ایک تھا قائم

ایک تھا قائم

نیلم اکبر۔ گوجرانوالہ

سید

قائم علی شاہ

بہت زیادہ ہی پرانے زمانے کی بات ہے جس میں تین دفعہ کا ذکر ہے کہ جب مکان کچے اور انگور میٹھے ہوا کرتے تھے۔
ایک الہڑ سا گول مٹول مٹکے کے سر والا ضعیف سا نوجوان ہوا کرتا تھا، نام تھا قائم. ویسے تو قائم میں کوئی خاص بات نہ تھی لیکن وہ عام بھی نہ تھا عقل سے پیدل اور زبان کا کچا تھا جہاں سے اٹھتا وہاں بیٹھ نہیں سکتا تھا اور جہاں بیٹھ جاتا وہاں سے اٹھنا محال (ادھار کی لت جو لگی تھی)
قائم کو بونگیاں مارنے کا نہ صرف شوق تھا بلکہ بونگیاں ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی رہتیں تھیں کہ کب قائم انکو مار ڈالے. مذکورہ تین دفعہ میں سے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قائم نے عینک خریدی. دو آنے کی عینک سے قائم خود کو ہواؤں میں محسوس کر رہا تھا جیسے قارون کا گھوڑا ہاتھ لگ گیا ہو.

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ قائم عینک لگانا نہیں جانتا تھا کبھی اپنی سورج کو چراغ دکھاتی ٹنڈ پہ رکھتا کبھی گدھے کو مات دیتے کانوں پہ تو کبھی بِل بتوری کی ہم شکل ناک پہ.لیکن عینک تھی کہ جچ نہ رہی تھی اسی کشمکش میں اس کے خالی پیپے میں ترکیب آئی. اس نے ایک لمبی رسی لی اور دو دیواروں کے درمیان باندھ کے جھولے لینے لگا جھولتے جھولتے اسے نیند آ گئی اس نے خواب میں دیکھا عینک کو سر ناک اور کان کے باہمی تعاون سے لگایا جاتا ہے جس سے وہ گر کے تباہ بھی نہیں ہوتی اس کے فوراً بعد اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ عینک تو لگی ہوئی تھی اور وہ سو گیا تھا اس نے نتیجہ نکالا کہ سوتے ہوئے عینک لگا کے بھی نظر نہیں آتا وہ خواب نہیں اسکا وہم تھا. قائم کا پورا نام قائم علی شاہ لکھا پڑھا اور پکارا جاتا ہے اسکی یادگار آج بھی سندھ میں سابق وزیر اعلیٰ کے طور پہ محفوظ ہے.

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں