درست تلفظ  اردو زبان و بیان سیریز از محمد فیصل شہزاد

درست تلفظ

 اردو زبان و بیان سیریز از محمد فیصل شہزاد

آج تلفظ پر بات کریں گے۔ اس سے پہلے درست تلفظ کے حوالے سے صرف ایک قسط آئی ہے جس میں صرف چار الفاظ کا درست تلفظ بتایا گیا تھا۔ آج ہم مزید الفاظ کا تلفظ درست کریں گے، جو اب بڑے پیمانے پر غلط تلفظ کے ساتھ بولے جا رہے ہیں!
1۔ تلاوت. عموماً ت پر زبر کے ساتھ بولا جاتا ہے جب کہ درست تلفظ ت کے نیچے زیر کے ساتھ تِلاوت ہے!
2۔ وفاق۔عموماً و پر زبر کے ساتھ کہا جاتا ہے جب کہ درست تلفظ و کے نیچے زیر کے ساتھ وِفاق ہے!
3۔ بچگانہ۔ اس لفظ کو اکثر دوست گ کے ساتھ لکھتے بولتے ہیں جب کہ درست املا اور تلفظ ک کے ساتھ بچکانہ ہے!
4۔ عشر عشیر۔ اکثر عشر میں ع پر زبر کے ساتھ عَشر کہتے ہیں جب کہ درست تلفظ ع پر پیش کے ساتھ عُشر عَشیر ہے!
5۔ وضو۔ وضو بھی اکثر و پر پیش کے ساتھ بولا جاتا ہے جب کہ درست تلفظ و پر زبر کے ساتھ وَضو ہے!
6۔ فضا۔ فضا میں ف کے نیچے زیر کے ساتھ بہت عام ہو گیا ہے مگر درست ف پر زبر کے ساتھ فَضا ہے!
7۔ صبر۔ ص اور ب پر زبر کے ساتھ صَبَر کہا جاتا ہے جب کہ درست تلفظ ص پرتو زبر ہے مگر ب اور ر پر سکون ہے یعنی صَبر!
8۔ من و عن۔ عموماً م پر زبر کے ساتھ مَن و عن کہا جانے لگا ہے جب کہ م کے نیچے زیر کے ساتھ مِن و عن ہے!
9۔ مدرسہ۔ مدرسہ میں ر کے نیچے زیر کے ساتھ مدرِسہ لوگ کہتے ہیں لیکن درست تلفظ ر پر زبر کے ساتھ مدرَسہ ہے!
10۔ غلط۔ غلط کو بھی اکثر غَلط کہتے ہیں جب کہ درست غَلَط ہے!
مزید چند ایسے الفاظ جو بہ لحاظ تحریر تو مشابہ ہوتے ہیں مگر جداگانہ حرکات و سکنات کی وجہ سے تلفظ اور معنی میں بھی یکسر مختلف ہوتے ہیں مثلاً:
1۔ اَشکال۔ ش پر زبر کے ساتھ شکل کی جمع ہے جو عربی مونث ہے، جب کہ
اِشکال ۔ ش کے نیچے زیر کے ساتھ عربی مذکر ہے جو دشواری کے معنی میں آتا ہے!
2۔ اَلَف۔ فارسی مذکر لفظ ہے جس کے معنی برہنہ کے ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے: وہ تو الف ننگا تھا۔
اَلِف۔ سب جانتے ہیں کہ یہ عربی ابجد کا پہلا حرف ہے !
3۔ بِحر۔ عربی مذکر ہے جو بہت بڑے سمندر کے لیے کہا جاتا ہے مثلا بِحرالہند یا بحر الکاہل! جب کہ
بَحَر۔ عربی مونث لفظ ہے جو شعر کے وزن کے لیے بولا جاتا ہے!
4۔ دُرہ۔ د پر پیش کے ساتھ چمڑے کے چابُک کو کہا جاتا ہے اور عربی مذکر لفظ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اسے اتنے دُرے مارے جائیں جب کہ
دَرہ ... د پر زبر کے ساتھ دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو کہا جاتا ہے جو فارسی مذکر لفظ ہے۔ مثلا دَرہ خیبر!
5۔ حَسَب۔ مادرانہ سلسلے کو کہا جاتا ہے جس طرح نسب پدرانہ سلسلے کو کہا جاتا ہے (حسب و نسب) لیکن
حَسب۔ بموجب یا مطابق کے لیے کہا جاتا ہے مثلا حسب توفیق!
6۔ اِلحاد۔ سیدھے راستے سے کترانا، ملحد ہو جانا جب کہ
اَلحاد۔ لحد کی جمع ہے یعنی قبریں!

میرا خیال ہے آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، کیوں؟

جواب دیجئے