جدائی مار ڈالے گی ۔ سلسلہ وار ناول

جُدائی مار ڈالے گی

سلسلہ وار ناول قسط 1

عروا فاطمہ

چدائی

جدائی

عاشی..... عاشی.. اُٹھو یار جانا نہی یونیورسٹی...؟ ؟؟؟ ثانی نے عاشی کو جھنجوڑتے ہوئے کہا....
ہممممم.... ہوووووں کیا ہو گیا ثانی کیوں بنی ہوئی ہو قیامت کی نشانی.... سونے بھی دیا کرو یار......
اوکے مرو تم یہں میں جا رہی ہوں میرا لیکچر مِس کرنے کا کوئی موڈ نہی ہے....
ارےےے یار... سنو تو ثانی جلدی کس بات کی ہے اُٹھ رہی ہوں نا.. ثانی کو جاتا دیکھ کر عاشی نے جلدی سے آنکھیں کھولی اور نا چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کر بیٹھ گئی.جانا مت اتی ہوں پانچ منٹ میں تیار ہوکر.. عاشی کہتے ہوئے ڈریسنگ رُوم کی طرف چلی گئی..
اگلے آدھے گھنٹے میں عاشی اور ثانی یونیورسٹی میں داخل ہو رہی تھیں اور ہمیشہ کی طرح اُسے دیکھتے ہی عاشی کا موڈ آف ہونے میں زیادہ ٹائم نا لگا تھا...
کیا مصیبت ہے یار کیوں یہ ڈفر پیچھے ہی پڑ گیا ہے کب جان چھوڑیگا یہ میری...؟ ؟؟ عاشی نے نہایت بیزاری سے منہ سکوڑتے ہوے کہا...
کم آن یار کھڑا رہنے دو تمہارا کیا لیتا ہے اب یہاں کھڑے ہونے پر بھی تم اعتراض کروگی تو نا انصافی ہو جائےگی بیچارے کے ساتھ... ثانی نے اُسکی حمائت کرتے ہوئے کہا
آچھااااا.... ؟؟؟ بیچارہ؟؟؟ تمہیں یہ بیچارہ لگتا ہے؟؟ تم ایسے کرو تم اسکی دوست بن جاؤ نہی چاہئے مجھے تم جیسے دوست جو ہر ایرے غیرے کی بیچارگی پہ فدا ہو جائے.. بیچارہ لفظ سنتے ہی عاشی کے نتھنے سرخ ہوچکے تھے..

میں کیسے دوستی کرلوں وہ تو تمہاری ایک جھلک دیکھنے کو کھڑا ہوتا ہے یہاں...... ہائے کوئی مجھے یوں چاہے تو میں توں مر ہی جاؤں خوشی سے..... ثانی نے لمبا سانس لیتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکالی...
تم غائب ہوجاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ تمہیں میں مار دوں... عاشی نے لاسٹ وارننگ دیتے ہوئے کہا..... اور اتنے میں لیکچر کا ٹائم شروع ہوچکا تھا...
دونوں ایک دوسری کو چھیڑتے ہوئے لیکچر روم کی طرف چل دی۔

عاشی ماسٹرز کر رہی تھی اور اپنے تین بھائی علی، عارش اور عابد کی اکلوتی بہن تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں کا تارا تھی اور بھائیوں کی تو جان بسی تھی اُس میں. ایسا کبھی ہوا نہیں تھا کہ عاشی کوئی فرمائش کرے اور بھائی نے یا بابا نے اُسکی فرمائش پوری نا کی ہو. یہی وجہ تھی کہ عاشی ذرا شرارتی اور مغرور رہتی تھی جیسے ہر کام اُسکے ہاتھ میں ہو.. عاشی کے بابا احتشام کا بہت بڑا بزنس تھا. گھر میں پیسوں کی ریل پیل تھی. احتشام ولاء عاشی کی شرارتوں سے مہکتا تھا.

ثانی عاشی کی خالہ کی بیٹی اور عاشی سے ایک سال چھوٹی تھی.. چونکہ خالہ گاؤں میں رہنے کی وجہ سے ثانی کو اچھی تعلیم نہی دلوا سکتی تھی اس لئے ثانی بھی اپنی خالہ کے گھر رہتی تھی اور دونوں ہم جماعت تھیں. اور ایک دوسری کے دکھ سکھ کی ساتھی بھی. عاشی کی بہن کی کمی ثانی کی وجہ سے کسی حد تک پوری ہو چکی تھی..

آج بھی معمعول کی طرح جب وہ دونوں یونیورسٹی ہہنچی تو فرقان ہنوز وہیں دروازے سے کچھ فاصلے پہ کھڑا انکا انتظار کر رہا تھا.. فرقان ایم کام کر رہا تھااچھی شکل و صورت کا مالک تھا اور ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتا تھا. پڑھائی میں بہت شارپ لیکن جب سے عاشی کو دیکھا تھا اسکا سارا ٹائم اسے دیکھنے اورسوچنے میں گزر جاتا تھا
عاشی اور ثانی ہمیشہ کی طرح اُسے نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ گئیں...
آج موسم قدرے خشگوار تھا ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا.. عاشی کا دل باہر گھومنے کو کر رہا تھا اور ثانی مان نا رہی تھی..
ثانی یار چلو نا کیا مسئلہ ہے تمہیں؟؟
میری اسائنمنٹ ادھوری ہے ابھی اور کل لاسٹ ڈیٹ ہے مجھے کمپلیٹ کرنی ہے ابھی.. ثانی نے اسکی طرف دیکھے بغیر کہا
تم کرو کمپلیٹ میں نے اسکو کمپلیٹ ہوتے ہی پھاڑ دینا ہے کروانا پھر تم اپنے آنسو سبمٹ. عاشی نے دھمکی کے انداز میں کہا
اچھا مرو نہی بتاؤ کہاں جانا ہے اور صرف آدھے گھنٹہ کے لئیے زیادہ ٹائم نہی ہے میرے پاس.. ثانی نے تھکے ہوئے اندازمیں کہا
شاپنگ مال چلتے ہیں آؤٹنگ بھی ہوجائیگی اور شاپنگ بھی... عاشی نے چمکتی آنکھوں سے کہا
یار عاشی شاپنگ نہی پھر کبھی سہی شاپنگ کرتے تو تم نے تین گھنٹے آرام سے لگا دینے ہیں.. ثانی نے ایڈوانس پیشنگوئی کرتے ہوئے کہا
نہی نہی بس اُٹھو جلدی کہہ دیا نا شاپنگ تو بس شاپنگ.. عاشی نےدھونس جماتے ہوئے کہا

کچھ ہی دیر میں عاشی اور ثانی ڈرائیور کے ہمراہ مال میں موجود تھیں.
عاشی بھوک لگی ہے مجھے چل کچھ کھاتے ہیں پہلے.. ثانی نے ندیدہ پن سے کہا
کتنا کھاتی ہو یار ثانی تم؟؟ کیا دنیا میں صرف کھانے کے لئیے نازل ہوئی ہو؟؟
عاشی کیا بدتمیزی ہے کتنی دفعہ کہا ہے کہ مجھے کھانے پینے پہ مت ٹوکا کرو نظر لگ جاتی ہے.. ثانی نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا..
عاشی نے ایک زوردار قہقہ فضاء میں بلند کیا اور دونوں مسکراتے ہوئے پیزا ہٹ کی طرف چلدی...

کھانے سے فارغ ہوکر دونوں کا رُخ کپڑوں کی طرف تھا.. ایک بہت ہی خوبصورت جینٹس سوٹ ایک سٹیچو کے اوپر سجایا گیا تھا جس کو دیکھ کر عاشی دیکھتی ہی رہ گئی.. سوٹ تو سوٹ سٹیچو کا ہاتھ بھی اتنا دلفریب تھا کہ عاشی نے فورن سےپہلے اُسے پکڑ لیا..
ایکسیوزمی.....؟؟؟؟؟ ہاتھ میں زرا جنبش ہوئی اور ساتھ ہی آواز عاشی کی سماعت سے ٹکرائی. عاشی نے فورن اوپر کی طرف دیکھا تو وہ کوئی سٹیچو نہی بلکہ ایک جیتا جاگتا لمبا سا خوبصورت نوجوان چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ سجائے اسکی طرف دیکھ ریا تھا..

خوبصورت آنکھیں ایک شرارت سے جگمگا رہی تھیں.. اور اس کی مسکراہٹ سے اس کے گالوں پہ نمودار ہوتا ڈمپل اسکی تمام تر اٹریکشن کا مجموعہ تھا..
عاشی ہونکوں کی طرح اسے دیکھنے میں اس قدر مگن تھی کہ اسے یہ ہوش تک نا تھا کہ اس نے صائم علی کا ہاتھ اب تک تھاما ہوا تھا...
صائم مسکراتے ہوئے عاشی کو دیکھ رہا تھا نیوی بلیو کلر کے لباس میں ملبوس گلے میں وائٹ دوپٹہ لئے سلکی لمبے بالوں کی پونی ٹیل میں وہ سادہ سی لڑکی کچھ کم حسین نا تھی دودھ سی رنگت اور اس پہ حیرت کے رنگ اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے...
ایکسیوزمی.....؟؟؟؟ صائم نے گلہ کھنکارتے ہوئے عاشی کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہا
عاشی کو تو جیسے ایک دم ہوش آگیا اور ایک جھٹکے سے ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے بولنے کی کوشش کرنے لگی..
وہ... میں ں ں..... میں سمجھی کہ یہ.......
کوئی بات نہی میم اٹس اوکے ای کین انڈرسٹینڈ.... صائم نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا
آئی ایم رئیلی سوری مجھے معلوم نا تھا کہ...... عاشی نے اپنی شرمندگی و خفت کو چھپاتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی....
اٹس اوکے... یہ کہہ کر صائم سگریٹ کو کش لگاتے ہوئے ہجوم میں غائب ہوگیا.. اور عاشی کو لگا کہ پورا مال اسکی بیوقوفی پہ ہنس رہا ہو جیسے..
یہ ثانی کہاں مر گئی؟؟؟؟ خود پہ غصہ نکالتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف چلدی جہاں سے ثانی اندر داخل ہو رہی تھی...
مجھے یہاں چھوڑ کر باہر کیا کرنے گئی تھی؟؟ عاشی نے غصہ پہ کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا
ڈئیر ماما کی کال آگئی تھی یہاں شور کی وجہ سے سنائی نا دے رہا تھا اس لئیے باہر گئی تھی.. تمہیں کیا ہوا؟؟؟؟ ثانی نے اس کے اڑتے رنگ کو دیکھتے ہوئے کہا
کچھ نہیں چلو بس گھر چلتے ہیں... عاشی نے شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا
لیکن ابھی تو آئے ہیں ہم اور ابھی تو کچھ لیا بھی نہی ہم نے تم نے تو شاپنگ کرنی تھی نا.....؟؟؟؟؟؟ ثانی نے حیرت سے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی.....
یار ثانی کبھی کبھی کتنا بولتی ہو نا تم اور نہایت فضول بولتی ہو... بس نہی ہے اب موڈ تو نہی کرنی شاپنگ ویسے بھی تمہیں اسائنمنٹ بنانی تھی نا بھول گئی...؟؟ عاشی نے اسکا دھیان اور طرف کرتے ہوئے کہا
اوہ ہاں آسائنمنٹ بھی تو کمپلیٹ کرنی ہے... ثانی نے ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے کہا
کچھ ہی دیر میں دونوں گھر کی طرف رواں دواں تھیں لیکن عاشی کا دماغ مکمل طور پر الجھا ہوا تھا

عاشی اور ثانی دونوں لیکچر اٹینڈ کر کہ باہر نکل رہی تھیں. دونوں کی کوشش تھی جلدی گھر پہنچا جائے کیونکہ گرمی کی یہ سُلگتی دوپہر آج باقی دنوں سے بھی زیادہ سُلگ رہی تھی باہر نکلتے ہوئے ان کی نظر فرقان پر پڑی. جو کہ ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ گرے شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے ہاتھوں کو پینٹ کی پاکٹس میں ڈالے گاڑی کو ٹیک لگائے کھڑا تھا ساتھ ہی عاشی کہ دل میں نفرت کے سمندر نے ٹھاٹھیں مارنا شروع کردی اور اسکی نظروں کے سامنے وہ منظر واضح ہونے لگا جب فرقان نے عاشی کو پروپوز کیا تھا

ایک ٹھٹھرتی شام جب عاشی ثانی انوشہ، ثانی کی دوست اور انوشہ کا کزن فرقان ہوٹل میں بیٹھے ڈنر سے لطف اندوز ہو رہے تھے خوش گپیوں کا دور دورہ عروج پر تھا انوشہ نے فرقان کو آج فرسٹ ٹائم عاشی اور ثانی سے ملوایا تھا. عاشی نے محسوس کیا کہ فرقان زیادہ ہی دلچسپی لے رہا ہے اس میں اور اس چیز سے اس کو سخت جھنجھٹ ہو رہی تھی.. انوشہ کی کال آئی تو وہ زرا سائڈ پر جا کر سننے لگی اور ثانی گاڑی میں اپنا سیل بھول آۂی تھی وہ اٹھانے چلی گئی...
عاشی کانوں میں ہینڈ فری لگائے سانگ سننے میں مگن تھی کہ فرقان نے ایک دم سے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا
عاشی میں بات کرنا چاہتا ہوں تم سے....
ہووووں کہئیے میں سن رہی ہوں عاشی نے وولیم کم کرتے ہوئے کہا...
آئی لائک یو اینڈ وانٹ ٹو میری ود یو.... میں تمہیں ایک سال سے دیکھ رہا ہوں مجھے تم کیوں اچھی لگنے لگی میں نہی جانتا کب کیسے تم سے محبت ہو گئی مجھے علم نہی بس تمہیں دیکھنا تمہیں سوچنا اچھا لگتا ہے.. گھنٹوں میں تمہارے بارے میں سوچتا رہتا ہوں تمہیں دیکھتا ہوں تو نظر ہٹانا بھول جاتا ہوں جب تک تم آنکھوں سے اوجھل نا ہو جاؤ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں