ملائی کا کاروبار،صبح اُسی وقت پے اُٹھنا جب خدا کے گناہگار بندے اپنی خوابگاہوں سے بیدار ہوتے ہیں مطلب صبح کے 12 بجے معاف کرنا صبح کے 12 تو اُن کےلئے ہیں جو بیدار ہی 12 بجے ہوتے ہیں۔

ساس کنوارے لڑکوں کےلئے ناشتہ صبح کی ازان ہوتے ہی بنادیتی اور لڑکے بالےماں کی دعا لیےاپنے اپنےکام کاج پے چلے جاتے۔ رہ گئی بھابھیاں تو اُن کے ذمےناشتے کے برتن ہوتے اور وہ بھی بار ی باری۔جیسے بڑی والی آج برتن نہیں دھوئے گی وہ فرش دھوئےگی۔ اوردوسری بھابھی شام کا سالن بنائےگی تیسری روٹیاں بنائےگی چوھتی پھر شام کے برتن دھوئے گی۔بھابھیاں اپنے اپنے کمرے کے کونے کونے میں اُنگیاں مار مار کے مٹی صاف کرتیں اورباقی گھر کی کی مٹی زینے سے ایسے اُتارتیں جیسے سر سے بوجھ،کپڑے سُکھانے کےلئے بھی ساری بھابھیوں نے اپنا اپنا وقت مقرر کر رکھا ہوتا، اور کپڑوں کو گرنے سے بچانےکےلئے چمٹی بھی سب کی الگ الگ ہوتی۔ بڑی بھابھی کی چمٹی کا رنگ پیلا دوسری بھابھی کی چمٹی کا رنگ نیلا اور ایسے ہی مخلتف رنگ آپس میں بانٹ رکھے ہوتے، یہاں تک کہ بالٹی، لوٹا اور مگّے کا رنگ بھی جدا جدا ہوتا۔ساری بھابھیاں اپنے اپنے شوہر بچوں ے کپڑے گھر کی چھت پے مقررہ تین رسیئوں پہ سکھاتیں کپڑے زیادہ ہوتے تو باقی کپڑے دیواروں کی زینت بنتے اور اگر کسی کا ایک کپڑا کسی اور کے پاس چلا جاتا تو اُس کے دروازے پے جاتی اور کہتی (آئی بہن تم میرے شوہر کا بنیان لے آئیں اپنے شوہر کا سمجھ کے) ، پھر اس پے بھس ہوتی کے میں نہیں لائی ، نیچے والی لائی ہوگی ، یا نیچے والی نہیں تو پہچے والی۔

اب باری ہےاُن کپڑوں کی جو کنوارے لڑکوں کے ہیں۔ان کے کپڑے سوائے ماں کے کوئی نہیں دھوتا۔ ایک تو یہ کے یہ کپڑے میلے بہت ہوتے ہیں اور پھر کسی بھابھی کو اپنے کاموں سے فرصت کہاں،کا م کر کر کے روز کوئی نا کوئی لازمی ڈاکٹر کے جاتی نزلہ ،بخار تو موسم کی وجہ سے ہے اور ایک دن ملتا ہے جمعہ کا توسوچھتی ہیں کہ ماں کے گھر ہوآئیں۔الغرض ہزار وجوہات کے بعد یہ میلے کپڑے ماں کوہی دھونے پڑھتے ہیں۔ اور یہ کپڑے رسیئوں پے کم زمین پے زیادہ سوکھتے ہیں کیوں کے انکی دیکھ بھالی کی زمیداری بھی ماں کی ہوتی۔بھابھیوں کے لاکھ اصرار پر بھی یہ کپڑے ماں ہی خود دھوتی اگر ایک کےذمے لگا دیا جائے تو ایسے میلے کپڑے کون دھوئے اور اگر اُپر والی نے ہی دوھنے ہیں تو نیچے والی کیوں نہیں؟ نیچے والی کہے درمیاں والی اچھی دھوتی ہےدرمیان والی کہے میں ہی ملی؟ پہچے والی پورا دن کمرے میں سُستاتی رہتی ہے۔
تو ساری باتوں سے طے یہ پایا کہ اب تو گھر میں ایک اور بہو آئے اُسی کے بعد کی گھر میں بونس آئے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں