زنانہ نام کے فوائد اور نقصانات ۔ نورالہدی شاہین

زنانہ نام نام کے فوائد اور نقصانات

تحریر : نورالہدی شاہین

صوفی تبسم کو "زنانہ نام" کے بڑے فائدے ہوا کرتے تھے۔ لوگ ان کی تحریریں پڑھ کر تحفے بھیجا کرتے اور ہر جگہ "لیڈیز فرسٹ" کا پروٹوکول مل جاتا تھا۔ جبکہ میرا معاملہ یکسر مختلف ہے۔
مجھے لوگ تحفے کے بجائے"گندے مسیج" بھیجتے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ بھائی جو پروفائل تصویر لگی ہے یہ میری اپنی ہی ہے۔ جواب ملتا ہے "بوائے فرینڈ" یا شوہر کی ہوگی۔ تنگ آکر کچھ عرصہ پشتو کے معروف صوفی شاعر رحمان بابا کی بڑھاپے کی تصویر لگادی تو کہنے لگے آپ کے اباجی ہوں گے۔

ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ہمارے چینل میں جاب آئی ہے۔ سی وی بھیج دو۔ جھٹ سے سینڈ کردی اور انہوں نے آگے فارورڈ کردی۔ پھر اللہ اللہ خیر صلا دونوں ہی بھول گئے۔
چینل نے جب دوسرے تمام امیدواروں کا انٹرویو کیا اور کوئی منتخب نہ ہوسکا تو دو ماہ بعد ایک بار پھر دوست سے مطالبہ ہوا کہ کوئی ڈھنگ کا بندہ ڈھونڈ کر لاؤ۔
دوست نے شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھا کہ نورالہدیٰ شاہین بھی "بے کار تھا" گول مول جواب ملا کہ اس نے کال نہیں اٹھائی۔ دوست نے مجھ سے رابطہ کرکے شکوہ کیا "بھائی آپ نے انٹرویو کال بھی نہیں اٹھائی"۔

مجھے حیرت ہوئی کہ کب کال آئی اور میں نے نہیں اٹھائی۔ خیر اپنا کال ریکارڈ چیک کیا تو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا اور میں نے واپس ان کو کال کرکے بتایا کہ بھائی غلط فہمی ہوئی ہوگی مجھے کوئی کال نہیں آئی۔
میرا جواب سن کر اس نے دوبارہ ایچ آر میں جاکر بتایا کہ نورالہدیٰ شاہین کو کسی نے کال کی ہی نہیں۔ تب جاکر اس کو اصل صورتحال بتائی گئی کہ دراصل ہمیں اس سیٹ پر کوئی مرد ہائر کرنا ہے "خاتون" اس کے لیے موزوں نہیں۔

دوست سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور کافی دیر بعد ہوش سنبھالتے ہوئے ان سے کہا "نورالہدیٰ شاہین مرد ہی ہے عورت نہیں"۔ پھر اسی وقت کال آئی۔ اگلے دن ٹیسٹ اور انٹرویو ہوا اور میرا سلیکشن ہوگیا۔
اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ نام نے تو صوفی تبسم جیسا فائدہ نہیں دیا۔ آج کے بعد سی وی میں تصویر لازمی لگاؤں گا تاکہ رہے سہے مواقع سے محروم نہ ہو جاؤں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں