خدیجہ صدیقی اور چیف جسٹس بابا رحمتے

خدیجہ صدیقی اور چیف جسٹس بابا رحمتے

مصنف : طاہر اکرم

Khudija siddiqui

خدیجہ صدیقی

افسوسناک بات ہے کہ پاکستان میں سیاست کی طرح عدلیہ کا رویہ بھی انتہائی افسوسناک، جانبدارانہ رہا ہے۔ برطانیہ کے عظیم لیڈر چرچل نے عالمی جنگ کے دوران کہا تھا کہ اگر برطانوی عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو پھر برطانیہ کی آزادی کو دنیا کی کوئی طاقت سلب نہیں کر سکتی۔ عدلیہ ریاست کا بنیادی اور مرکزی ادارہ ہوتا ہے جس نے دوسرے ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کے مطابق چلانا ہوتا ہے۔ عدلیہ کے جج مصلحت یا حرص و ہوس، ناانصافی، اقربا پروری، بے حسی کا شکار ہوجائیں تو حکمران، وڈیرے، جاگیر دار، بدمعاش لوگ من مانیاں کرنے لگتے ہیں۔

جس کے اثرات آج کل ہمارے معاشرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ لاہور میں ایک جج کے چہیتے نے اپنی ہم جماعت طالبہ خدیجہ کو شادی سے انکار پر سرعام چھریوں کے وار کرکے زخمی کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کو شک کی بنا پر بری کر دیا۔ ملزم بلکہ میں کہوں گا مجرم نے یہ کام کوئی ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کھلے عام کیا تھا۔ طالبہ نے اس حوالے سے نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جج نے اسے کمرے میں بلایا اور کہا کہ آپ صلح کر لیں، کیوں کہ پاکستان میں تو لوگ بڑے بڑے کیسز میں صلح کر لیتے ہیں آپکا کیس تو معمولی سا ہے۔

ایک جج پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسکا ایک فیصلہ مجرم کو بے گناہ، بے گناہ کو مجرم بنا دیتا ہے۔ پاکستان میں یہ روایت شروع سے چلی آرہی ہے، لوگوں کا عدالتوں سے اعتبار اٹھتا چلا جارہا ہے۔ شاید 1975 کی بات ہے جب بنگالی گلوکارہ شبنم کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا کیس سامنے آیا اور فوجی عدالتوں نے مجرم کو سزائے موت بھی سنا دی لیکن اسکے باوجود مجرم کو آزاد کر دیا گیا۔ موجودہ وقت یا ماضی میں کوئی فرق نہیں، مطلب کوئی بہتری نہیں آئی۔ لوگ انصاف کیلئے ساری عمر دھکے کھاتے ہیں، اثر و رسوخ والوں کیلئے عدالتیں، قانون کوئی معنی نہیں رکھتے، ان میں صرف عام لوگ پستے ہیں۔

موجودہ چیف جسٹس صاحب نے بھی متعدد معاملوں پر سوموٹو لیا لیکن شاید وہ سب کے منہ کے فائر تھے، کسی ایک حکم پر بھی عمل نہیں کرایا گیا۔ خدیجہ کیس پر لاہور ہائیکورٹ نے صرف اسلئے اندھا فیصلہ کر دیا کہ وہ ایک جج کا بیٹا تھا، یعنی جج، یا کسی جاگیر دار، وڈیرے کی اولادیں شاید کسی دوسری دنیا سے آئی ہیں، جس نے معصوم لڑکی کے گلے، جسم کے باقی حصوں پر23وار کئے اور لیکن لاہور ہائیکورٹ نے شاید یہ نہیں سوچا کہ اس اندھے فیصلے کا عوامی رد عمل کیا ہوگا۔

جب کسی معاشرے میں انصاف نہیں رہتا تو وہاں پھر بد امنی، خون خرابہ بڑھ جاتا ہے، ایسے درجنوں واقعات آپ کو بھی دیکھنے کو ملے ہونگے، فلاں شہر میں احاطہ عدالت میں کمسن نے دو ملزمان پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا تو کہیں پر ایسی خبریں بھی نظروں سے گزری ہیں کہ جیل سے بری ہونے والا ملزم قتل، جب عدالتیں انصاف نہیں دیں گیں تو لوگ خود فیصلے کیلئے اٹھ کھڑے ہونگے۔ کسی بھی جج سے عہدے سے قبل حلف لیا جاتا ہے جسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام فیصلے غیر جانبدار اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں لیکن آج جج صاحبان حلف کی بھی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے خدیجہ کیس کا بھی از خود نوٹس تو لیا ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی انصاف مل پائے گا یا پھر یہ بھی دیگر سوموٹوز کی طرح مٹی میں مل جائیگا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں