عام انتخابات ووٹ اور فوجی

 عام انتخابات ٢٠١٨ء

 

ووٹ

عام انتخابات

تحریر: ناصر خان

کام سے واپس آیا تو سوچا قومی فریضہ بھی سر انجام دیا جائے - لیکن اماں جان کے کہنے پر پہلے دوپہر کے کھانے کو ترجیح دیا - "کھانے میں پکا کیا ہے؟" یہ پوچھنے پر جواب ملا کہ آج بابا جان کے اصرار پر کدو شریف پکایا ہے، دل سے ایک زوردار "آہ " نکلی لیکن کسی پر ظاہر نا ہونے دی اور ہلکی سی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے میٹھی لسی کے ساتھ لنچ کرنے کا اپیل دائر کیا جو کہ والدہ کے عدالت میں بھری ثابت ہوا اور اس طرح میٹھی لسی کے ساتھ ڈیڑھ روٹی کھاکر رب کریم کا شکریہ ادا کرکے بڑے بھائی سے ووٹ کا طریقہ کار معلوم کیا لیکن پھر بھی معاملہ مثلا فیثا غورث والا تھا ملب کہ کچھ بھی سمجھ نہیں آیا -

خیر مسجد کا رخ کیا اور ظہر کی نماز ادا کرکے محلے کے ایک قاری صیب کے ہمراہ الاُمہ اکیڈمی کی طرف چل پڑا (کیوں کہ ہمارے ووٹ اسی اسکول میں تھے) - جیسے ہی اسکول کی مین گلی میں پہنچا تو فیسبکی دوست کاشف کے ساتھ ملاقات ہوا (چونکہ کاشف اور میں رہتے تو ایک ہی علاقے میں ہیں لیکن سوشل میڈیا کے علاوہ ان سے روزمرہ زندگی میں یہ ہماری پہلی ملاقات تھی اور وہ بھی نیتاؤں کے دنگل والے منچ پر- ) علیک سلیک کے بعد کاشف بھائی کے پوچھنے پر کہ "ووٹ دینے آئیں ہیں؟ " ناچیز نے اثبات میں سر ہلایا اور خود کو انجان سا پیش کرتے ہوئے اُن سے مکمل طریقہ کار معلوم کیا اللہ بھلا کرے کاشف بھائی کا جنہوں نے پل بھر میں ہمارا سلسلہ نمبر بلاک کوڈ مطلب مکمل انفارمیشن نکال کر اپنے شبھ ہاتھوں سے پرچی ہمیں تھما دی اور اسکے بعد کرنا کیا ہے یہ بھی اِنہی کے بدولت معلوم ہوا - پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے سے پہلے سیاہ شرٹ اور خاکی پتلون پہنے ایک ادھیڑ عمر کے PC نے ہماری تلاشی لیاور آگے جاکر ایک قطار میں کھڑا ہونے کو کہا -

ایک رینجر باوا (جسے ہم پہلے آرمی والا سمجھ رہے تھے) نے سیدھی قطار بنانے کی تلقین کی جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے قریب دس پندرہ منٹ بعد ہمیں پولنگ اسٹیشن والے مرکز میں داخل ہونے کی اجازت ملی - جیسے ہی اندر گئے سامنے کرسیوں پر چند عدد دوشیزاؤں کو دیکھ کر دل میں پٹاخہ پھوٹا جو کہ لکھنے لکھانے کی سرگرمیوں میں مصروف تھیں اور گستاخی معاف مشرقی خواتین تو میت کی فاتحہ خوانی پر جاتے ہوئے بھی کم از کم دنداسے سے اپنے ہونٹ لال نا کر دے تو انہیں سکون نہیں ملتا یہ تو پھر بھی پولنگ اسٹیشن تھا اور سامنے پہرا دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ فوجی بھائی تھے جس پر کم از کم عام خواتین نا سہی فیسبکی خواتین تو مر مٹتی ہے - لیکن جن فوجیوں کا ذکر ہم بقول فیسبکی دوشیزاؤں کے سنتے آرہے وہ دعوے تو آج دھرے کے دھرے رہ گئے - ملب ایسا خوبرو جوان تو چاروں اوور مُنڈی گھمانے پر بھی ہمیں دکھائی نا دیا جو کہ قابل تعریف ہو - ایک سے ایک پتلا اور ڈھانچہ مانند ژواک ہر ایک کھونے میں کھڑے ہو کر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا جن میں سے بہت سوں کا سروس 15 16 سال کے قریب لگ رہا تھا ملب سارے ادھیڑ عمر کے 😏اور اگر کوئی نوجوان ملتا بھی تو اسکی شکل ایسی ہی تھی جیسے حاملہ عورت کا بچہ جننے کے بعد ہوتی ہے-

خیر زیادہ کچھ نہیں کہوں گا کہیں ایسا نا ہو جذباتی عوام ہم پر دیش دروہی ہونے کا آروپ نا لگائے -
تو قارئین ایک فوجی بھائی نے ہمیں اشارے سے مرد حضرات والے ایک چھوٹے سے کمرے میں جانے کو کہا - ہم نے ایک نظر خواتین والی کرسیوں پر ماری اور دل ہی دل میں"فٹے منہ" کے شبد ادا کرتے ہوئے مرد حضرات کے کمرے میں جا پہنچے جہاں بہت سارے مرد حضرات ایک چھوٹے اور پھرتیلے سے کلرک کو نیچے گھیرے ہوئے اس کے سر پر کھڑے تھے اور ہر کوئی جلدی کرنے کی کوشش میں مگن اپنا شناختی کارڈ اس کلرک بابو کو زبردستی ہاتھ میں تھما رہا تھا جس سے وہ تھوڑے سے دلبرداشتہ اور نیروَس لگ رہے تھے - خیر ہم نے بھی اُنہیں اپنا شناختی کارڈ تھمایا اور انہیں جلدی کرنے کی تاکید کی - انہوں نے بھی پھرتی دکھاتے ہوئے ہمیں آگے والے بینچ پر پاس کردیا جہاں ہمارے اسکول کے زمانے کے ریاضی اور معاشرتی علوم کے استاد صاحب تشریف فرما تھے جو کہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے - انہوں نے اپنے دوسرے پارٹنر سے ہمارا تعارف کروایا کہ یہ میرے شاگرد ہیں اور ریاضی کے نالائق ترین طالبعلم بھی اور مزید کہا کہ اِنہیں جلد فارغ کرکے باقیوں کو بعد میں دیکھ لینا (یہاں بھی سفارش کام آگئی-😉) ہم نے جلدی جلدی دونوں بلیٹ پیپرز پر انگوٹھا لگایا اور ایک کھونے میں جاکر "چناؤ بوتھ" میں سب سے پہلا نظر انتخابی نشان پتنگ پر پڑا اور دماغ میں "بھائی😍" کے زمانے کا وہ منظر play ہوا جب بھائی لندن سے ایک فون کال پر پوری کراچی کو بند کردیتا اور اس طرح ہمیں اسکول سے مفت کی ایک دن کی چھٹی نصیب ہوجاتی جو کہ پورا دن محلے سے چند کوسوں دور ایک بڑے میدان اسٹار گراونڈ میں گزر جاتی- 😂😂
خیر چھوڑیئے ماضی کو آؤ حال میں جئیں😏
ہاں جی تو خود کو ماضی کے حسیں یادوں کے خواب سے بیدار کیا اور پتنگ کو فٹے منہ کہہ کر اپنے پسندیدہ دو امیدواروں پر ٹھپہ لگایا اور کاشف بھائی کی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وڈا ووٹ ہرے ڈبے میں جبکہ نکا ووٹ سفید ڈبے میں بند کیا اور سکون کا سانس لیتے ہوئے گھر کی راہ لی، مگر جیب میں ہاتھ ڈالا تو دیکھتا کیا ہوں کہ قومی شناختی کارڈ غائب - - - - اے خدا اب کیا ہوگا؟
لگتا ہے ووٹ دینا مہنگا پڑھ گیا- یا بھائی کو ووٹ نا دے کر اس گناہ کی سزا بھگت رہا ہوں - 😢😢
خیر دماغ پر زور ڈالا اور چند لمحے پہلے گزرے ہوئے ماضی کے فلم کو سلو موشن میں پلے کرتے ہوئے یاد آیا کہ اپنا شناختی کارڈ تو سر جی کے پاس ہے - جو کہ میری جلد بازی کی وجہ سے اُنہی کے پاس رہ گیا تھا - خیر دل بڑا کرتے ہوئے سر جی سے اپنے شناختی کارڈ کی وصولی کا اصرار کیا - سر جی نے ہم پر ایک نظر ڈالی اور زوردار قہقہہے لگاتے ہوئے کہنے لگے "اب آیا شکار پنجے کے نیچے" ہاں بول بیٹا! اب جرمانے میں کیا دوگے؟
ہم نے جواباََ کہا جو آپ کی چاہ - لیکن اگ - - - - - - - رر - - -
سر جی نے ہماری بات کاٹتے ہوئے مزید کہا چلو کم از کم ایک جمبو پیپسی تو لا ہی دوگے نا؟ وعدہ کرو - لیکن وعدہ مسلمانوں والا یا پٹھانوں والا؟

ہم نے پٹھانوں والے عہد کا اقرار کرتے ہوئے اور اپنی کہی گئی ادھوری بات کو پورا کرتے ہوئے کہا "بشرطیکہ ہمیں دوبارہ اندر آنے دیا جائے تو" اور
اپنا شناختی کارڈ وصول کیا - واپسی میں کمرے سے باہر آکر خواتین کلرک کے جھنڈ پر ایک آخری نظر ڈال کر سیڑھیاں اترتے ہوئے ماتھے کا پسینہ پونچھا - باہر آیا تو کاشف بھائی کو وہی پایا، انہوں نے بھائی بندگی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنے ساتھ رکنے اور کچھ ٹھنڈا گرم لینے کا اصرار کیا لیکن وقت کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے انکا سپاس ھا ادا کیا - واپسی پر راستے میں ماسٹر صاحب سے کئے گئے اپنے پٹھانی عہد کے بابت سوچا اور اس کے تھوڑنے پر حیف کا اظہارِ کرتے ہوئے گھر کی راہ لی -

اب سوچتا ہوں کسی روز اپنے اسکول جاکر ماسٹر صاحب سے معذرت کروں گا اور اپنے پٹھانی عہد کو پورا کرتے ہوئے بمع جرمانے کے کچھ سموسے اور بسکٹ بھی ساتھ لے جاکر اس روز کے رش اور سرکار کی طرف سے پولنگ اسٹیشن پر سخت نظم و ضبط کی وجہ سے واپس اندر نا جانے کا مسئلہ بیان کروں گا -

تحریر: ناصر خان
از: عام چناؤ (انتخابات) ٢٠١٨ء
مورخہ: ٢٥ جولائی سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی بمطابق ١٢ ذی قعد ١٤٣٩ ہجری بروز چہار شنبہ بعد نماز عشاء

 

#Elections2018

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں