حلوائی اور قلم کار

حلوائی اور قلم کار

مصنف : نورالہدی شاہین

حلوائی

قلم کار

ایک ہوتا ہے حلوائی جو ہر گاہگ کی ڈیمانڈ اور ہر موسم کے مناسبت سے مال آرڈر پر تیار کرتا ہے۔ ایک ہوتا ہے آپ کا ذاتی ملازم جس کو آپ جو کام کرنے کو بولیں۔ کوئی ٹاسک دیں۔ جس کام سے روکیں وہ آپ کی ہدایات پر عمل کرے گا۔ ایک ہوتا ہے آپ کا بیٹا یا بیٹی جس پر آپ پابندی لگا سکتے ہیں کہ کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں۔ ایک ہوتا ہے وظیفہ خور قلم کار جو اپنی پارٹی اور آقا کے حکم کا پابند ہے کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں۔ ایک ہوتا ہے ایجنڈا ڈرائیوڈ سوشل اکٹویسٹ۔ اس کو آپ جو ایجنڈا دیں اس کی اکٹویزم اسی ایجنڈے کی گرد گھومتی ہے۔ ایک ہوتا ہے "پاکستان کا اندھا اور ذہنی غلام سیاسی کارکن" جس کو اپنے لیڈر کی بھینس کا گوبر بھی گاجر کا حلوہ لگتا ہے۔

اور ایک ہوتا ہے ضمیر کا قیدی باشعور فرد جو اپنے شعور کی بنیاد پر صحیح اور غلط کا فیصلہ کرکے جس بات کو صحیح سمجھتا ہے اس کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے لازمی نہیں کہ وہ صحیح ہو۔ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن آپ اس کو حلوائی سمجھ کر اپنے مطلب کا مال تیار نہیں کروا سکتے۔ اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی سمجھ کر پابند نہیں کرسکتے کہ کس سے ملنا ہے کس سے نہیں۔ آپ اس کو زیادہ مال دے کر اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کروا سکتے۔ نہ ہی آپ اس کو اپنے سیاسی لیڈر کے گوبر کو گاجر کا حلوہ تسلیم کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔

اگر وہ غلط ہے تو آپ اس کو صرف اور صرف دلائل کی بنیاد پر اپنا ہمنوا بنا سکتے ہیں لیکن ہمارے ہاں سب سے بڑی دلیل "ماں بہن" ہیں۔ ہم لوگوں کی ماں بہن ایک کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی رائے تبدیل کرکے ہمارا ہمنوا بن جائے گا لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ جو بندہ آج آپ کے دلائل غور سے سن رہا ہے اور آپ نے دلیل کے بجائے "ماں بہن" کارڈ کھیل لیا تو آپ نے اپنے دلائل کا راستہ بھی بند کردیا۔ کل وہ آپ کے دلائل پر بھی کان نہیں دھرے گا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں