نہ کوئی فرشتہ نہ کوئی شیطان

نہ کوئی فرشتہ نہ انسان

تحریر : اویس اختر ابن زکی

فکر

مدارس کی زندگی اتنی سہل نہیں، ہم نے تقدیس کے اِس پاربھی سجدے کے منکر کو دیکھا اور اسی قدر دیکھا جس قدر کسی بھی عام انسان میں ہو سکتا ہے۔ یقین جانیے اگر علمائے دین کو عام انسانوں سے الگ کوئی "مخلوق" خیال کرتے ہیں تو بہت غلطی پر ہیں۔ دین دار بھی اب اتنے ہی دنیا دار ہیں جتنا کہ دنیا دار دین دار ہیں۔

سچ پوچھو تو اس حمام میں سبھی اتنے ہی کپڑوں کے ہیں جتنے کہ کسی بھی اور حمام میں ہیں اور یہاں کی دال میں بھی اتنا ہی کالااور اتنا ہی پیلا ہے جتنا عام لوگوں کی دال میں ہے۔ علمائے دین بھی اسی طرح سے ہیں جس طرح سے کوئی اور برادری۔ یہ بھی انسان ہیں اور انسانوں سے وابستہ انہی تمام خصائل و اوصاف کے مالک ہیں جو کسی بھی اور طرح کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہ احباب بھی جو ہر برائی کا کہرا مدرسے تک کھوج لاتے ہیں اور وہ بھی جو ہر دوا کا دارو منبر ومحراب سے پانے کے خواہاں ہیں وہ یہ جان لیں کہ یہاں نہ کوئی فرشتہ ہے اور نہ کوئی شیطان۔۔۔۔۔ سبھی انسان ہیں۔ چراغ تلے یہاں بھی اتنا ہی اندھیرا ہے کہ جس میں اچھے برے کی پہچان مٹ جاتی ہے اور بہت کچھ خود پر حلال کر لیا جاتا ہے۔

مدارس کی فضا بھی ہماری مجموعی معاشرتی بودوباش کی عکاس ہے یعنی جس کا جہاں تک بس چلتا ہے اپنے اور اپنوں کے عیوب پر پردہ تان کر دوسروں کی اصلاح کے لیے اوزار اٹھائے پھرتا ہے۔ انصاف اور اخلاقیات کے قاعدوں میں یہاں بھی اپنوں کے لیے ویسی ہی گنجائشیں نکال لی جاتی ہیں جیسی میں اور آپ اپنے اپنے دفتروں کی فائلوں اور ضابطوں میں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ یہاں کی چھلنی میں بھی اپنوں کے لیے چھید کھُلے رکھے جاتے ہیں اور غیروں کے لیے تنگ۔ صاحبو سچ ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا اور دوسرےک ی آنکھ کا تنکا بھی گوانر نہیں۔

 

(اویس اختر ابن زکی )

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں