جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا لاپتہ ہونے والے افراد کے متعلق آرمی چیف سے درخواست

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا لاپتہ ہونے والے افراد کے متعلق آرمی چیف سے درخواست

نور الہدی شاہین

ثیف جسٹس

شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کی صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں حساس اداروں کی مداخلت کو روکیں۔

عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے لوگوں کو روکیں جو حساس اور اہم معاملات میں اپنی مرضی کے عدالتی بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ حساس اداروں کی طرف سے اس معاملے میں عدلیہ میں ججز سے رابطے کیے جاتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ججز کی فون کال بھی ٹیپ کی جاتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ججز کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’آرمی چیف کو معلوم ہونا چاہیے ان کے لوگ کیا رہے ہیں۔‘

عدالت نے آرمی چیف کو اس معاملے کا نوٹس لینے کے بارے میں بھی درخواست کی۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں