جیت ـ کرن عباس کرن

جیت

کرن عباس کرن

کرن عباس کرن

جیت

شدید سردی کے بعد اب اس حسین وادی میں بہار کا آغاز ہو چکا تھا - اگرچہ یہاں کے چاروں موسم حسن کے لحاظ سے ساری دنیا میں اپنی انفرادی حثیت رکھتے ہیں - مگر بہار میں تو یوں لگتا ہے جیسے جنت کو زمین پہ اتار دیا گیا ہو -

 بہار کا آغاز ہوتے ہی زمین کی رونقیں لوٹ آئی تھیں - خالی تنہا درختوں پہ پتے لوٹ چکے تھے - ہر طرف پھولوں کی بہار تھی - تروتازہ سورج کی سنہری کرنیں جب چھوٹی چھوٹی گھاس پر پڑتیں تو روح میں تازگی اتر جاتی - اور اپنی مستی میں گم بہتے ندی نالوں میں جب گہرے نیلے آسمان اور شور مچاتے , نغمے سناتے پرندوں کا عکس پڑتا تو یہ منظر کسی بھی ذی شعور کو مدہوش کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا - ایسے خوبصورت مناظر میں سریلی آوازوں والے پرندوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی -

درناب صبح کی عبادت کے بعد صحن میں چہل قدمی کر رہی تھی - اس کی خوبصورت بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں عجیب الجھن تھی - چہرے پہ پریشانی کے آثار واضح تھے - مگر جب گاتی ہوئی شرارتی چڑیاں صحن میں رکھے دانے پانی پر آ کر شور مچاتی تو ایک لمحے کو وہ اپنا دکھ درد بھول جاتی - اسے پر امن پرندے بہت پسند تھے جو آذاد فضاؤں میں خوشی کے گیت گاتے تھے -

پرندوں کو دانہ اور پودوں کو پانی دے کر جب وہ چھت پر گئی تو ساتھ والے پڑوسی چچا احمد ہمیشہ کی طرح اپنی بندوق صاف کر رہے تھے - بندوق کو دیکھ کر اکثر اس کا دکھ بھرا ماضی اس کے سامنے آجاتا تھا - اسے بندوق سے جتنی نفرت تھی اتنی ہی اس میں دلچسبی بھی تھی - وہ اسی بندوق کو وجہ زخم اور اسی کو اپنا مرہم سمجھتی تھی - اس لیے اکثر اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ احمد چچا سے بندوق چلانا سیکھے - نشانہ بازی میں تو اسے بچپن سے ہی دلچسبی تھی -

آج درناب نہ چاہتے یوئے بھی احمد چچا کے گھر چلی گئی تا کہ اپنی خواہش کا اظہار کرے - احمد چچا کا گھرانا صرف دو لوگوں پر مشتمل تھا ایک احمد چچا خود جو سارے علاقے میں چاچا جی کے نام سے مشہور تھے اور دوسری ان کی بیٹی جو درناب سے دو سال چھوٹی تھی - کبھی یہ چار افراد پہ مشتمل ایک خوشحال گھرانا تھا جس میں چاچا جی کی بیوی اور ایک جوان بیٹا بھی شامل تھے - اس گھرانے کے دو افراد کو دشمن نے اس لیے مار ڈالا تھا کہ اس گھر سے ان کی بزدلی کو للکارا گیا تھا -  چچا جی کو بندوق پسند تو نہ تھی لیکن اپنی بیٹی اور اپنی حفاظت کے لیے اسے ہمیشہ تیار رکھتے تھے - اور یہ خیال بھی ان کے ذہن میں رہتا کے ضرورت پڑنے پر وہ اسے  اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے بھی اٹھا سکتے ہیں -

درناب کے گھر میں داخل ہوتے ہی چچا کے غمگین بوڑھے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی - درناب کو وہ اپنی بیٹی کی طرح سمجھتے تھے -

"سلام چاچا جی ! کیسے ہیں آپ ?" درناب نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا

"وعلیکم السلام بیٹی ! اللہ کا کرم ہے ! تم کیسی ہو اور فاطمہ بہن کیسی ہے " چچا نے اس کی اور اس کی والدہ کی خیریت دریافت کی

"چاچا جی میں بھی ٹھیک ہوں اور ماں جی بھی اور یہ پراٹھے ان ہی نے آپ کے لیے بیجھے ہیں آپ اور عائشہ کو پسند ہیں نا ! "

درناب اور اس کی ماں اکثر چاچا جی اور ان کی بیٹی کے لیے کھانے بنا کر لاتے رہتے تھے -

" کیوں نہیں بیٹی بہت پسند ہیں مجھے - میری طرف سے فاطمہ بہن کا شکریہ ادا کرنا - بھلی عورت ہے محلے کے ہر گھر کا خیال رہتا ہے اسے - اپنے دکھ درد بھول کر دوسروں کی غمی خوشی میں شریک رہتی ہے - عائشہ پتر آ ناشتہ کر لے تیری چچی نے پراٹھے بیجھے ہیں - " چاچا جی نے بیٹی کو آواز دی

ناشتہ کرتے وقت بھی وہ درناب اور اس کی ماں کی تعریف کرتے رہے

"چاچا جی مجھے آپ سے ایک کام تھا - بہت دنوں سے سوچ رہی تھی کہ آپ کو بتاؤں لیکن کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی - " درناب نے ناشتے کے بعد چاچا جی سے کہا

"بول بیٹی کیا کام ہے - تو میری اپنی بچی ہے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کوئی کام بھی ہو تو بول دیا کر....... "  چاچاجی نے شفقت سے کہا

" بہت شکریہ چاچا جی لیکن یہ کام تھوڑا عجیب سا ہے " درناب ابھی بھی تردد کا شکار تھی " آپ کو تو پتا ہے میرے بابا اور دو بھائیوں کو پانچ سال قبل دشمن کی فوج نے مار ڈالا تھا - اور آپ کے بیوی اور بیٹے کو بھی - اس کے علاوہ اس علاقے کے کتنے گھر ایسے ہیں جن کے کئی افراد دشمن کے ہاتھوں مر چکے ہیں - کتنے بچے جو پھولوں کی طرح خوبصورت تھے جو ابھی مکمل کھلے بھی نہیں تھے کہ دشمن نے نے انھیں برباد کر ڈالا - کتنے چلتے پھرتے لوگوں کو معذور کر دیا - کس جرم میں چچا جی آخر کس جرم میں ! ہم تو امن پسند لوگ ہیں - ہم نے تو صرف ان کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی - بس یہی جرم تھا ہمارا - " درناب کی آنکھوں میں آنسو آچکے تھے - برسوں کا غم تھا جو اسے اندر ہی اندر انتقام پر ابھار رہا تھا -

" لیکن میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے میں دشمن سے بدلہ ضرور لوں گی اپنے بابا کے خون کا اپنے بھائیوں کا اپنے ملک کے ہر شخص کا - میں اپنی دھرتی کی حفاظت کروں گی - ان بندوق اٹھانے والے بزدلوں سے بندوق سے ہی بدلہ لیا جا سکتا ہے " درناب فرط جذبات میں بولے چلی جا رہی تھی

احمد چچا کو اس کے ارادوں کا علم ہو چکا تھا اس لیے بولے " بیٹا تم ابھی پڑھ رہی ہو انھیں تعلیم میں شکست دو - بندوق والا کام بہت مشکل ہے اور ہم ہیں نا تمہاری حفاظت کے لیے "

"نہیں چچا جی ان لوگوں کو بندوق کے زور پر ہی بھگایا جا سکتا ہے - غلام رہ کر تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں - تعلیم تو ہمیں شعور دیتی ہے کہ ہم آذاد ہیں ہمیں آذاد رہنے کا پورا حق حاصل ہے - کوئی ظلم کرے تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے - میں بندوق اٹھانے والون کو بزدل سمجھتی ہوں  مگر ہمیں بھی اپنے دفاع اور اس دھرتی کی حفاظت کے لیے بندوق اٹھانی پڑے گی - آپ مجھے بندوق چلانا سکھانے گے نا -  درناب اپنی ضد پر اڑ چکی تھی

" اچھا بیٹا میں سکھا دوں گا یہ بہت مشکل کام ہے ویسے ..." چچا نے ہار مانتے ہوئے کہا

"کوئی بات نہیں چچا جان میں سیکھ لوں گی نشانہ بازی کا مجھے بچپن سے شوق ہے "

" ٹھیک ہے پھر میں آپ کو بہت جلد ماہر نشانہ باز بنا دوں گا " چچا نے مسکراتے ہوئے کہا

                             *********************
"ماں میں نے کب کہا میں بندوق لے کر دشمن کی تلاش میں نکل پڑوں گی  - میں تو اسے صرف ضرورت کے وقت استعمال کروں گی - اپنی قوم اپنی زمین کی دفاع کے لیے - ماں مجھے مت روکو میں بہادر مان باپ کی بیٹی ہون اس عظیم دھرتی کی بیٹی ہوں - مجھے بدلہ لینا ہے - خون کا بدلہ .......... "

درناب مسلسل اپنی ماں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی  - درناب کی ماں اگرچہ بہادر خاتون تھی مگر اس کی ایک ہی بچی تھی جو اس کی کل کائنات تھی - وہ نہیں چاہتی تھی کہ دشمن اس سے آخری امید بھی چھین لے - وہ کسی بھی طرح ماننے کو تیار نہ تھی

" بیٹا تم دشمن کو نہیں جانتی - انھیں تو دنیا بھر میں سفاک کہا جاتا ہے مگر پھر بھی ان کے مظالم پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے - وہ کسی بھی حد تک جا  سکتے ہیں - صبر کر میری بچی خدا ان سے خود بدلہ لے گا -  ضرور بدلا لے گا .......... " فاطمہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی

" نہ ماں ان کے مظالم پر صبر کرنا جرم ہے - ماں میں لڑکی سہی مگر جب دشمن سے لڑوں گی تو دنیا کو بھی احساس ہو گا کہ ایک لڑکی دشمن سے لڑ رہی ہے اپنے حق کے لیے تو وہ بھی ہمارا ساتھ دیں گے - وادی کی ہر لڑکی میرا ساتھ دے گی - مجھے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے - دنیا کو یہ بتانا ہے کہ دشمن ہمارے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے......... "

درناب بولتی چلے جا رہی تھی آخر اس کی ضد کے آگے اس کی ماں کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑے اور اسے بندوق چلانا سیکھنے کی اجازت مل گئی -
*******************
سورج اپنا کام نمٹا کر واپس کر واپس لوٹ رہا تھا - بلند پہاڑوں کی اوٹ میں چھپتا سورج جاتے جاتے بھی وادی پر چند حسین کرنیں لٹا رہا تھا - آسمان پر موجود سفید بادل سورج کی آخری کرنیں پڑتے ہی گلابی رنگ کے ہو چکے تھے اور ان کا عکس وادی کے ندی نالوں میں یوں دکھاتی دے رہا تھا جیسے کسے شفاف آئینے میں حسین چہرہ دکھائی دیتا ہو - اس وقت ساری وادی پر سکوت طاری تھا - ہر وقت شور مچاتے پرندے بھی خاموشی سے درختوں کی ٹہنیون پر بیٹھے ہر چیز کو مبہوت ہوئے دیکھ رہے تھے -گلابی رنگ آسمان پر یوں دکھائی دے رہا  تھا جیسے مظلوم شہیدوں کا لہو , ان کا غم آسمان پر پھیل چکا ہو -

درناب احمد چچا کے ساتھ صحن میں بندوق چلانے کی " پریکٹش" کر رہی تھی - احمد چچا کسی ماہر استاد کی طرح اسے مسلسل ہدایات دے رہے تھے - احمد چچا کو اس فن میں مہارت حاصل ہے - نوجوانی میں وہ دشمن کے لیے دہشت کا باعث تھے

"اسے مضبوطی سے تھامو..... اپنے کاندھے پر رکھو اور ایک آنکھ بند کر کے اپنے نشانے کو غور اور توجہ سے دیکھو - اپنی نظر اور بندوق کو نشانے کی سیدھ میں رکھو - کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا نشانہ خطا نہین ہو گا...." چچا نے ہدایت دیتے ہوئے پوچھا

" ہاں چچا جی مجھے امید ہے " درناب نے بتایا

صحن کے قدآور درختوں پر بیٹھے پرندے مسلسل درناب اور اس کے ہاتھ میں موجود خطرناک ہتھیار کو تکے جا رہے تھے - یہ ہتھیار ان کے لیے کچھ نیا نہیں تھا - وہ اسے روز اسے وادی کے امن دشمنون کے ہاتھ میں دیکھتے رہے ہیں اور آج اسے پرامن بازو بھی تھامنے پر مجبور تھے - پرندے حیران و پریشان اپنی پرامن دوست کو دیکھے جا رہے تھے -

" شاباش نشانے پر پوری توجہ کرتے ہوئے ٹریگر کو پوری قوت سے پیچھے کی طرف کھینچو ...... " چچا احمد نے مزید ہدایات دیں " جی اچھا " ٹریگر کو چلاتے ہوئے اس پر عجیب خوف طاری تھا...ہاتھ کانپنے لگے_آخر پوری قوت سے اس نے بندوق چلا دی_ دھماکے کی آواز پر پرندوں کی درد ناک چیخ نے درناب پر دہشت طاری کر دیا_  بندوق اس کے ہاتھ سے گر گئی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گے اسے خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا وہ زمین پر بیٹھ کر فضا کو تکنے لگی جہاں پرندوں کا شور مزید بڑھ چکا تھا مگر کچھ ہی دیر میں پرندے ایک ایک کر کے وہاں سے رخصت ہو گئے _ درناب مبہوت سی ان درختوں کو دیکھے جارہی تھی جہاں کچھ دیر پہلے پرندے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے ہر دن کی طرح........

درناب کے دکھ درد کے ساتھی اس کے غمگین چہرے پر مسکراہٹ لانے والے پرندے اب واپس لوٹتے ہوئے خوفزدہ تھے......

چچا درناب کو حوصلہ دیتے ہوئے کہنے لگے "بیٹا تم اک بہادر قوم کی بیٹی ہو جس قوم کی مائیں خود اپنے لخت جگر اس دھرتی پر قربان کرنے کے لیے بیجتھی ہیں بہنیں بھائی کی شہادتوں پر فخر کرتی ہیں...بیٹیاں باپ کے کھو جانے کا ماتم نہیں کرتی....تم بھی اس قوم کی بیٹی ہو ان بلند پہاڑوں کے درمیان رہنے والوں کا حوصلہ چٹان کی طرح مضبوط ہوتا ہے - وقت آنے پر وہ پہاڑ بن جاتے ہیں -  تمہارا حوصلہ بھی چٹان سے ذیادہ مضبوط ہونا چاہیے......"

"جی چچا جی میں اک بہادر قوم کی بیٹی ہوں مگر یہ قوم امن کی شیدأئی بھی ہے آپ کو معلوم ہے کہ جس زمین پر گولیوں کی گھن گرج ہو اس زمین سے پرندے روٹھ جاتے ہیں اور جب پرندے روٹھ جائیں تو امن روٹھ جاتا ہے  پھر وہاں امن کی خواہش رکھنا فضول ہے وہاں صرف ویرانیوں کا بسیرا ہوتا ہے - کچھ باقی نہیں رہتا -  مجھے نہیں اٹھانی یہ بندوق میں امن ختم کرنے میں دشمن کس ساتھ نہیں دی سکتی......" یہ کہہ کر درناب خاموش ہو گئی اور پھر کچھ سوچ کہ بولی "مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہار گئی  ہوں میں ہاری نہیں میں لڑوں گی میں ضرور لڑوں گی دشمن سے مگر بندوق سے نہیں قلم سے........."
**************
" سر یہ لڑکی تو ہمارے لیے ان لوگوں سے بھی ذیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے جو ہتھیاروں سے لڑ رہے ہیں - " ایک بند کمرے میں خفیہ مقام پر انتظامیہ کے عہدے دارن کا اجلاس جاری تھا - ایک بھاری بھرکم سنجیدہ چہرے والا آفیسر سب کی باتیں بہت غور سے سن رہا تھا - اب کی بار اس نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا

" یہ بات تو مجھے بھی معلوم ہے اسی لیے تو میں نے یہ خفیہ اجلاس بلایا ہے - اس ایک لڑکی نے ہماری ساری محنت ضائع کر دی ہے - دنیا کے کئی اخبارات میں اس کے کالم چھپ رہے ہیں - یہ ہمارا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھا رہی ہے - عالمی برادری کا دباؤ بڑھ رہا ہے - بندوق سے لڑتی تو ہم اسے دہشت گرد قرار دیتے - اس کی تحریریں لوگوں کو بغاوت پر اکسا رہی ہیں - ابھی کل یہ خبر چل رہی تھی کہ پڑھے لکھے نوجوانون کے ایک وفد نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں - یہ لوگوں کو جو راستہ دکھا رہی ہے وہ بہت خطرناک ہے - مگر اب یہ بتاؤ کہ اسے روکا کیسے جائے ....."

" سر سیدھی سی بات ہے اسے ختم کر دیا جائے " ایک افسر نے تجویز پیش کی

" واہ واہ کیا آئیڈیا ہے - شاباش جوان تمہارے لیے تو کھڑے ہو کے تالیاں ہونی چاہیں....! " افسر  نے اپنی تعریف پہ ابھی صرف سر بلند کیا ہی تھا کہ آگے کے ولفاظ نے اس کی بتی گل کر دی

" نکمے کہیں کے اس مصیبت کو ختم کرنا دوسری مصیبت کو جنم دینے کے مترادف ہے ساری دنیا اس سے اور اس کے دشمنوں سے واقف ہو چکی ہے...." بڑے آفیسر نے اس کی سرزنش کی

" سر میرے پاس ایک اور حل ہے " ایک اور افسر نے اپنی طرف سے ذہین بنتے ہوئے پتا اچھالا -

" سر اس کے گھر والوں کو ایک ایک کر کے غائب کر دیا پھر یہ خود ڈر جائے گی " یہ کہ کر وہ داد لینے کے لیے اپنے آفیسر کی جانب مڑا

" واہ کیا بات ہے - تم تو اس سے بھی ذیادہ ذہین نکلے " آفیسر نے اپنا سر پکڑ لیا " تم جیسے نکمے لوگوں کی وجہ سے آج ہم ان مشکلات سے دوچار ہیں - اس کے گھر والوں میں ہے ہی کون - صرف ایک ماں ہے اور اگر ایسا کیا بھی گیا تو اس کی تحریروں میں مزید شدت آ جائے گی - " آفیسر نے دوسری تجویز پر اپنے خدشات ظاہر کیے

" سر میرے پاس ایک اور پلان ہے - مشکل ضرور لیکن کامیاب رہے گا " ایک سنجیدہ افسر نے کہا

"تو کہو نا میں نے تم لوگوں کو صرف کھانے کے لیے دعوت نہیں دی نہ ہی تم لوگ میرے ولیمے میں آئے ہوئے ہو " بڑے آفیسر کی اس بار پر زوردار قہقے بلند ہوئے

" سر اس لڑکی کے قتل کے بغیر گزارہ نہیں لیکن اسے مارا اس طرح جائے کہ ہم پر الزام بھی نہ آئے اور موت بھی حادثاتی ہو "
****************
گھنے پیڑوں کے نیچے دو کرسیاں پڑی تھیں اور درمیان میں میز پر چائے کے لوازمات پڑے تھے - ایک کرسی پر درناب اور دوسری پر چھوٹے بالوں والی دلکش صحافی موجود تھی - صحافی ایک عالمی اخبار سے منسلک تھی - اس صحافی کو ہر کوئی جانتا تھا اور دنیا میں اس کی صحافتی رپورٹس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا

" صحافی : آپ کی تحریریںدن بدن نوجوانوں میں مقبول ہو رہی ہیں اور پڑھنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے  - ایسا کونسا طریقہ ہے جس نے آپ کو کم عمری میں ہی ایک مقبول ادیبہ بنا دیا......"

درناب : میرا خیال ہے کہ ایک اچھا لکھاری ہونے کے لیے آپ کے پاس احساس کا ہونا ضروری ہے - آپ اپنی تکلیف کے ساتھ ساتھ انسانیت کی تکلیف کو بھی محسوس کر سکیں اور پھر بلا خوف و خطر وہ سب کہہ سکیں جو آپ محسوس کرتے ہوں - قلم میں جو طاقت قلم میں جو طاقت ہے وہ طاقت دنیا کے کسی ہتھیار میں نہیں - لیکن ساتھ ساتھ آپ کو قلم کے تقدس کا بھی خیال رکھنا چاہیے -

صحافی : آپ نے اپنی علاقے کے حالات کو بہت اجاگر کیا  - لوگوں کو جہدوجہد پر اکسایا , دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا آپ کو لگتا نہیں کہ جن لوگوں کے خلاف آپ لڑ رہی ہیں وہ آپ پر پابندی لگا دیں یا آپ کو راستے سے ہٹا دیں ......."

درناب : جی ! انھوں نے مجھے بہت مرتبہ ڈرایا دھمکایا ہے - پابندی لگانے کی کوششیں کیں اور مجھے قتل کی دھمکیاں بھی دیں لیکن انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ اس قوم کے لوگ دھمکیوں سے گھبراتے نہیں موت سے ڈرتے نہیں - وہ یہاں گھروں کے گھر اجاڑ دیتے ہیں لیکن جہدوجہد میں کمی نہیں آتی - وہ اگر ماں باپ کو مار ڈالیں تو بچے میدان میں آذادی کا علن اٹھائے لڑنے پر تیار ہوتے ہیں  - ماں باپ سے بچے چھین بھی لیے جائیں تو وہ پھر بھی آذادی کا نعرہ باآواز بلند لگانے سے گھبراتےنہیں - یہاں کی مائیں بہنیں بیٹیاں دشمن سے لڑنے خود میدان میں اترتی ہیں - اس قوم کی بیٹی ہونے کے ناطے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنی جہدوجہد جاری رکھون گی - اور وہ دن دور نہیں جب دشمن شکست کھا کر اس دھرتی کو چھوڑ جائیں گے - آذادی کا وہ سورج بہت جلد طلوع ہو گا مجھے یقین ہے "
*********************
" سر ایک مرتبہ پھر ہماری سازش ناکام ہو گئی ہے - ہم اس لڑکی کو راستے سے نہیں ہٹا سکے .......... " کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ایک اہلکار نے خبر دی - اب وہ افسر کے منہ سے نکلتے ہوئے گالیوں کے عظیم طوفان کا منتظر تھا

" کیا بکواس ہے میں نے تم لوگوں کو کیا کہا تھا کہ آج ہر حال میں کام ہو جانا چاہیے اور تم لوگ ہمیشہ کی طرح خالی منہ لے کر آ گے ہو - شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو ایک لڑکی کو راستے سے نہیں ہٹا سکتے ....." افسر غصے میں جانے کیا کیا کہتا کہ اچانک اسے کسی اہم شخصیت کا فون آ گیا

" سر ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں - سر کام مشکل ضرور لیکن ہو کر رہے گا ......" کچھ دیر پہلے والا افسر جو شیر کی طرح گرج رہا تھا اب بھیگی بلی بن چکا تھا " سر یہ انٹرویو میں نے بھی پڑھا ہے - ٹھیک ہے سر جیسا آپ کا حکم ! اب ہم ویسے ہی کریں گے - ٹھیک ہے سر بندہ حاضر ہے کوئی شکایت نہیں ہو گی آپ کو........" فون رکھ کر گہری سانس لیتے ہوئے اس نے اہلکار کو دیکھا " ٹھیک ہے اب تم جاؤ - اب ہمارا کام شروع ہوا -
*****************
فوج کی ایک بڑی تعداد درناب کے گھر پر موجود تھی - مسلح اہلکاروں نے تمام سامان تہس نہس کر دیا - درناب کے تمام مضامین ضبط کر لیے گے - درناب چلاتی ہی رہ گئی اور وہ اسے باغی قرار دے کر گھر میں نظربند کر کے چلے گے - گھر کے باہر سپاہیون کا ایک بڑا دستہ تعینات کر دیا گیا
***************

اس قید کے باوجود درناب نے کئی مضامین لکھ ڈالے مگر اشاعت کا کام تھا - وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ مضامین دنیا کے کسی بڑے اخبار میں شائع ہوں تا کہ وہ قابضین کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھا سکے کہ کیسے وہ پرامن لکھاری کے پیچھے بھی ہاتھ دھو کر پڑ چکے ہیں لیکن اس کا لیپ ٹاپ فون سب دشمن کے قبضے میں تھے

گھر کے باہر سخت پہرہ تھا - کوئی طریقہ ایسا نہ تھا کہ وہ اپنے مضامین شائع کروا سکتی - فوج کے اہلکار اس کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے - آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی - اس کے گھر کے پچھلی جانب ایک دروازہ تنگ گلی میں کھلتا تھا - گلی کی دوسری جانب چچا احمد کا گھر تھا - درناب نے ایک خط لکھ کر تمام مضامین ماں کے حوالے کیے اور انھیں ساری ترکیب سمجھا دی -  فوج ماں کے بجائے درناب پر نظر رکھے ہوئے تھی اس لیے درناب کی ماں کو باہر جانے میں مشکل نہ ہوئی اور نہ ہی انھوں نے اس کی غیر حاضری کو محسوس کیا - درناب کی ماں کچھ ہی دیر میں خط اور مضامین احمد چچا کے حوالے کر کے اسی راستے واپس آ گئی
****************
" سر ہم پہ انسانی حققق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا بہت دباؤ ہے - سر درناب کے مضامین پابندی کے باوجود شائع ہو رہے ہیں - عالمی میڈیا پر بھی اس مسئلے کو خوب اچھالا جا رہا ہے - ہمیں ہر حال میں اس پابندی کو ختم کرنا پڑے گا بہت دباؤ ہے ہم پہ ........" نظر بندی کے احکامات ماننے والا افسر اب مکمل بےبس ہو کر اعلی شخصیت کو تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا - دونوں کی پریشانی دیدنی تھی سو اس نے افسر کو یہ کہہ کر فون بند کر دیا " اس آفت کو ہر حال میں راستے سے ہٹاؤ "
******************
پابندی ذیادہ دیر نہ چل سکی قابض گرو کو پابندی اٹھانا پڑی - درناب کا قلم ایک بار پھر تلوار سے بھی تیز چلنے لگا - مضامین میں قابض گروپ کے خلاف شدت آنے لگی - اس کی تحریریں نوجوانوں کو بغاوت پر مسلسل اکسا رہیں تھیں - آذادی کی تحریک نے مزید زور پکڑ لیا تھا - اب یہ مسئلہ  عالمی سطح پر آئے روز بہتر سے بہتر پیش ہونے لگا - عالمی میڈیا  بھی اس موضوع کو بہتر انداز میں پیش کرنے لگا - یون دکھائی دے رہا تھا کہ شاید اب نیا سورج آذادی کا پیغام لانے والا ہے اور اب اسے طلوع ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا -
*****************

درناب اپنے گھر کے صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے ڈوبتے سورج کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی - شام کے سائے چار سو پھیلنے لگے تھے اور اوپر سے یہ تند و تیز ہوائیں خزاں رسیدہ پتوں کو درختوں سے جدا کرنے پہ تلی ہوئی تھیں - خشک پتوں کا شور ہوا کے شور سے بھی ذیادہ تھا  - آخری شور آخری احتجاج - ہواؤں سے آخری گلہ - سارا صحن ذرد پتون سے بھر چکا تھا - درخت اجڑ رہے تھے - خاموش پتے جو سارا سال ہواؤں سے لڑتے رہے تھے اب تھک کر گرنے لگے تھے - غم نے ان کا رنگ بدل ڈالا تھا - مگر آواز آخری آواز بہت بلند کر دی تھی -

فضا میں عجیب سا دکھ تھا کرب تھا - وہی دکھ جو درناب کے دل کا ہمیشہ سے مسکن رہا ہے - لیکن پت جھڑ کے اس موسم میں اسے عجیب سا سکون ملتا تھا جیسے موسم نے اس کے دکھ بانٹ لیے ہوں - جیسے یہ دنیا بھی اس کا دکھ محسوس کر کے اس کا ساتھ دے رہی ہو -

درناب کافی دیر سے خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی - آج پہلی دفعہ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے جیت کی پہلی سیڑھی کو عبور کر لیا ہو - ایک عظیم مشن میں اپنا حصہ ڈال دیا ہو - اسے ایک عظیم خواب کی تعبیر قریب محسوس ہو رہی تھی - خود کو وہ فاتح سمجھ رہی تھی - وہ ان کی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی جب اسے اطلاع ملی کہ نوجوانوں کا ایک وفد اس سے ملنا چاہتا ہے - کچھ ہی دیر میں چند نوجوان درناب کے سامنے بیٹھے تھے - انھوں نے درناب کو قابض افواج کی تازہ کاروایوں سے آگاہ کیا اور اپنے اس مقصد سے آگاہ کیا کہ وہ ان کے خلاف پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں - درناب نے نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایا اور خود بھی احتجاج میں شرکت کی یقین دہانی کروائی -
***************
پرامن احتجاج جاری تھا - درناب کی آواز بلند سے بلند ہوتی جارہی تھی - اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بھی ایک ذرد پتا ہو - جسے حالات سبز سے سرخ کر دیتے ہیں - اس کی آواز بلند آواز میں تبدیل ہو چکی تھی لیکن اور بہت سے آوازیں بھی اس کی آواز میں شامل تھیں -

قابض افواج نے پرامن لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی - مگر ان کا اصل نشانہ تو درناب تھی - جو ایک ذرد پتے کی طرح شور کرتے کرتے آخر ختم ہو گئی - ہمیشہ کے لیے خاموش - گولی سینے پر کھانے کے باوجود درناب ذرد پتے کے آخری احتجاج کی طرح چلا رہی تھی " آذادی - آذادی - آذادی - ہم ہارے نہیں نہ ہم ہاریں گے - جو شمع جل چکی ہے وہ بجھ نہیں سکتی - یہ جیت کی شمع ہے - جیت ہماری ہی ہے - جیت ہماری ہے -"

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں