روزے کی مشق

روزے کی مشق

تحریر : طاہر محمود

تمضان

ہم گاڑی پر سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہے ہوتے ہیں. اچانک سامنے کوئی گاڑی، بندہ یا گڑھا وغیرہ آ جاتا ہے. ہم فورًا بریک لگاتے ہیں، گاڑی فورًا رک جاتی ہے اور ایک حادثہ ہونے سے بچ جاتا ہے.

جب ہم ڈرائیونگ سیکھ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں کسی کے سامنے آئے بغیر بھی خالی سڑک پر بھی بار بار بریک لگوائی جاتی ہے تاکہ ہماری بریک لگانے کی مشق اور عادت ہو جائے اور جب سچ مچ کوئی سامنے آ جائے تو ہمیں بریک لگانے میں کوئی مشکل یا جھجک پیش نہ آئے.

اسی طرح ایک اچھی گاڑی وہ ہے جس میں دو اہم ترین خصوصیات پائی جاتی ہوں. ایک تو وہ بہت تیز دوڑ سکتی ہو. دوسرا یہ کہ جب ہم بریک لگائیں تو فورً‌ا رک جائے. اگر اول الذکر صفت کمزور ہو گی تو گاڑی منزل تک پہنچنے میں دیر لگائے گی. لیکن اگر گاڑی دوسری صفت سے محروم ہوئی تو کبھی منزلِ مقصود تک پہنچ ہی نہیں پائے گی اور راستے میں ہی کسی گڑھے میں پڑی ہو گی یا اپنے ساتھ ساتھ کسی اور کی منزل بھی کھوٹی کر دے گی.

اسی طرح انسان کے اندر دو بڑی خصوصیات پائی جاتی ہیں. پہلی خصوصیت "کچھ کرنے کا جذبہ اور نفسانی قوت" ہے. یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک گاڑی کی سو کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھاگنے کی رفتار.

انسان کی دوسری اہم صفت "اس پہلی صفت کو قابو کرنے کی صلاحیت" ہے. جیسا کہ ایک گاڑی میں بریک لگانے کی صفت ہوتی ہے.

روزہ اسی بریک کے استعمال کی مشق کرنے کا نام ہے. جس طرح مشق کے دوران گاڑی کو بغیر کسی کے سامنے آئے بھی بار بار بریک لگائی جاتی ہے تاکہ بوقت ضرورت بریک لگانے کی خوب اچھی طرح عادت بن جائے. اسی طرح روزے کے دوران حرام تو حرام، حلال سرگرمیوں سے بھی سارا دن بار بار روکا جاتا ہے تاکہ جب حرام سامنے آئے تو اس سے رکنا بالکل آسان ہو جائے.

میں نے آزمایا ہوا ہے کہ انسان جس کام سے پورے رمضان میں رکنے کا عادی ہو جائے تو اس کے لیے اس کام سے غیر رمضان میں رکنا بہت آسان ہو جاتا ہے. لیکن یہ فوائد اسی صورت میں حاصل ہوتے ہیں جب رمضان کو اس کے ظاہری و باطنی حقوق کے ساتھ بسر کیا جائے.

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں