عہد یوسفی تمام ہوا مشتاق احمد یوسفی ہم میں نہیں رہے

عہد یوسفی تمام ہوا ، مشتاق احمد یوسفی ہم میں نہیں رہے۔

تحریر : رحیم بلوچ

مشتاق احمد یوسفی سے میرا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب اردو محفل فورم پر ان کا مضمون ’’ کافی ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ فیس بک پہ مشتاق احمد یوسفی کے اقتباسات پڑھنے کو ملتے تھے لیکن مکمل مضمون پڑھ کر مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہے۔ اس سے پہلے میں ان گھسے پٹے بے بیہودہ لطیفوں کو مزاح سمجھتا تھا۔ مجھے لگا کہ یہ تو عام سی تحریر ہے جس کے بیچ میں چند مزاحیہ جملے ہیں۔ اس میں لطیفے تو نہیں ہیں پھر کیوں لوگ اسے مزاح کہہ رہے ہیں ؟

مضمون پڑھتے وقت کچھ باتیں سر سے اوپر گزر گئیں ، میں بور بھی ہو رہا تھا لیکن اسے ادھورا چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ پڑھنے میں ایک عجیب لطف محسوس ہو رہا تھا بار بار لبوں پہ مسکراہٹ پھیل جاتی تھی۔

مضمون پڑھنے کے بعد میں نے ان کے بارے میں سرچ کیا ان کی بائیو گرافی اور کتابوں کے نام جاننے کے بعد میں کتابوں کے نام سرچ کر کے ان کے مضامین پڑھنے لگا۔ ایک ہفتے کے اندر انٹرنیٹ پر موجود ان کے تمام مضامین پڑھ لیے ۔ یہ مضامین اردو محفل فورم پہ اب بھی موجود ہیں اگر آپ اردو میں سرچ کریں گے تو اردو محفل پر آپ کو اچھا خاصا مواد مل جائے گا۔

اس کے بعد میں نے ان کی کتابیں پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کیں۔ پہلی کتاب چراغ تلے پڑھی۔ پڑھتے پڑھتے اچانک ہنسی نکل آتی گھر والے گھورنے لگتے تھے۔ چراغ تلے کے بعد خاکم بدہن پڑھنے کا اتفاق ہوا خاکم بدہن کا ذائقہ چراغ تلے سے تھوڑا مختلف تھا۔ جب آب گم کی باری آئی تو اس کتاب نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ آب گم پڑھ کر کبھی رونے کے قریب ہوتا تو اچانک کوئی ایسا جملہ آتا کہ بے اختیار ہنسی نکل آتی۔ آب گم ایک شاہکار ہے اور مشتاق احمد یوسفی نے خود اپنا پسندیدہ کتاب قرار دیا ہے ۔

مشتاق احمد یوسفی کو پڑھ کر شعور کی کھڑکیاں کھلنے لگیں۔ ایک جگہ انہوں نے کچھ اس طرح کا جملہ لکھا کہ کسی زمانے میں عورتیں باقی تمام مردوں کا نام لے سکتی تھیں سوائے اپنے خاوند کے۔ اپنے خاوند کا نام لینا بے حیائی میں شمار ہوتا تھا۔ یہ جملہ پڑھ کر مجھے بہت ہنسی آئی کیونکہ ہمارے ہاں بلوچوں میں آج بھی عورتیں خاوند کا نام نہیں لیتیں اور کبھی میرا ذہن اس پہلو پر نہیں گیا حالانکہ صورت حال اس کے برعکس ہونا چاہیے۔

آب گم کے بعد ان کی کتاب زرگزشت پڑھی جس میں انہوں نے اپنی بینکنک کیریئر کا تذکرہ کیا مزاحیہ انداز میں کیا ہے۔ اس میں تھوڑا سا رومانس بھی شامل ہے ، مثال کے طور پر ایک ماڈرن لڑکی طرف اشارہ کر کے لکھتے ہیں کہ ’’ لباس ایسا کہ شیرخوار بچہ بھی دیکھ کر بلک اٹھے ‘‘۔ اب ذرا اس جملے پر غور کریں کہ کس قدر معترضہ جملہ ہے لیکن انہوں نے اس طریقے سے بیان کیا ہے کہ غصے کے بجائے ہنسی آتی ہے۔ اگر یہ جملہ عام لفظوں میں بیان کیا جائے کہ اس لڑکی کی چھاتیاں نظر آ رہی تھیں تو کس قدر ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔

کبھی کبھی وہ انسانی رویوں اور معاشرتی نا ہمواریوں پر بے دردی سے ضرب لگاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ سانپ کا زہر کینچلی میں ، بچھو کا زہر دم میں ، بھڑ کا زہر اس کے ڈنک میں اور پاگل کتے کا زہر زبان پر ہوتا ہے لیکن انسان وہ واحد جانور ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی اپنے ارد گرد کے ماحول پر لکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر خاص و عام میں مقبول ہیں۔ وہ اس معاشرے کے تاریک پہلو اپنے کمال فن سے اس طرح اجا گر کرتے ہیں کہ بقول ان کے آگ بھی لگے اور کوئی انگلی بھی نہ اٹھا سکے کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ؟
مشتاق احمد یوسفی کو پڑھنے والا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا وہ کچھ نہ کچھ حاصل ضرور کرتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کو پڑھ کر مزاح کا مطلب اور مقصد دونوں سمجھ میں آتے ہیں اور یہی وہ کمال فن ہے جو انہیں دوسرے مزاح نگاروں سے ممتاز کرتا ہے اور ابن انشا جیسے مزاح نگار کو لکھنا پڑتا ہے کہ ’’ ہم طنز و مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں ‘‘

مگر افسوس کہ طنز و مزاح کا یہ دور آج مورخہ بیس جون دوہزار اٹھارہ کو اپنے اختتام پر پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مشتاق احمد یوسفی کی تمام کتابیں ڈاؤن لوڈ کریں

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں