غلط العام اور غلط العوام زبان و بیان سیریز از محمد فیصل شہزاد

اردو زبانغلط العام اور غلط العوام

زبان و بیان سیریز 8 از محمد فیصل شہزاد

کچھ دوستوں نے پوچھا ہے کہ یہ جو میں غلط العام اور غلط العوام لکھ لکھ کر رعب ڈالتا رہتا ہوں، یہ کیا بلا ہیں؟
تو چلیے آج بات کرتے ہیں ’’غلط العام‘‘ اور غلط العوام‘‘ کی.

غلط العام

زبان کے قواعد نہایت حیرت انگیز ہیں اور شاید سب سے حیرت انگیز قاعدہ غلط العام فصیح ہے جی ہاں غلط العام وہ الفاظ یا تراکیب ہیں جو تلفظ یا املا کے غلط ہونے کے باوجوداہل زبان نے قبول کر لیے ہوں۔ بڑے ادیبوں اور استاد شعراء نے بھی انھیں ویسا ہی اپنے اشعار میں باندھا ہو اس لیے یہ اب فصیح سمجھے جاتے ہیں۔ جیسے کہ ’’منصَب‘‘ زبر کے ساتھ بولا جاتا ہے جب کہ لغت کے اعتبار سے ’’منصِب‘‘ صحیح ہے یعنی ’’زیر‘‘ کے ساتھ لیکن چونکہ اہل زبان یونہی بولتے ہیں اس لیے ’’منصَب‘‘ ، ’’غلط العام‘‘ ہوا اور یہی بولا جاتا ہے!
اس کے علاوہ: قالَب کے بجائے قالِب یعنی زیر کے ساتھ۔ کافَر کے بجائے کافِر بھی زیر کے ساتھ غلط العام کے زمرے میں آتے ہیں!

غلط العوام

یہ وہ الفاظ ہیں جنھیں جہلا اور کم علم لوگوں نے غلط تلفظ اور معنی کے ساتھ بولنا شروع کر دیا ہو لیکن وہ ہر قیمت پر غلط ہی سمجھا جائے گا جیسے ’’عوام‘‘ مذکر ہے لیکن الیکٹرونک میڈیا اور سیاست دانوں نے اسے مونث کر دیا ’’پتّھر‘‘ کے بجائے ’’پھتر‘‘ کہنا خُوشبُو کے بجائے ’’خَشبُو‘‘... وفات کے بجائے ’’فوتیدگی‘‘ فطرہ کے بجائے ’’فطرانہ‘‘ کہنا اسی طرح ایک فاش غلطی جوآج کل کیا اخبارات کیا رسائل اردو اخبارات میں مسلسل کی جا رہی ہے، وہ یہ کہ’’دل برداشتہ‘‘ جس کا معنی غمگین اور آزردہ ہیں کو ’’دلبرداشتہ‘‘ یعنی لکھا جا رہا ہے ان تمام الفاظ سے اجتناب برتنا چاہیے کیوں کہ یہ تمام الفاظ غلط العوام کہلائیں گے اور یہ غیر فصیح ہیں!

٭ مشکور یا شاکر

آخر میں دو الفاظ مشکور اور شاکر کی بابت کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، کہ اردو میں ان الفاظ کا استعمال جو خواص و عوام شروع سے کرتے آئے ہیں ، وہ عربی سے بالکل الگ ہے صرف جوش صاحب نے اس پر اصرار کیا کہ شکریہ ادا کرنے والا اپنے آپ کو شاکر کہے مگر اس کو کبھی قبول عام حاصل نہیں ہوا

حضرت سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب "نقش سلیمان" میں لکھتے ہیں:
"لفظوں کے لینے اور نکالنے میں عربی و فارسی و سنسکرت ڈکشنریوں کو کسوٹی بنانا اور ان میں سے دیکھ دیکھ کر لفظوں کو چننا اور کام میں لانا ہماری زبان کے حق میں زہر ہے اس کی سچی کسوٹی رواج اور چلن ہے آج جو لفظ عربی، فارسی، ترکی، ہندی، مرہٹی، گجراتی، پرتگالی اور انگریزی کے عام طور سے برتے جا رہے ہیں، وہ ٹھیٹ ہندوستانی الفاظ ہیں، ان کو اسی تلفظ کے ساتھ بولنا چاہیے، جس کے ساتھ وہ بولے جاتے ہیں!

عربی میں مشکور اس کو کہتے ہیں جس کا شکریہ ادا کیا جائے، مگر ہماری زبان میں اس کو کہتے ہیں جو کسی کا شکریہ ادا کرے اسی لیے مشکور کی جگہ بعض عربی کی قابلیت جتانے والے اس کو غلط سمجھ کر صحیح لفظ شاکر یا متشکر بولنا چاہتے ہیں، مگر ان کی یہ اصلاح شکریے کے ساتھ واپس کرنی چاہیے!
خود لفظ شکریہ کو دیکھیے کہ اصل عربی مگر شکل عربی نہیں اب اس سے ہم نے دو الفاظ بنائے ہیں: شکر اور شکریہ! خداتعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور انسانوں کا شکریہ وہ ناشکرا ہے جو زبان کی اس توسیع کی قدر نہیں کرنا چاہتا۔

(نقوش سلیمان از سید سلیمان ندوی)

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں