فیس بک کے چند تجربات

فیس بک کے چند تجربات

تحریر: رفاقت حیات 

فیس بک کے

فیس بک

شروع شروع میں آپ گھٹیا سے گھٹیا کمنٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے کیونکہ آپ خود کو محفوظ تصور کررہے ہوتے ہیں۔
دو سالوں بعد آپ پر یہ عقدہ کھلتا ہے کہ جو لائک کمنٹ آپ کرتے ہیں ان کا دوسروں کو بھی پتہ چل رہا ہوتا ہے۔ سو آپ دھڑا دھڑ اسلامی پوسٹوں کو پروٹوکول کے ساتھ اپنی وال پر شیئر کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایک سال بعد آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آدھے سے زیادہ اسلامی مواد فیس بک پر خود ساختہ ہے۔
اپنے علاقے کے لوگوں کو فیس بک پر دیکھ کر آپ حیران اور خوش ہوتے ہیں کہ "ہا! اس وی آئی ڈی بنائی ہوئی اے" لیکن آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب آپ نے بنائی ہوئی ہے تو اسے نہ بنانے میں کیا حرج ہورہی ہوگی؟

ابتداء میں آپ محض پروفائل پکچر دیکھ کر ریکوایسٹ بھیج رہے ہوتے ہیں لیکن بعد میں آپ کو پتا چلتا ہے کہ وہ کوئی جعلی آئی ڈی تھی۔ آپ حیران ہونے لگتے ہیں کہ "ہائے اللہ ایسے دھوکے باز بھی ہوتے ہیں" اور دھوکہ دہی کے متعلق تمام اقوال زریں آپ کے ذہن میں گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔

چند سال بعد آپ کو بھی فیک آئی ڈی بنانے کا خبط سوار ہوچکا ہوتا ہے اور جہاں "اہلِ ذوق" حضرات کی ریکوایسٹس دیکھ دیکھ کر آپ خوش ہورہے ہوتے ہیں وہیں پندرہ سو "سٹائلس منڈے ورسز نخریلی کڑیاں" جیسے گروپس میں ایڈے جانے پر منہ بسورنے لگ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی تو ہوتے ہیں۔
اب اتنے زیادہ گروپ دیکھ کر آپ بھی گروپ بنالیتے ہیں۔ اور زندگی میں ہر گروپ بنانے والا یہ ضرور کہتا ہے کہ "یہ آپ کا اپنا گروپ ہے,جو مرضی کریں " یہ منافقت آپ نے اس لیے دکھانی ہوتی ہے تاکہ لوگ زیادہ پوسٹیں کریں اور ممبر کے تعدد کو بڑھاوا دیا جاسکے۔

کئی سال بعد آپ کو اس بات کا ادراک ہونے لگتا ہے کہ فیس بک وقت کا ضیاع ہے لہذا اسے چھوڑ دینا چاہیے لیکن ایک دن چھوڑ کر آپ پھر سے واپس فیس بک پر آجاتے ہیں۔ اس کے بعد آپ اس سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔
پانچ سال بعد لوگ آپ کو ریکوایسٹس بھیجنے لگ جاتے ہیں جو پانچ سال پہلے آپ نے لایک اور کمنٹس کا بیج بویا تھا اس کا ثمر کاٹنے کا وقت اب آچکا ہوتا ہے لیکن آپ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ لوگ آپ کی دانشوری سے متاثر ہیں جبکہ وہ آپ کو محض ایک پنج وقتہ "لائیکیا اور کمنٹیا" سمجھ کر ایڈ کررہے ہوتے ہیں تاکہ آپ ان کی وال کو وزٹ کرتے رہیں اور ان کے لائیکس کو بڑھانے کا سامان پیدا کرسکیں۔

مسلسل پیکج لگا لگا کر آپ کی تینوں جیبیں جواب دے جاتی ہیں کہ اب بس,اب مزید سبزی کے پیسوں میں کرپشن نہیں کی جاسکتی
لہذا آپ ایک بار پھر پیکج لگا کر فری نیٹ کا طریقہ ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔ سارا دن یوٹیوب پر اس جھوٹے کیپشن پر اپنا پیکج ضائع کردیتے ہیں کہ "ساری زندگی کےلیے فری انٹرنیٹ" لیکن وہ فری نہیں ہوتا اور یوٹیوب والے اپنے ویوز بڑھا کر آپ کو وہیں چھوڑ دیتے ہیں جہاں آپ کھڑےتھے یعنی فری نیٹ کی ٹرِک نہیں ملتی۔ پھر آپ زونگ اور ٹیلی نار جیسی سم لےکر تصاویر اور ویڈیوز سے پاک فیس بک چلانے لگتے ہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں