فیس بک کے جھروکے سے اردو زبان و بیان سیریز

فیس بک کے جھروکے سے

اردو زبان و بیان سیریز (6) محمد فیصل شہزاد

آج کل اس سیریز کی وجہ سے ایک اچھا مشغلہ ہاتھ آیا ہے جو خود ہمارے لیے بھی سود مند ثابت ہوا ہے ...یہ کہ ہم فیس بک کےجھروکے سے اب دوستوں کی پوسٹس سے نہ صرف مستفید اور محظوظ ہوتے ہیں.بلکہ اپنی سیریز کے لیے کچھ مصالحہ بھی اکٹھا کرلیتے ہیں۔ وہ الفاظ جن کے بارے میں یقین ہو کہ غلط ہیں، ان کے لیے تو دماغ سوزی نہیں کرتے مگرجن کے بارے میں یہ کھٹک ہو کہ شاید دونوں طرح درست ہوں یا شاید ہم ہی غلط ہوں۔ انہیں خواص اہل زبان کے حضور پیش کر دیتے ہیں(یعنی ان کی کتابوں میں دیکھتے ہیں) سو وہاں سےمطمئن ہو کر ہی سیریز میں پیش کر تے ہیں!
٭
1۔ اہلیان پاکستان یا اہل پاکستان!
پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ہاں کسی شہر یا ملک کے رہنے والے باشندوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اہالیان یا اہلیان کی ترکیب استعمال ہو رہی ہے... مثلاً ہمارے ہاں کراچی میں متحدہ کےغنڈے اپنے نعروں سے شہر بھر کی دیواریں کالی کیے رکھتے ہیں۔ اور آخر میں وہ اہلیان کراچی لکھ کر تمام اہل کراچی کی طرف اپنی بکواسات کو منسوب کرتے ہیں مگر یہ مہمل ترکیب ہے۔ انہوں نے اہل کا جمع اہلیان اور اہالیان تراش لیا ہے جو غلط ہے ۔ اہل کے معنی ہیں رہنے والے باشندے۔ یعنی اہل پاکستان کا مطلب ہوا، پاکستان میں رہنے والے باشندے۔ اس میں جمع کا مفہوم پہلے ہی موجود ہے لہٰذا صحیح تراکیب ”اہل پاکستان، اہل کراچی اور اہل محلہ“ ہی ہے۔ اہلیان اور اہالیان کا استعمال غلط ہے۔ بلکہ بقول پروفیسر سحر انصاری صاحب اہلیان تو اہلیہ کی جمع ہے! ہاہاہا
٭
2۔ کالجز ، یونیورسٹیز، اسکولز وغیرہ!
پچھلے ہفتے ایک بھائی کی پوسٹ میں یہ بحث بھی پڑھنے کو ملی کہ ہم یونیورسٹی اور کالج کیوں کہتے ہیں، ہمیں جامعہ کہنا چاہیے!
یہ چلن جو آج کل چل پڑا ہے کہ ہم اردو میں فرنگی الفاظ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کے متبادل عربی الفاظ پیش کر رہے ہیں ، گویا غیر ضروری دینی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کو مسلمان کرنےکی سعی لاحاصل کر رہے ہیں تو اس طرز عمل کے پیچھے یہی خیال کار فرما ہوتا ہے کہ یہ ملعون فرنگیوں کے الفاظ ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اب ان الفاظ کی حیثیت اردو کے اصل الفاظ کی سی ہے۔ورنہ صرف نصاریٰ کی زبان ہی کیوں، اس طرح تو پھر اردو میں شامل مجوسیوں کی زبان فارسی کے ہزاروں الفاظ اور ہندوؤں کی زبانی سنسکرت (ہندی) کے سینکڑوں الفاظ بھی ختم کیے جانے چاہئیں۔ مگر اس طرح اردو، لشکری زبان تو نہ رہے گی، اس آپریشن کلین اپ کے نتیجے میں ہوگا یہ کہ آخر میں صرف خالص عربی ہی بچے گی!
یاد رکھیے کہ غیر زبانوں کے جو لفظ کسی زبان میں پوری طرح کھپ جائیں،انہیں دخیل کہا جاتا ہے۔اور ایک بار جو لفظ زبان میں کھپ جائے تو ان میں اور اصل زبان کے الفاظ میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔جس طرح دنیا کے کسی بھی خطے کے کسی بھی رنگ و نسل کا انسان اسلام قبول کر لے تو اس نومسلم میں اور پیدائشی مسلمان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ بالکل اسی طرح جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آ گیا تو بس وہ ہمارا ہو گیا۔
اس لیے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کےانگریزی الفاظ اب گویا اردو کے الفاظ ہو چکے ہیں، اور انہیں اب”عصری تعلیمی اداروں“ کے لیے قبول عام حاصل ہو گیا ہے۔ بالکل ان پڑھ بھی ان الفاظ کو عام روزمرہ میں بولتا سمجھتا ہے۔اس لیے اب یہ بے جا تکلف ہی ہو گا کہ انہیں دینی تعلیمی اداروں کی طرح مکاتب، مدارس یا جامعات کہنے پر زور دیا جائے۔اس سے بلکہ نقصان یہ ہو گا کہ دینی تعلیمی اداروں کی تخصیص بھی ختم ہو جائے گی!
ہاں البتہ جمع کے صیغے کے طور پر اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کہنا درست نہیں۔بلکہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کہنا چاہیے۔ اسی طرح یونیورسٹی لیول کی جگہ بھی یونیورسٹی کی سطح کہنا اور لکھنا چاہیے!

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

0 Shares
Share
+1
Tweet
Share