مشتاق احمد یوسفی اقوال و اقتباسات

مشتاق احمد یوسفی کی کتابوں سے منتخب اقوال اور اقتباسات

یوسفی

مشتاق احمد یوسفی

مشتاق احمد یوسفی کی مختلف کتابوں سے منتخب اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ یہ اقتباسات مختلف ذرائع سے لی گئی ہیں اس لیے الفاظ اور جملوں میں تبدیلیوں کا امکان موجود ہے اس کے علاوہ مشکل الفاظ کے بجائے آسان الفاظ میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

میرا تعلق تو اُس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بُزرگوں کی دُعاؤں سے پیدا ہوتے ہیں۔

کہتے ہیں بیماری جان کا صدقہ ہوتا ہے لیکن ہمارے لیے تو یہ صدقہ جاریہ ہوگیا ہے۔

ہمارے ہاں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے اس لیے سو برس سے یہ فن کوئی ترقی نہ کر سکے۔

انسان کو موت ہمیشہ قبل از وقت اور شادی ہمیشہ بعد از وقت معلوم ہوتی ہے۔

اکثر اوقات بے تحاشا جی چاہتا ہے کہ کاش ہم بھی مرحوم ہوتے تاکہ یمارا ذکر بھی اتنے ہی پیار سے ہوتا۔

خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی۔

خلق خدا کی زبان کس نے پکڑی ہے ؟
لوگوں کا منہ تو چہلم کے نوالے سے ہی بند ہوتا ہے۔

میں کوئی آوارہ یا بدمعاش تو نہیں لیکن جب بھی کسی حسینہ کے متعلق سنتا ہوں کہ شریف بھی ہے تو جانے کیوں دل بیٹھ بیٹھ سا جاتا ہے۔

کسی نے مجھے بتایا کہ کافی پینے سے دل کا کنول کھل جاتا ہے۔ آدمی کا چہرہ چہکنے لگتا ہے۔
میں بھی اس رائے سے متفق ہوں کوئی بھی معقول آدمی کافی پی کر اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتا۔

میں ہر کافی پینے والے کو جنتی سمجھتا ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو لوگ عمر بھر ہنسی خوشی یہ عذاب جھیلتے رہے ان پر دوزح اور حمیم حرام ہے۔

ہر آزاد قوم کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے منہ اور معدے کے ساتھ جیسا سلوک چاہے ، بے روک ٹوک کرے۔

شائستہ آدمی کی پہچان یہ ہے کہ آپ اسے اپنا مرض بتا دیں اور وہ آپ کو کوئی دوا تجویز نہ کرے۔

پاکستانی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔

بناؤ سنگھار ہر عورت کا حق ہے بشرطیکہ وہ اسے فرض نہ سمجھ لے۔

مردوں کے بارے میں ایک قبرصی کہاوت ہے کہ لومڑ کے منہ میں جب تک ایک بھی دانت باقی ہے وہ پارسا نہیں ہو سکتا۔

محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے

مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے۔

صرف ننانوے فیصد پولیس والوں کی وجہ سے باقی پولیس والے بدنام ہیں۔

عورت کا میک اپ اور پٹھان کا نسوار ختم ہوجائے تو دونوں پاگل ہوجاتے ہیں۔

سمجھدار آدمی ہمیشہ نگاہیں نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے۔

بعض جانوروں کو دم محض اس لیے دی گئی یے کہ دکھیا کے پاس دبا کر بھاگنے کے لیے کچھ تو ہو۔

جوان لڑکی کی ایڑی میں بھی آنکھیں ہوتی ہیں۔ وہ چلتی ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ پیچھے کون کیسی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔

آدھا بیٹ ٹوٹ جانے کے بعد بھی کرکٹ جاری رہے تو امریکہ میں اسے بیس بال کہتے ہیں۔

ہم نے کبھی کسی مولوی کا ہارٹ فیل ہوتے نہیں سُنا، پہلی وجہ تو یہ کہ مولوی کبھی ورزش نہیں کرتے- دوسری یہ کہ سادہ غذا اور سبزی سے پرہیز کرتے ہیں۔

ہم نے آج تک کوئی لاغر مولوی نہیں دیکھا ۔

انسان کو حیوانِ ظریف کہا گیا ہے۔
لیکن یہ حیوانوں کےساتھ بڑی زیادتی ہے۔ دیکھا جائے تو انسان واحد حیوان ہےجو مصیبت پڑنے سے پہلے مایوس ہوجاتا ہے۔

کتوں کی پیدائش کا واحد مقصد یہ تھا کہ پطرس ان پر ایک شاہکار مضمون لکھیں۔ اور یہ مقصد عرصہ ہوگیا ہے پورا ہو چکا اس لیے اب اس نسل کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔

پھبتی سے آدمی لاجواب تو ہو جاتا ہے مگر قائل نہیں ہوتا۔

بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے آدمی وہاں خارش کرے جہاں نہ ہو رہی ہو -

تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں۔

مردانگی تو یہ ہے کہ آدمی عرصہ تک عمدہ غذا کھائے اور شرافت کے جامے سے باہر نہ ہو۔

جتنی گالیاں ہمیں یاد تھیں وہ سب ہم نے اپنے بزرگوں اور ماسٹروں سے سیکھی تھیں۔

سانپ کا زہر کینچلی میں ، بچھو کا زہر دم میں ، بھڑ کا زہر اس کے ڈنک میں اور پاگل کتے کا زہر زبان پر ہوتا ہے لیکن انسان وہ واحد جانور ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔

 

جمع و ترتیب : رحیم بلوچ

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں