عید شاعری ۔ عید کے موضوع پہ چند اشعار

عید شاعری ۔ عید کے موضوع پہ چند اشعار

عید اشعار

عید شاعری

‏حسرت ہے تمہاری دید کریں
تم آؤ تو ہم بھی عید کریں
کچھ روز تو دل کو چین ملے
کچھ روز تو من کا پھول کھلے
کہتے ہیں عید کی آمد ہے
ہم لوگ بھی یہ تائید کریں
تم آؤ تو ہم بھی عید کریں

وہ تو بڑے لوگ تھے صاحب
بھلا چھوٹی عید پر کیسے آتے

کبه‍ﯽ عید ﻣﻨﺎیا ﮐﺭتے تھے
ﺍﺏ عید ﮔﺯﺍﺭﺍ‌ کرتے ﮨﯿﮟ

ہوگی امیرِ شہر کی عید
مفلس کــی کـیسـی عید

جسکا ہوگا تن پوشاک سے خالی
بھلا اس کی ہوگی کیسی عید
کل دیکھا اک غریب کو کہتے
بولا جناب ہماری کیسی عید

ہر فرہادؔ بھی اب تو یہی کہتا پھرتا ہے
بن دیدار کے ہوگی مری کیسی عید

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

حسرت دید رہی جاتی ہے
میری امید رہی جاتی ہے
ان کو انکار ہے گلے ملنے سے
اور میری عید رہی جاتی ہے

اس آس پہ رکھا دن بھر در کھلا
شاید کوئی آ کے کہے عید مبارک

حالانکہ بہت خاص ہوتی ہیں
مگر اب عیدیں اداس ہوتی ہیں

جانے کیا ڈھونڈتے رہتے ہیں چارہ گر مجھ میں
میرے پہلو میں تیرے غم کے سوا کچھ بھی نہیں
عید کا بھرم رکھا پہن کر نئے کپڑے
ورنہ دل میں تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں

‏کپڑوں کی دوکان سے دور چند سکوں کو گنتے گنتے
میں نے اک غریب کی آنکھوں میں عید کو مرتے دیکها

‏میرے آنگن میں دبے پاؤں نئے روگ لیے
‏سال کے سال کوئی عید چلی آتی ہے

 دن عید کے جب قریب دیکھے
میں اکثر اداس غریب دیکھے

دستور ہے دنیا کا مگر یہ تو بتاؤ
ہم کس سے ملیں کس کو کہیں عید مبارک
مل لیں گے ہم اپنے ہی گلے ڈال کے بانہیں
اے بهولے ہوئے شخص تجهے عید مبارک‎

آو مل کر مانگیں دعائیں ہم عید کے دن
باقی رہے نہ کوئی بھی غم عید کے دن
ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اُترے
اور چمکتا رہے ہر آنگن عید کے

اپنا تو کسی طور سے کٹ جاۓ گا یہ دن
تم جس سے ملو آج اُسے عید مبارک

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے

عنبر کہے خوشبو سے اَذاں ، عید مبارَک
عید آ گئی اے جانِ جہاں ، عید مبارَک

یاقوت لبوں پر ترے قربان شگوفے
چندا ترے ہنسنے کا نشاں ، عید مبارَک

دیدار جنہیں تیرا ملے اُن کو بھی تبریک
جو تجھ کو جہاں دیکھے ، وَہاں عید مبارَک

ملنے کو تجھے صف میں کھڑے ہوں سرِ دَربار
ملکائیں ، شہنشاہِ زَماں ، عید مبارَک

بوسوں کی ترے رُخ کے ملے تتلی کو عیدی
ہر سمت ہو خوشیوں کا سماں ، عید مبارَک

اَللہ مری ساری خوشی بھیج دے تجھ کو
غم بھیجے ترے سارے یہاں ، عید مبارَک

راتیں تری تاباں رہیں ، دِن نورِ دَرخشاں
خوشبو ہو تری اور جواں ، عید مبارَک

کشمش ہو دَہَن میں تو لب اَنگور کو چومیں
منہ میٹھا ہو ، نمکین زَباں ، عید مبارَک

ہر پل ترا عشرت کدے میں شان سے گزرے
غنچوں سا ہنسے ، غنچہ دَہاں ، عید مبارَک

وُہ جوڑیں گے ہر شعر کے کب پہلے حرف کو!
کر دیتے ہیں قیس اِن میں نہاں عید مبارَک

آتے جاتے ہوئے ہر شخص سے پوچھوں تیرا
تجھ کو دیکھے جو اُسے عید مبارک کہہ دوں
-
یارِ من تُو جو ملے سوچ کی ہر حد سے پرے
لگ کے اک بار گَلے عید مبارک کہہ دوں
-
اور کچھ دیر ابهی مجھ میں ذرا سانس تو لے
زندگی ٹھہر !اُسے عید مبارک کہہ دوں
-
دشمنِ جاں ہی سہی مگر آج کے دن
دل یہ چاہے کہ تجھے عید مبارک کہہ دوں

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں