مرحوم دانت از رفاقت حیات

مرحوم دانت

تحریر:رفاقت حیات

دانت مضمون

مرحوم دانت

دانتوں کا داغ مفارقت دینا بڑھاپے کی اولین نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے.ابھی عمر عزیز کے بیس سال اور چند ماہ گزرےہی چاہتے ہیں کہ ایک ادب و آداب سے نابلد آوارہ قسم کا کیڑا دانتوں پر حملہ آور ہوجاتا ہے.اس قدر بے تکلفی سے ہر دانت کے کونے کونے پر وزٹ کرتا رہتا ہے جیسے اس کے جد امجد کی ذاتی جائیداد ہو.
ہم نے ہزار ہاقسم کے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرلیے.مسواک بھی نہیں چھوڑی.لیکن یہ ستم ظریف اس قدر پختہ قسم کا ڈھیٹ ثابت ہوا جس قدر کوئی وزیر ہوتا ہے.وزیر کسی بھی قیمت پر کرسی چھوڑنا نہیں چاہتا اور نہ یہ کمبخت کلموہاقسم کا کیڑا میرے دانت چھوڑنے کو تیار ہے.میں نے لاکھ بہکایا کہ

"بھائی صاحب! کولگیٹ کی عزت کا واسطہ,دس میں سے نو ڈاکٹر تک اسے تجویز کرتے ہیں,اب ان بیچاروں کی ایم بی بی ایس کی ڈگریوں کا ہی واسطہ,یہاں سے چلے چلو"لیکن مجال ہے محترم ٹس سے مس بھی ہوئے ہوں.آخر ہم نے بھی ضدی طبیعت پائی ہے.چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ موصوف اب صرف تین دانتوں پر ڈیرہ جمائے رکھتے ہیں.دو پر ابھی رنگ و روغن شروع کرتے ہیں.کہ ہم ادھر سے برش اور ٹوتھ پیسٹ لےکر اس کی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں.اور "آخ تُھو"کرکے دوبارہ کلی کیے دیتے ہیں.'سیر کو سوا سیر' کہ تیسرا دانت اس کے غیض و غضب اور عتاب کا شکار ہو ہی گیا.ہم نے بہتیرے بچایا.لیکن وہ کیا ہے کہ "جس نے ٹوٹنا ہے وہ ٹوٹ کے ہی رہے گا." چنانچہ اس تیسرے کا موصوف نے قلع قمع کردیا ہے.اب ہمارے منہ میں بتیسی نہیں بلکہ اکتیسیویں چل رہی ہے.

والد صاحب کی بابت یہ بات علم میں آئی کہ آپ اب دس سال کے بچے نہیں رہے.لہذا نیا دانت اگنے سے رہا. اب چاروناچار اس بتیسویں دانت کی ممی تیار کراکے اس کے جائے مقام پر دفن کرانا پڑے گی.
تاکہ دورانِ لاف زنی کسی کو کھڑکی کھلی ہوئی نہ ملے کہ یہ حسن بے پایاں پر گراں گزرے گا.

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں