کیا میں قوم پرست ہوں ؟

کیا میں قوم پرست ہوں؟

مصنف : نورالہدی شاہین

قوم ہرستی

کیا میں قوم پرست ہوں

ریاستی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف بات کرنے پر ’’ محب وطن‘‘ دوستوں کو یہ کج فہمی ہوجاتی ہے کہ بندہ قوم پرست ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے جائز مطالبات اور خلائی مخلوق کے ہتھکنڈوں پر بات کرو تو اچکزئی اور باچا خان سے رشتہ داری ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
میرے پاس برسوں سے ایڈ دوست جانتے ہیں۔ لیکن آپ چونکہ نئے نئے آئے ہیں تو یہ بات جان لیں کہ میں مسلکی، مذہبی، لسانی اور صوبائی عصبیت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ آج تک میں نے ایسی کوئی تحریر یا تقریر کی ہو جس میں مسلکی، مذہبی، لسانی یا صوبائی تعصب پایا جاتا ہو تو نکال کر سامنے لائیں۔ میں آپ کے پیر پکڑ کر معافی مانگ لوں گا۔

دوسری بات عوامی نیشنل پارٹی اور اچکزئی ٹولے کا میں روز اول سے شدید ناقد رہا ہوں اور رہوں گا۔ میرے پچھلے برس کی تحریریں نکال کر دیکھ لیجئے آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کرنے سے میں ’’پشتون قوم پرست‘‘ بن گیا ہوں؟

تو بھائیو! میں نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر درجنوں تحریریں لکھی ہیں تو کیا میں ’’ہزارہ قوم پرست‘‘ بن گیا؟؟
ایم کیو ایم کے کارکنان کی پولیس اور رینجرز کی زیر حراست ہلاکت پر بھی حتی المقدور آواز اٹھائی تو کیا آپ مجھے ’’ مہاجر قوم پرست‘‘ قرار دیں گے؟
بلوچستان کے مسنگ پرسنز کے بارے میں بھی بولتا رہا ہوں تو کیا میں ’’ بلوچ قوم پرست‘‘ شمار کیا جاوں گا؟
بلوچستان میں مارے جانے والے پنجاب کے مزدوروں کے لیے بھی آنسو بہائے ہیں۔ تو کیا میں ’’ جاگ پنجابی جاگ‘‘ کا حامی ہوگیا؟؟
فلسطین، کشمیر، افغانستان اور شام میں قتل ہونے والے بے گناہوں کے لیے بھی میرا دل دکھتا ہے تو کیا آپ مجھے فلسطینی، کشمیری، افغان یا شامی ڈکلیئر کریں گے؟

بھائی پی ٹی ایم ہو، ہزارہ برادری ہو یا اوپر ذکر کئے گئے مظلوموں میں سے کوئی بھی۔ آپ ان کے مسائل کو ’’ قوم پرستانہ عصبیت‘‘ کا عینک مت لگائیں، اس کو Humanize کرکے سوچ لیں کہ کیا ایک انسان کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے؟ میں نے تو طے کرلیا ہے جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی چاہے کوئی بھی کرے میں اس کے خلاف آواز اٹھاوں گا۔
اب پتہ ہے مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے ہاں چیف جسٹس کو ماں بہن کی گالیاں دی جاتی ہیں۔ وزیراعظم کے جنسی اسکینڈل اچھالے جاسکتے ہیں۔ صدر مملکت پر سستے لطیفے کسے جا سکتے ہیں اور اس پر سب بیک آواز وہ واہ بھی کرتے ہیں لیکن جیسے ہی فوج کے اوپر معمولی بات بھی کرو تو ایک پورا بریگیڈ ایکشن میں آجاتا ہے گویا بندہ نعوذ باللہ ’’ گستاخی رسولﷺ‘‘ کا مرتکب ہوا ہو۔ آج یہ طے کرلو کہ کیا آرمی نبی ﷺ کی طرح مقدس ہے جس پر تنقید نہیں ہوسکتی؟

رہی بات یہ کہ ’’مقبول بیانیہ‘‘ کے خلاف بات کرکے خود کو متنازع کرنے کی، یا اپنے قارئین کو بدظن کرنے کی تو خدا کی قسم میں اپنی نام نہاد شہرت اور مقبولیت برقرار رکھنے کی خاطر کبھی بھی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ نہیں لکھوں گا۔ اگر مجھے یہ فیس بکی شہرت اتنی عزیز ہوتی تو اپنا ہزاروں فالونگ والا برسوں پرانا اکاونٹ معطل کرکے نئی آئی ڈی نہ بناتا۔ مجھے ہجوم سے ویسے ہی نفرت ہے۔ میرے گرد چار باشعور لوگ ہوں میں ان کے ساتھ کمفرٹ رہتا ہوں۔

اور چلتے چلتے آپ کو بھی مشورہ ہے کہ اگر آپ میرے ساتھ کمفرٹ نہیں تو گالیان دینے اور تلخیاں بڑھانے کے بجائے بخوشی چلے جائیں تاکہ کل کہیں آنکھیں چار ہوجائیں تو کم از کم احترام سے ملیں اور ہاں یہ مت سمجھنا کہ میں تنقید برداشت نہیں کرتا۔ بھائی میں تو گالیاں برداشت کر رہا ہوں تنقید معمولی بات ہے۔ میں ایسا شخص ہوں کہ واہ واہ سے الجھن ہوتی ہے۔ کوئی ایسا ہو جو دلائل سے مجھے کاونٹر کرے، مکالمہ ہو۔ لیکن تنقید اور گالی کا فرق جاننا لازمی ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں