جزاکم الله خیرا و احسن الجزاء

جزاکم الله خیرا و احسن الجزاء

تحریر : سیٹھ وسیم طارق

وسیم طارق

سن 2007ء میں مڈل بغیر امتحان کے پاس کرنے کے بعد آگے داخلہ لینے کا سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ایک دوست جو کہ کلاس فیلو بھی تھا نے آکر مجھے بتایا کہ وسیم میں آگے پڑھنے کیلئے ڈسکہ کے قریب سیالکوٹ روڈ پہ ایک سکول ہے وہاں داخلہ لینے لگا ہوں۔ بہت اچھا سکول ہے اور ساتھ دینی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ میں نے اس کی بات پہ واہ بھئی کے الفاظ ادا کیے اور گھر لوٹ آیا اور گھر آ کر ابو کو بتایا کہ وہ جو ماسٹر جی کا بیٹا ہے ناں وہ آگے پڑھنے کیلئے ڈسکہ جا رہا ہےکوئی ادارہ ہے جامعہ امام بخاری کے نام سے وہاں پہ ۔۔۔ میں نے بھی وہاں ہی داخلہ لینا ہے۔ میری بات سن کر ابو جی بولے بیٹا کوئی مسئلہ نہیں ہے یہ اپنے ماسٹر برکت جی کا بیٹا وہاں پہ پرنسپل ہے وہ جب بھی گاؤں آیا تو اس سے تمہارے داخلے کی بات کر لو گا۔ اگلے دن سکول میں سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے گیا تو میں نے اپنے دوست کو خوشی خوشی بتایا کہ میں بھی وہیں داخلہ لینا چاہتا ہوں اور ہاں ایک بات اور سر نصرت صاحب جو کہ ہمارے گاؤں کے ہیں ناں وہ وہاں پر پرنسپل ہیں۔ اس ہفتے انہوں نے آنا ہے تو ان سے داخلے کے متعلق ساری معلومات لینی ہے۔

اگلے ہفتے سر نصرت صاحب گاؤں آئے تو شام کو ابو جی نے ان کو چائے کی دعوت پہ گھر بلا لیا۔ بات چیت ہوئی انہوں نے کچھ سوالات کیے جن کے میں نے تسلی بخش جواب دے دئیے ۔ تب انہوں نے مجھے داخلے کی نوید سنائی ۔ چنانچہ اگلے دن میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ وہاں پہ داخلہ لینے کی غرض سے چلا گیا۔ الحمد اللہ داخلہ ہو گیا۔ یکم جولائی کو کلاسسز کا آغاز ہونا تھا۔ ہم گھر واپس لوٹے اور ہکم جولائی کو بوریا بستر لیکر جامعہ امام بخاری اپنی نئی اننگز کا آغاز کرنے کیلئے پہنچ گئے ۔ یہاں پہ پہنچ کر اور لوگوں میں گھل مل کر میری جس حیرانی میں اضافہ ہوا وہ یہاں کا ماحول تھا کہ سب کے سب لوگ بااخلاق اور بھائی جان سے کم لفظ پہ وہ کسی کو بلاتے نہ تھے۔ ہم ٹھہرے پینڈو گاوں میں آپس میں ایک دوسر ے کو بلانے کیلئے اگر کسی کاکوئی الٹا نام نہیں ہوتا تھا تو پھر اس کو ایک عدد گالی کے ساتھ اوئے کہہ کر بلاتے تھے۔ جس کو سن کر وہ بنا اپنے منہ کے تیور بدلے ہماری بات سننے آجاتا تھا۔ یہی حال ہمارا تھا ہمارا تو خیر الٹا نام تھا اس لیے گالی سننے کی کبھی نوبت نہیں آءی۔ وہ علیحدہ بات کے ہے کرکٹ کھلیتے ہوئے اگر کیچ چھوٹ جاتا تو سن کر ان سنی کر دیتے تھے۔

یہاں پہ تو کھلیتے ہوئے بھی ڈسپلن کا مظاہرہ کر تے تھے۔ ڈیڑھ ایکڑ کی گراونڈ میں بڑوں کے کھیلنے کی علیحدہ جگہ تھی اور چھوٹے لڑکوں کی علیحدہ اس کے علاوہ تین چار لوگ دو اینٹ کی مسجد کی طرح اسی گراونڈ میں علیحدہ جگہ بنا کر کھلیتے تھے۔ اب اسی بھگدڑ میں کسی کو گیند لگ جاتی تو وہ اٹس اوکے والا تاثر دکھاکر اپنے کھیل میں مصروف ہو جاتا۔ گراوند کے ارد گرد چار فٹ کی اونچی دیوار بطور باونڈری بنی تھی۔ جو کہ ہمارے براجمان ہونے کی موزوں جگہ تھی۔ ایک دن بیٹھا ہوا میں اپنے گاوں کی یادوں میں مگن تھا کہ ایک گیند ہماری طرف آتی دکھائیدی۔ گیند میرے اوپر سے ہوتی ہوئی ساتھ والے کھیت میں چلی گئی میں جلدی سے اٹھا اور کھیت سے گیند پکڑ کر گراونڈ میں موجود بھائی صاحب کی طرف پھینکی۔ گیند پکڑ کر الٹے پاوں ہوتے ہوتے اس نے جزاک اللہ کے الفاظ ادا کیے اور واپس  کھیل میں مصروف ہو گیا۔ میں یہ الفاظ سنے تو پریشان ہو گیا کہ کیسا بندہ ہے بجاءے شکریہ ادا کرنے کے پتا نہیں کیا بول کے چلا گیا ہے۔ اگلے دن کلاس میں ایک لڑکے نے مجھ سے اضافی پین مانگا ۔ بستہ سے پین نکال کر میں اس کے ہاتھوں میں تھمایا تو اس نے بھی نارمل انداز میں جزاک اللہ کہا اور جا کر اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔

سکول کے بعد نماز ظہر باجماعت ادا کی اور لنچ کرنے کے بعد ہاسٹل پہنچے تو میں قیلولہ ( دوپہر کے وقت آرام کی غرض سے کچھ دیر کیلئےسونا) کرنے کیلئے اپنے بستر پہ ابھی لیٹا ہی تھا کہ ایک دوست نے بھائی جان کے الفاظ کے اضافے کے ساتھ میرا نام پکارا اور ساتھ پانی مانگا۔ میں بلا تکلف اٹھا جگ گلاس لیکر میس میں لگے  فلٹر سے پانی بھر کے لا کے بھائی کو پلا دیا۔ جب اس نے پانی پی لیا تو تب اس نے لیٹتے لیٹتے جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والاخرۃ کے الفاظ  بآواز پڑھے اور سو گیا۔ مجھ جیسے عربی سے نابلد انسان کیلئے صرف جزاک اللہ کے الفاظ کم نہ تھے کہ اس نے تو پوری آیت جتنے الفاظ کہہ دءیے تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی اس کا مطلب کیا ہے جو آپ نے ابھی ادا کیے ہیں۔ اس نے اٹھ کر مجھے اس کے معانی و مفہوم سے آگاہ کیا تو پھر تب مجھے ان تمام لوگوں کی محبت اور عادت کو دیکھ خوشیہوئی جنھوں نے اس سے پہلے مجھے یہ الفاظ کہے تھے۔

شروع شروع میں پے درپے میری گالی نکالنے کی شکایات اور ان کے ازالے کے بعد اب میں ان لوگوں میں گھل مل گیا تھا۔ کلاس نہم کے اختتام پہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ مجھے بہت سی دعائیں، پہلے سپارہ کا بامحاورۃ اور لفظی ترجمہ کے ساتھ ساتھ عربی گرائمر کی بھی سوجھ بوجھ ہو گئی تھی۔ اب ایسے الٖفاظ سننے اور بولنے کا میں بھی عادی ہو گیا تھا۔ میں بھی بلا تکلف بولنے لگ گیا تھا۔ نہم کے بعد میں جب چھٹیوں میں اپنے گاوں واپس آیا ( ویسے بھی ہر ہفتہ آیا جایا کرتا تھا) تو جب میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ کھیلنے گیا تو مجھے ان کی بلانے کے طریقہ میں رہ رہ کے غصہ آ رہا تھا۔ اور میں پیار سے ان کو ایسا نہ بولنے کا کہتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے انہوں نے اپنی حلقہ سے ناک آؤٹ کر دیا۔

اللہ اللہ کر کے چھٹیاں ختم ہوئیں اور میں اپنا بیگ لیکر واپس جانے کی غرض سے قریبی قصبہ کے بس سٹاپ پہ بس کے انتظار میں آ کے کھڑا ہو گیا۔ ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا ایک باریش قریب البزرگ آدمی نے میرے پاس آکر اپنے موٹرسائیکل کی بریک لگائی اور لفٹ دینے کی آفر کی۔ میں ایک منٹ اس کی آفر اور اپنے ابو جی کی نصیحت ( کہ انجان لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا) اور بس کے لیٹ ہو جانے والے معاملے کو پرکھا۔ ایک منٹ بعد میں اس آدمی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ دوران راستہ انہون نے مجھے بتایا کہ میں روازنہ علی پور سیداں سکول پڑھانے جاتا ہوں اور پسرور کا رہائشی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں روزانہ آتے جاتے کسی نہ کسی کو لفٹ کی آفر کرتا ہوں کیوںکہ جانا تو میں نے ہے ہی۔ پٹرول بھی اتنا ہی لگنا ہے تو پھر اگر اس سے کسی کا بھلا ہوتا ہے تو اچھا نہیں ؟؟ میں نے جوابا کہا کہ جی بہت اچھی بات ہے ماشاء اللہ ۔ پسرور پہنچ کر انہوں نے مجھے اتار دیا اور میں نے عادتا اور بے تکلفی میں جزاکم اللہ خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ ادا کیے اور بس سٹاپ کی طرف پیدل چل دیا۔
بیٹا بات سنو    !  میں واپس پلٹا اور کہا جی سربتائیں ۔
کہنے لگے یہ جو ابھی آپ نے الفاظ ادا کیے ہیں یہ کیوں ادا کیے ہیں؟؟  تم مجھے شکریہ اور تھینک یو بھی کہہ سکتے تھے۔
میں نے کہا کہ جی یہ الفاظ عادتا کہے ہیں۔ میں جس ادارہ میں پڑھتا ہوں وہاں سے یہ عادت پڑ گئی ہے۔

تم کہان پڑھتے ہوں بیٹا ؟؟

جی میں جامعہ امام بخاری ڈسکہ سیالکوٹ روڈ موترہ میں پڑھتا ہوں۔ وہاں پہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے جس میں درس نظامی کا کورس شامل ہے۔

بیٹا بہت خوشی ہوءی مجھے یہ جان کر ایک ایسا ادارہ بھی ہے کہ جہاں پہ آپ جیسے بچے پڑھتے ہیں۔ بطور استاد مجھے تمہاری ایسی تربیت دیکھ بہت خوشی ہوئی ہے۔ تم نے بہت پیارے الفاظ میں میرا شکریہ ادا کیا ہے۔ اللہ کریم تجھے اور تیرے ادارہ کو کامیاب کرے ۔ آمین۔

میں اس آدمی کی ڈھیروں دعائیں سمیٹتے ہوئے خوشی خوشی ادارے میں پہنچا۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں