جسٹس شوکت عزیز پر مقدمہ کی حقیقت

جسٹس شوکت عزیز پر مقدمہ کی حقیقت

ثیف جسٹس

شوکت عزیز صدیقی

نور الہدی شاہین 

آئی ایس آئی کے بارے میں تلخ حقائق سامنے لانے کے بعد بعض افراد جسٹس شوکت عزیز کے خلاف سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیسز کی بنیاد پر ان کی کریڈیبلٹی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو فوج اور آئی ایس آئی کو مقدس سمجھ کر ان پر تنقید کو غداری سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے میں مخاطب نہیں ہوں۔ ان کا الگ ہی "لیول" ہے۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو معلومات کی کمی اور حقائق سے لاعلمی کی بنیاد پر جسٹس شوکت عزیز کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کا شکار ہورہے ہیں۔ ان کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے۔
پاکستان کے آئین کے مطابق ججز کے خلاف اوپن کورٹ میں کیس نہیں چل سکتا۔ اس کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہے۔ کسی جج کے خلاف کوئی شکایت ہو تو وہاں بند دروازوں کے پیچھے اس کی سماعت ہوتی ہے۔ یہ کارروائی کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں آتی چاہے جج نے کتنا ہی بڑا جرم کیوں نہ کیا ہوا۔
جوڈیشل کونسل میں اگر جرم ثابت ہوجائے تو بھی جج کو چپ چاپ گھر بھیج دیا جاتا ہے البتہ مراعات نہیں ملتے۔ بعض جج ہوشیار ہوتے ہیں وہ کارروائی سے پہلے ہی استعفی دے کر مراعات کے حقدار بن جاتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پاکستانی تاریخ کے پہلے جج ہیں جس نے ببانگ دہل کہا کہ میرے خلاف شکایتوں کی سماعت بند کمرے میں نہیں بلکہ کھلی عدالت میں کی جائے تاکہ سب کچھ عوام کے سامنے آجائے۔ یہ درخواست کئی برس قبل دی گئی لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے اس کو منظور نہیں کیا۔ کیوں کہ اس سے ججوں کے خلاف اوپن کورٹ میں کیسز کی روایت پڑ جاتی اور پھر حمام کے سارے ننگے ڈی چوک پر آجاتے۔
پھر جب شوکت عزیزصدیقی نے تحریک لبیک کے دھرنے کے دوران فوج کے کردار پر تنقید کی تو ان کو خاموش کرانے کے لیے ہتھکنڈے کے طور پر اچانک ان کی اوپن کورٹ میں ٹرائل کی درخواست منظور کرلی گئی۔ لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ٹرائل کا معاملہ وقتی طور پر ٹھنڈا پڑ گیا۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد آبپارہ میں آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے سامنے دو کلومیٹر سڑک بند کرنے پر جب شوکت عزیز صدیقی نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو عدالت میں طلب کیا تو ایک بار پھر ٹرائل کی فائل پر کپڑا مار کر سماعت کی تاریخ مقرر کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شوکت عزیز پھر بھی دباو میں نہیں آئے اور 21 جولائی کو وہ تاریخی خطاب کیا جس کی گونج نے آبپارہ کے درودیوار ہلا کر رکھ دئے۔
شوکت عزیز صدیقی نے اپنی موت کو دعوت دے کر اس مفلوج سیاسی نظام کو بوٹ کے نیچے سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ شوکت عزیز زندہ سلامت بھی رہیں اور سمجھوتہ بھی نہ کریں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں