لیاری نے بھٹو کو مار دیا

لیاری نے بھٹو کو مار دیا

ووٹ کو عزت دو

لیاری

تحریر : ذوالفقار علی زلفی

دس سال تک "بھٹو" نے امن کمیٹی مسلط کی ـ گھر نذرِ آتش ہوئے، تھوک کے حساب سے لاشیں گریں، منشیات کے اڈے اگتے رہے، علم، ادب، سیاست و ثقافت کا جنازہ نکلا ـــــ ہر گلی میں ایک بندوق بردار خدا فروکش تھا ـ کسی نے نظر اٹھا کر دیکھا، اس پر گولی چلی ـ کسی نے سفید کاٹن پہنا تو شامت آئی ـ ماں بہنوں کی لاشیں مارکیٹوں میں گریں ـ زندگی سسک کر موت کی بھیک مانگتی رہی ـ "بھٹو" زندہ تھا ـ کون سا ایسا گھر ہے جہاں "بھٹو" کے خونی پنجوں کے نشان نہیں ـ

پیپلزپارٹی کے وزیر رفیق انجینئر نے طنزاً کہا "ایک ہزار روپے دو لیاری کے بھوکے ننگے ہمیں ووٹ دے دیں گے" ـ

نبیل گبول کا مقولہ تھا "لیاری میں کتا بھی تیر کے نشان پر جیت جائے گا" ـ

ہم نے لیاری کو جلتے دیکھا اور اس آگ پر "بھٹو" کو ہاتھ سینکتے پایا ـ میرے والد جنہوں نے بھٹو کے لئے ترانے لکھے، بھٹو کے غنڈوں نے ان کی بزرگی و وابستگی کو ایک طرف رکھ کر انہیں بے عزت کیا ـ

آج لیاری نے بھٹو کے بت کو پاش پاش کردیا ــــ عمران خان سے مجھے ہمدردی نہیں مگر شکور شاد کے لئے ڈھیر سارا پیار ــــــ لالا ناصر کریم سے اظہارِ محبت ــــ

ہم عزیروں اور رحمانوں میں سے کب تھے ـ ہم تو صبا دشتیاری، بیگ محمد بیگل، استاد ستار بلوچ، عمر بلوچ، خیر محمد ندوی اور سید ظہور شاہ ہاشمی کے قبیلے کے ارکان ہیں ـــ بھٹو نے ہم سے ہماری شاندار ثقافت چھین لی ـ شکریہ لالا شکور ـــ شکریہ لالا ناصر ـــــ

ہم بھوکے ننگے بکاؤ نہیں ــــ ہم کتا ایک طرف آپ کے چیئرمین کو بھی خاک چٹوا سکتے ہیں ــــ

لیاری کو "بھٹو" کی موت مبارک ہو ـ فرعون دریا برد ہوا ـ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں