درد کے ماروں پہ ہنستا ہے زمانہ بے خبر - ساغر صدیقی

درد کے ماروں پہ ہنستا ہے زمانہ بے خبر

ساغر صدیقی

ساغرؔ صدیقی

درد کے ماروں پہ ہنستا ہے زمانہ بے خبر
زخمِ ہستی کی کسک سے ہے نشانہ بے خبر

نگہتوں کے سائے میں ٹوٹے پڑے ہیں چند پھول
بجلیوں کی یورشوں سے آشیانہ بے خبر

حسنِ برہم کو نہیں حالِ پریشاں سے غرض
سازِ دل کی دھڑکنوں سے ہے زمانہ بے خبر

ہم قرارِ دل نہیں ہیں، ہم نہیں آنکھوں کا نور
ہم سے آوارہ کا ہوتا ہے ٹھکانہ بے خبر

دونوں عالم وسعتِ آغوش کی تفسیر ہیں
دیکھنے میں ہے نگاہِ محرمانہ بے خبر

آپ اپنے فن سے ناواقف ہے ساغرؔ کی نظر
لعل و گوہر کی ضیاؤں سے خزانہ بے خبر

ساغرؔ صدیقی​

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں