مولا علی کہنا جائز ہے یا نہیں ؟

مولا علی کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟

مصنف : طاہر محمود

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر مسلک کے علماء کے ناموں کے ساتھ جو لفظ "مولانا" لگایا جاتا ہے یہ اصل میں لفظ "مولا" ہی ہے جس کا مطلب (دوست، مددگار، آقا، مالک) کا ہے. "مولا" کے بعد آنے والے "نا" کا مطلب ہے "ہمارا". جیسے بَیْتُنا (ہمارا گھر) یا رَبُّنا (ہمارا رب) ہے. لہذا "مولا علی" کا مطلب ہوا "ہمارا دوست اور مددگار علی" اور "مولانا" کا مطلب ہوا "ہمارا دوست اور مددگار".

اب ذرا سوچنے کی بات ہے کہ اگر چودھویں صدی کے ہر مسلک اور ہر فرقہ کا ایک ایک عالم تو ہمارا مولا اور مددگار ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ صحابی ہمارے مولا کیسے نہیں ہیں. جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کرکے ہم تک دین پہنچایا. جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی جان پر کھیل گئے. اللہ کی رضا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا. دینی مددگار کے معنی میں وہ ہمارے مولا بھلا کیسے نہیں ہیں.

قرآن و سنت میں مولا کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، دوستوں اور مالک وغیرہ کے لیے استعمال ہوا ہے. اس کی وضاحت ملاحظہ کیجیے.

بات صرف اتنی ہے کہ لفظ "مولا" کا استعمال رب، مالکِ حقیقی اور مددگارِ حقیقی (مافوق الاسباب) کے معنوں میں صرف اور صرف الله کے لیے جائز ہے اور ان معنوں میں مخلوق کے لیے اس لفظ کا استعمال شرک اور حرام ہے. جس طرح کہ قرآن میں اللہ کو بھی سمیع و بصیر کہا گیا ہے اور انسانوں کو بھی. مگر صاف ظاہر ہے کہ اللہ اور انسان کے سمیع و بصیر ہونے میں وہی فرق ہے جو خالق و مخلوق میں ہے. یہی معاملہ لفظ مولا کا بھی ہے.

جب یہ لفظ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے استعمال ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ دین کے معاملہ میں ہمارے مددگار ہیں کہ دین کا ایک بڑا حصہ ان کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے. اگر کوئی ان میں الہی صفت مانتے ہوئے انہیں مولا علی کہتا ہے تو پھر یہ شرک اور حرام ہے. کیونکہ بخاری کی حدیث شریف ہے کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے". لہذا مولا علی یا مولانا کہنے کا انحصار کہنے والی کی نیت پر ہے. اگر غلط نیت سے ایک عالم کو بھی "مولا" یا "مولانا" کہیں گے تو ناجائز اور حرام ہو گا.

قرآن میں کئی جگہ یہ لفظ اللہ تعالی کے لیے استعمال ہوا ہے. مثلاً
"وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَوۡلٰىکُمۡ ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَ نِعۡمَ النَّصِیۡرُ" (سورہ انفال:40)
"اور وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا مولا (سرپرست) ہے اور وہ بہترین مولا (حامی و مددگار) ہے.

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے. ابوداود کی ایک روایت ہے جس کو علامہ البانی نے حسن قرار دیا ہے
"أنا مولى من لا مولى له" (جس کا کوئی مولا نہیں تو اس کا میں مولا ہوں.)

مندرجہ ذیل آیت میں "مولا" لفظ "آقا" کے معنوں میں ہے اور مخلوق کیلئے استعمال ہوا ہے.

﴿ وَضَرَ‌بَ اللَّـهُ مَثَلًا رَّ‌جُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ‌ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ‌ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَن يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ 76﴾ ۔۔۔ سورة النحل
اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مولا (مالک) پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں لاتا. کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟

اسی طرح ایک معروف صحابی سیدنا سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ، معروف تابعی امام نافع مولیٰ ابن عمر ہیں، نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"مولى القوم من أنفسهم"(صحيح البخاري: 6380)
"کسی قوم کا (آزاد کردہ) غلام انہی میں سے ہوتا ہے"
یہاں مولا غلام کے معنوں میں ہے.

اسی طرح دوست کو بھی مولا کہہ دیتے ہیں. جیسا کہ فرمانِ باری ہے:
﴿ يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ 41 ﴾سورة الدخان
اس دن کوئی مولا (دوست) کسی مولا (دوست) کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی.

مندرجہ ذیل آیت میں مولا کا لفظ خالق اور مخلوق دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے.
﴿ وَإِن تَظَاهَرَ‌ا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِ‌يلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ‌ 4 ﴾ سورة التحريم
اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کارساز اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک اہل ایمان اور ان کے علاوه فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "انت اخونا ومولانا" (تم ہمارے بھائی اور مولیٰ (دوست) ہو.)
صحيح بخاری:4296)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : "من كنت مولاه فعلي مولاه (جس کا میں مولیٰ ہوں، تو علی (رضی اللہ عنہ) اس کا مولیٰ مولا ہے.)
(ترمذی:4078)
(اس کی سند ثابت ہے. علامہ ناصرالدین البانی اور زبیر علی زئی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے.)

یہاں پر بھی مولیٰ کا لفظ صرف مخلص دوست اور دینی مددگار کے معنوں میں استعمال ہوا ہے. یعنی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھے گا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی ضرور محبت رکھے گا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحیح مسلم کی ایک روایت میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کو مولیٰ (بمعنی آقا) کہنے سے منع فرمایا ہے۔
ولا يقل العبد لسيده مولاى ... فإن مولاكم الله عز وجل (غلام اپنے آقا کو مولیٰ نہ کہے ۔۔۔ کیونکہ تمہارا مولیٰ اللہ عز وجل ہے ۔)
(صحیح مسلم:6013)

خلاصہ یہ کہ لفظ مولیٰ کا اطلاق غیر اللہ کیلئے اسی وقت ناجائز ہوگا جب اس سے مراد خالقِ حقیقی، مالکِ حقیقی اور مددگار مراد لیا جائے. لہٰذا اللہ کے سوا کسی کے لیے بھی مولا کا لفظ بمعنی حقیقی آقا یا مالکِ حقیقی استعمال نہیں کیا جا سکتا. مخلوق کے لیے مولیٰ (مولا) کے لفظ کا استعمال صرف دوست، غلام یا ماتحت الاسباب مددگار کے معنوں میں ہی کیا جا سکتا ہے.
واللہ اعلم بالصواب

طاہر محمود

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں