الیکشن میں ہار جیت کو تسلیم کرنا مہذب ہونے کی نشانی ہے

الیکشن میں ہار جیت تسلیم کرنا مہذب ہونے کی نشانی ہے

نیا پاکستان

ہار جیت

فضل خان بڑیچ

شکست کو تسلیم کرنا اور جیت کو ہضم کرنا مہذب اور باوقار ہونے کی نشانی ہے اور میں اپنی شکست تسلیم کررہا اور ہمیں سوائے بلوچستان کے پورے ملک میں بری طرح شکست ہوئی ہے ۔

دھاندلی کی باتیں ہر ہارنے والا شخص کرتا رہتا ہے لہذا میں متحدہ مجلس عمل کے دھاندلی والی بات کو نامناسب سمجھتا ہوں خیبر پختون خواہ میں حیران کن جیت حاصل کرنے کا مطلب تحریک انصاف نے واقعتا وہاں کام کیئے ہیں ۔ ن لیگ نے لاہور میں کام کیا اور وہاں سے جیت گئے بلوچستان میں پشتونخواہ میپ بری طرح شکست کھا گئی مگر نصر اللہ بڑیچ دوبارہ صرف اس لیے جیتے ہیں کیونکہ انھوں نے ترقیاتی کام کرائے اور پورے پانچ سال عوام کو میسر رہے ۔

وقت بدل رہا عوام اب ووٹ کام کے بدلے دینے لگی ہے نتائج بتا رہے عوام نے یہودی ایجنٹ ۔ بوٹ اور عدالتی سرپرستی والی بات بھی رد کردی ہے ۔

کامیاب لوگ شکست میں سبق ڈھونڈتے متحدہ مجلس عمل شکست کی وجوہات ڈھونڈے اپنی غلطیوں پر بات کرے ٹکٹوں کی غلط تقسیم روکے نااہل افراد سے پوچھ گچھ کرے مولانا محمد خان شیرانی جیسے عظیم سیاستدان کا پارلیمانی سیاست چھوڑ دینا مذاق نہیں جمعیت علمائے اسلام اس کا حل نکالے ۔

جس طرح خلائی مخلوق کسی بھی حملے کو خودکش کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے بعینہ ہم اپنی شکست کو خلائی مخلوق کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے اگر واقعی میں خلائی مخلوق دھاندلی میں ملوث ہے تو تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر اسکا حل نکالے ایکدوسرے کے خلاف خلائی مخلوق سے مدد لینا بند کرے فضول الزام تراشیاں نہ کرے یہ تو تحریک انصاف والی حرکت ہوگئی ۔

جمہوریت کا سب سے تاریک پہلو علی امین گنڈا پور جیسا شخص مولانا فضل الرحمن جیسے شخص کی جگہ عوام کا نمائندہ بن جاتا ہے کمال ہے واللہ ۔
میرے لئیے یہ بات تشویشناک ہے کہ مولانا فضل الرحمن ۔ سراج الحق ۔ محمود اچکزئی ۔ اسفندیار ولی اور آفتاب شیرپاؤ سمیت پوری پشتون لیڈر شپ اب پاکستانی آئین ساز ادارے سے باہر ہوگئے ہیں ۔

بہرحال تحریک انصاف کو جیت مبارک آگے کا سفر دلچسپ ہوگا دیکھتے ہیں تحریک انصاف کیا کرتی ہے گزشتہ پانچ سال جو بویا تھا اسے کاٹنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں