کالا باغ ڈیم

کالا باغ ڈیم

کالا باغ ڈیم

ڈیم

 مصنف : طاہر اکرم

 

پاکستان میں کالا باغ ڈیم منصوبہ ایک تنازع بن چکا ہے۔ دریائے سندھ پر کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ 1953 میں پیش کیا گیا تھا۔ 7 دہائیاں گزرنے کو ہیں لیکن یہ منصوبہ سرکاری کاغذات تک محدود ہے ۔ کالا باغ ڈیم منصوبہ پرویز مشرف نے بھی مکمل کرنے کوشش کی مگر مشرف کے دور میں بھی حالات آج سے مختلف نہ تھے۔
کالا باغ 1973  تک توپانی ذخیرہ کرنے کامنصوبہ رہا لیکن بعد میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور قیمتوں نے ماہرین کو اسے پن بجلی تیار کرنے والے ڈیم میں تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔

ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے کی سرو ے ر پورٹوں پر اب تک حکومت کے ایک ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی ۔آج منصو بہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے اور سیاسی جماعتوں کے ہاتھ لگ گیا۔
ڈیم کے حامی اس کے فوائد بتاتے نہیں تھکتے انکاکہنا ہے کہ اگر ڈیم بن جاتا ہے تو سے چھ اعشاریہ ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائےگی جبکہ اسکے بجلی گھر سے چوبیس ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی فراہم ہوسکے گی۔


صرف یہی نہیں ڈیم سے تربیلا اور منگلا ڈیموں کی زندگی بڑھے گی، سیلابی پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے گا، یعنی سیلاب کے نقصانات سے بچا بھی جاسکے گا اور اسکے علاوہ بجلی بھی سستی فراہم کی جائیگی۔ا س پر آنے والا خرچ 1987 کے اندازے کے مطابق پانچ ارب ڈالر سے زیادہ تھا جوکہ اب شاید 12 ارب سے بھی بڑھ چکاہے۔ 


کالا باغ ڈیم کے فوائد بتانے والے کہتے ہیں کہ منصوبے کا کوئی نقصان نہیں ہے لیکن یہ فارمولاملک کے تین دیگر صوبوں کو قبول نہیں ہے وہ ان فوائدکو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سندھ ، کے پی کے اور بلوچستا ن کی صوبائی اسمبلیاں اس ڈیم کے خلاف ماضی میں بھی کئی متفقہ قراردادیں منظورکرچکی ہیں جس سے اس منصوبے کی شدید مخالفت ظاہر ہوتی ہے۔ 


ڈیم مخالف ماہرین اسے خیبر پختونخوا اورسندھ کے لئے نقصا دہ قرار دیتے ہیں، جہاںتک کے پی کا تعلق ہے اس کے مطابق ڈیم کی تعمیرسے بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گی ، ہزاروں لوگ بے گھر ہوجائیں گے، اراضی سیم و تھور کا شکار ہوجائیگی۔
جنوبی صوبہ سندھ کے اپنے خدشات ہیں۔ اسے ماضی میں پنجاب سے سب سے بڑی شکایت اس کے حصے کا پانی نہ ملنا رہی ہے اور خدشہ ہے کہ ایک اور ڈیم کی تعمیر سے صورتحال مزید خرا ب ہوسکتی ہے۔ بلوچستان کا اگرچہ اس منصوبے سے براہ راست کوئی تعلق تو نہیں لیکن اسکا موقف ہے کہ وہ اپنا پانی صوبہ سندھ سے لیتاہے لہٰذا اسی کے موقف کی تائید بھی کریگا۔


ایسی صورتحال میں جب کا لا باغ ڈیم منصوبے پر کے پی کے سندھ کے قوم پرست عناصر اپنے موقف سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں، اس پر کام کا جلد آغاز ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ ڈیم اتنا سیاسی ہوچکاہے کہ اسے چھونا ایک سیاسی طوفان کھڑاکر سکتاہے جبکہ ملک میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں