کیا میری طرح آپ بھی محروم ہیں ْ؟

کیا میری طرح آپ بھی محروم ہیں؟

مصنف : نورالہدی شاہین

نورالہدی شاہین

محرمیاں

طویل عرصہ بعد جب گاؤں جانا ہوتا ہے تو روزانہ رات دیر تک اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر پورے سال کے واقعات اور حالات کے بارے میں پوچھتا رہتا ہوں۔ پھر ہم باری باری ہر واقعے پر تبصرہ کرتے ہیں۔ عادت سے مجبور کسی کی غیبت کردی کسی کی تعریف۔

ایک بات ہم سب بہن بھائیوں میں مشترک ہے۔ ہم اپنے اردگرد غربت اور یتیموں کی حالت پر کڑھتے رہتے ہیں۔ اس کے سوا ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ اس بات کا ذکر ہر محفل میں بڑی خوشی سے ہوتا ہے کہ وہ فلاں بندہ جو دو تین سال پہلے بہت ہی مقروض یا مالی طور پر کمزور تھا تھا اب کافی بہتر ہوگیا ہے۔ پھر ہم ان کے ساتھ لوگوں کے رویے ڈسکس کرتے ہیں۔
گاؤں میں کچھ عرصہ قبل ایک آدمی جوانی میں انتقال کر گیا۔ اس کا بڑا بیٹا ان دنوں گاؤں کے اسکول میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا جہاں میرے والد صاحب ہیڈ ماسٹر ہیں۔ وہ بچہ یونیفارم اور اسٹیشنری کا بھی محتاج ہوگیا۔

اتفاق سے ایک دن گاؤں کی دکان میں بیٹھا تھا وہ لڑکا خریداری کے لیے آگیا۔ دکاندار کو میں نے کہا اسکول سے متعلق یہ جتنی بھی خریداری کرے اس سے پیسے نہیں لینا۔ اپنے پاس لکھ کر رکھا کریں۔ کہیں اور سے انتظام کردیں گے۔ پھر دو سال تک ویسا ہی چلتا رہا۔ ادھر اسکول میں ابو نے بھی یونیفارم وغیرہ کے چکر میں اس پر کبھی سختی نہیں کی۔

لڑکا محنتی تو تھا لیکن خاندان میں تعلیم کا رجحان زیادہ نہ ہونے کے باعث اتنا برائٹ اسٹوڈنٹ نہیں بن سکا۔ جیسے تیسے کرکے ساتویں جماعت تک پہنچ گیا اور ساتھ ہی اس کم عمری میں "دہقانی" پر لوگوں کے کھیتوں میں کام کرنا شروع کردیا۔ جب گاؤں میں برف پڑتی وہ محنت مزدوری کے لیے پنجاب کا رخ کرلیتا۔ اس دوران میں بھی کراچی سدھار چکا۔ پھر کوئی خیر خبر نہ پہنچی۔ جب گاؤں گیا بھی تو ملاقات نہ ہوسکی۔

گزشتہ برس میں گاؤں گیا تو ہونڈا 125 موٹر سائیکل پر لمبے بالوں والا ایک گھبرو نوجوان میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ بڑے احترام سے ملا۔ پہلے تو میں کنفیوز ہوگیا۔ پھر غور سے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ وہی "یتیم" ہے۔
رات کو پھر روٹین کے مطابق اپنے سے چھوٹے بھائی سمیع الحق کو لیکر الگ روم میں بیٹھ گیا۔ "غیبت پلس تعریف" سیشن شروع ہوا اور جلد ہی میں نے موضوع " یتیم " کی طرف موڑ دیا۔ تعلیم کے لحاظ سے میں گھر میں سب آگے ہوں لیکن"فوک وزڈم" میں سب سے پیچھے۔ ملکی صورتحال اور حالات حاضرہ پر بریفنگ مجھ سے لیتے ہیں اور گاؤں کے معاملاتِ پر مجھے بریف کرتے ہیں۔ گاؤں میں زیادہ وقت گزارنے کے باعث سمیع الحق کا فوک وزڈم لیول مجھ سے زیادہ ہے لہذاٰ میں بھی اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہوں۔
میں یتیم کا موضوع چھیڑ کر سمیع کی باتیں سننے لگا۔ وہ آدھا گھنٹہ بولا میں چپ چاپ سنتا رہا۔
اس نے اپنی گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر کیا

انسان غریب ہو یا یتیم ہمیشہ محروم نہیں رہتا۔ دن پھیرنے کا وعدہ اللہ نے قرآن میں کر رکھا ہے۔ اللہ نے ان کو کچھ عرصہ کے لیے محروم کرکے ہمیں موقع دیا کہ اس محرومی کا حتی الامکان ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔ ہم نے وہ موقع گنوا کر خود کو محروم کردیا۔ اس محروم کا تو کچھ نہیں بگڑا۔ وہ بھوکا نہیں مرا لیکن ہم اس کی اور اللہ کی نظر میں گر گئے۔ کل کا محروم یتیم آج اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر ہمارے سامنے آتا ہے تو اس سے نظر کیسے ملائیں۔ در اصل محروم وہ نہیں ہم ہوگئے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں