سائیں قائم علی شاہ المعروف بھنگ والی سرکار

سائیں قائم علی شاہ المعروف بھنگ والی  سرکار

تحریر : ناہید اختر بلوچ۔ ڈیرہ اسماعیل خان

طنز و مزاح

قائم علی شاہ

قائم علی شاہ المعروف بھنگ والی سرکار ایک ایسی نابغہ روزگار اور تاریخی ہستی کہ جن کی تاریخ میں مثال ملنا مشکل ہے ۔۔۔بس یوں سمجھ لیں کہ وہ نرگس جو ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی رہی وہ آج تک سائیں جیسے ندیدہ ور کو دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر ہنس رہی ہے ۔
یوں تو تاریخ نے ہر بندے کے مرنے اور جینے کا حساب کسی خدائی فوجدار کی طرح خواہ مخواہ اپنے ذمے لیا ہوا ہے مگر سائیں کی تاریخ پیدائش کے بارے میں تاریخ بھی آج تک چپ ہے ۔۔۔یوں لگتا ہے کہ تاریخ بھی سائیں کی طرح اس زمانے میں بھنگ سے شغف رکھتی تھی ورنہ اتنے اہم زمانے کے بارے میں اس کی خاموشی چہ معنی دارد ؟؟

صدیوں سے سینہ بہ سینہ جو روایات چلی آ رہی ہیں ان میں کچھ بھولے لوگ انہیں فرعون کے زمانے کا کہہ دیتے ہیں مگر آثار بتاتے ہیں کہ فرعون کا زمانہ تو ابھی کل کی بات ہے یہ موصوف تو فرعون کی ممی کے پڑدادا کے زمانے سے بھی پہلے کی دریافت ہیں ۔
غالب گمان تو یہی ہے کہ جب انسان نیا نیا دنیا میں تشریف لایا تھا تو یہ پتوں کی چڈھی پہن کر بن مانسوں کی لڑکیوں کو چھیڑا کرتے تھے ۔۔۔بعض روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ جس دور میں انسان پتے کھا کر جیتے تھے یہ اس دور میں پتے پی کر سوئے رہتے تھے ۔۔
اور کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے پہلے بھنگ انہوں نے دریافت کی تھی ۔۔۔اب یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ یہ سچ ہے یا دشمنوں نے ہوائی اڑائی ہے ۔۔۔کیونکہ بھنگ بولتی نہیں اور سائیں کسی کی سنتے نہیں ۔اور اسی لیے یہ معاملہ بھی مرغی پہلے یا انڈہ کی طرح ایک لاحاصل بحث بن چکا ہے ۔۔

اور سنا تو یہ بھی ہے کہ تاریخ کی سب سے بڑی یدھ مہا بھارت میں بھی یہ شریک رہے ۔۔۔اسی لیے تو یہ لڑائی شیطان کی آنت کی طرح بڑھتی ہی گئی ۔۔مگر یہ اس میں لڑتے رہے یا پھر دو کونڈے چڑھا کر کہیں پڑے رہے تاریخ نے اس بارے میں کبھی منہ نہیں کھولا ۔۔
منہ تو یہ بھی کم کم ہی کھولتے ہیں ۔۔۔مگر جب بھی کھولتے ہیں سننے والوں کا خون کھولنے لگتا ہے ۔۔کیونکہ اکثر ہولی کے تہوار پر ہندو برادری کو عید مبارک اور عید والے دن مسلمانوں کو کرسمس کی مبارکباد دیتے نظر آئے ہیں ۔۔۔
اگر کبھی سیاستدانوں کے لیے کوئی میوزیم بنا تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ سب سے زیادہ رش سائیں کے گرد ہی ہوگا ۔
اگر کبھی ان کی زندگی پر کوئی کتاب لکھی گئی تو وہ یقیناً بیسٹ سیلر کتاب ”قہقہوں کی پٹاری“ کو پچھاڑ کے رکھ دے گی ۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں