سیاست دان یا منافق دان ۔ طاہر اکرم

سیاست دان نہیں منافق دان

 

عام انتخاب

سیاست دان

طاہر اکرم

عام انتخابات میں محض دو ہفتے رہ گئے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں کچھ پابندیاں بھی لگا دی گئی ہیں جیسا کہ کار ریلی، یا بل بورڈ وغیرہ نہیں لگائے جاسکتے۔ سیاسی رہنمائوں نے اس کا متبادل ڈھونڈ نکالا اور اپنے اپنے حلقوں میں مختلف اور نئے طریقوں سے الیکشن مہم کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔ وہی لیڈر جو آج سے چند ماہ پہلے لینڈ کروزر پر گھومتے تھے ساتھ میں محافظ بھی ہوتے تھے راہ چلتے ہوئے لوگوں کو وارن کرتے ہوئے، سائرن بجاتے، چیختے چلاتے جارہے ہوتے تھے تو آج کوئی موٹر سائیکل پر ڈرامہ بازی کر رہا ہے تو رکشہ چلا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف ہے۔

پی پی کے خورشید شاہ بھی الیکشن مہم کیلئے موٹر سائیکل لیکر عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے نکلے۔ پی پی ٹی آئی رہنما عارف علوی جو کہ گزشتہ انتخابات میں این اے250سے کامیاب ہوئے تھے انہوں نے بھی کوئی کارکردگی نہ دکھائی لیکن اس بار وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور لوگوں کا دل جیتنے کے لئے انہوں نے رکشہ بھی چلایا۔ جنہوں نے کبھی موٹر سائیکل یا رکشا کی سواری کا سوچا بھی نہیں تھا اب وہ سیدھی سادھی عوام کو الو بنانے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں بھی ایک صاحب الیکشن مہم کیلئے گدھا گاڑی پر نکلے لیکن مزے کی بات تو یہ ہے کہ گدھا گاڑی کے پیچھے پیچھے لینڈ کروزر بھی چل رہی تھی تاکہ جیسے ہی مہم کا خاتمہ ہو تو وہ صاحب2کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے محل کی جانب چلے جائیں۔ الیکشن کے دنوں میں انکا ظاہر باطن سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں عوام کے قریب نہ پھٹکنے والے ووٹ کی خاطر کیا کیا ڈرامے رچاتے ہیں۔ ان عوامی لیڈروں کے اعمال میں واضح طور پر منافقت دیکھی جاسکتی ہے۔ بقول شاعر شہر بیداد میں حب الوطنی
اک منافق کی وفا ہو جیسے

پی پی رہنما جنہوں نے اپنے دور حکومت میں شاید ہی ایک سال اس ملک میں گزارا ہو وہ بھی باپ بیٹا اب کراچی سے کشمور تک پہنچ رہے ہیں۔ عوام کو وہ بوسیدہ اور پرانے نعروں کے ساتھ گھیرا جارہاہے۔ پی پی رہنمائوں نے اپنے منشور میں بھوک مٹائو پروگرام، کسان کارڈ اور نہ جانے کیا کیا جھوٹے جملے رٹ لئے ہیں

جو کہ پہلے بھی بار بار دھرائے جاتے رہے لیکن عمل کسی ایک پر بھی نہ ہوسکا ہاں البتہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت5000ہزار فی خاندان کو لالی پاپ دیا جارہا ہے۔ آزاد امیدوار بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ کراچی کے تاجر ایاز میمن موتی والا آزاد امیدوار کی حیثیت سے این اے243، پی ایس110اور پی ایس111سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بھی لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کیلئے گندے پانی میں لیٹ کر، گٹر کے پانی سے منہ دھوتے ہوئے تصاویر بنائیں جنہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا گیا یہ سب سے انوکھا طریقہ دیکھنے میں آیا کہ کوئی شخص ووٹ کیلئے اس حد تک بھی جا سکتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ووٹرز کو دل جیت لیا جائے۔ عوام کا دل جیتنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، گزشتہ الیکشن میں منتخب ہونے والے لیڈر اگر اپنے اپنے حلقوں میں عوامی مسائل کا تدارک کرتے تو یقیناََ اس الیکشن میں انکو ایسے ذلیل و رسوا ہونے کی ضرورت نہ پڑتی۔

گزشتہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے زیادہ تر ایم این اے، ایم پی اے ایسے ہیں جنہوں نے منتخب ہونے کے بعد کبھی اپنے حلقے کی شکل نہیں دیکھی۔
عوام بھی باشعور ہوتی جارہی ہے کیونکہ اس بار متعدد واقعات ایسے دیکھنے کو ملے جس سے ملک کے سمجھدار طبقے کو تسکین ملی، مثلاََ فاروق ستار جب الیکشن مہم کیلئے میمن مسجد پہنچے تو وہاں پر شہری نے سوال اٹھایا کیا آپ نے35سال میں ہمارے لئے کیا کیا؟َ خورشید شاہ، مراد علی شاہ، آصفہ بھٹو و دیگر کو بھی کچھ ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال سے لوگوں میں اجاگر ہوتا ہوا شعور نظر آرہا ہے۔ الیکشن2018ئ میں عوام کو ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ یہ الیکشن ملکی معاشی و سماجی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اگر اس دفعہ بھی وہی چور اچکے دوبارہ منتخب ہو گئے تو اگلے5سال میں اس ملک کا مزید بیڑا غرق ہو جائیگا جسکے ذمہ دار عوام یعنی ووٹرز ہونگے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں