کیا واقعی معاشرہ خراب ہے ؟ سیٹھ وسیم طارق

کیا واقعی معاشرہ خراب ہے ؟؟

سیٹھ وسیم طارق

یوں تو سبھی کہتے ہیں کہ آج کے انسانوں میں انسانیت ختم ہو گئی ہے۔ ان کے دل میں ذرہ برابر بھی انسانیت کا عنصر موجود نہیں۔ سب ایک دوسرے کو روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور جن کی آنکھوں کے سامنے روندا جا رہا ہے وہ اپنی رام کہانیوں کی کن پٹیاں باندھے سیدھا چلنے میں مصروف ہیں۔ کسی کو گھنٹہ فرق نہیں پڑتا کہ میرا ہمسایہ بھوکا سویا ہے یا نہیں۔ کسی کی مجبوری ہے یا لا چاری کوئی ضرورت مند ہے کہ نہیں۔ میری بیٹی کی عزت محفوظ ہونی چاہیے دوسروں کی بیٹیوں کی چادریں آپ چاہے لیرو لیر کر دیں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ دوسروں کے دروازے کو چور چاہے ساری رات توڑتا رہے لیکن ہمیں کیا ہماری چوکھٹ تو مضبوط ہے ہمیں کوئی نقصان نہ ہو گا۔ کسی کی بیٹی اپنے گھر میں بیٹھی بیٹھی ادھیڑ عمر ہونے کو ہے لیکن ہمیں کیا ہماری تو اپنے سسرال سکھ چین کی زندگی بسر کر رہی ہے ناں ۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ ہمارے معاشرے کی وہ باتیں ہیں جو اکثر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے کرتے رہتے ہیں لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ خود بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ یہی لوگ انہی گلیوں میں پلے بڑے ہیں جن گلیوں میں کسی کی بیٹی کی عزت لٹتی رہی اور یہ صرف اتنا ہی کہہ سکے کہ دیکھو یار انسانیت ہی ختم ہو گئی ہے دن دیہاڑے کسی کی بیٹی کی عزت کو تاڑ تاڑ کر رہا ہے۔ پتا نہیں ایسے لوگوں میں اتنی ہمت کہاں سے آ جاتی ہے۔ پتہ تب چلتا جب اپنی بیٹی سکول سے لوٹتی ہے تو اس کا دوپٹہ پھٹا ہوا ہوتا ہے۔ اور وہ دھاڑیں مار مار کے بتاتی ہے کہ ابا وہاں بہت لوگ تھے لیکن مجھے بچانے کیلئے ایک بھی آگے نہیں بڑھا، سب لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ یہ بات سن کے ایک منٹ کیلئے تو وہ سوچے گا ضرور کہ کاش کل میں نے فلاں کی لڑکی کی عزت کو لٹنے سے بچایا ہوتا تو آج میری بیٹی بھی سکول سے صحیح سلامت گھر لوٹتی۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو معاشرے میں ہونے والے غیر انسانی رویوں کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن بہت جلد وہ بھی معاشرے کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ۔ پچھلے سال ہمارے ہاسٹل میں ایک پٹواری صاحب آئے جو کہ پڑھائی کا شوق  رکھتے تھے ان سے جب پوچھا کہ بھائی یہ رشوت کیوں لیتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا سیٹھ صاحب ایسا ہے کہ میں نے ایم ایس سی فزکس کیا ہوا ہے۔ جب میں بھرتی ہوا تھا تو رشوت کے سخت خلاف تھا (آج بھی ہوں) لیکن کیا کریں لوگ میرے انکار کرنے پر بھی زبردستی میرے ہاتھ میں تھما جاتے ہیں اور اگر انکار کر دیں تو کولیگ طعنہ مار دیتے ہیں کہ یہ بندہ کس دنیا سے آ گیا ہے جس کو کام کرنے کا ذرا بھی پتا نہیں۔ سیٹھ صاحب آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں ہیں اگر آپ کرپشن نہیں کرتے یا رشوت نہیں لیتے تو آپ ترقی نہیں حاصل کر سکتے۔

اگر میں نے اپنا کوئی کام نکلوانا ہو تو میں ناجائز یا غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اپنا کام نکلوا لوں گا اور جب میں اپنا نکلوا لیا تو میں اپنے آپ میں دنیادار ، ہشیار ، چالاک اور سیانا ہو جاتا ہوں لیکن وہی کام اگر میرے سامنے کوئی دوسرا کر رہا ہو تو میرے منہ سے بے ساختہ یہ جملے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دیکھو ان لوگوں ذرا بھی شرم نہیں آتی انسانیت تو جیسے مر چکی ہے ان کی۔ انہی لوگوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بدنام ہے۔ یہ لوگ کبھی نہیں سدھرنے والے جب تک کوئی ڈنڈے والا نہ آئے یہ ایسے ہی رہیں۔ ان کا علاج ہی یہی ہے۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

ویسے تو پولیس والے سارے ہی رشوت خور ہوتے ہیں اور دوست احباب میں بیٹھ کر ہم ان کی اور ان کے اباو اجداد کی تربیتوں پہ تربیتی نشست لگا کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن یہی نشستی اراکین کو جب کوئی چوکی یا ناکہ سے بغیر ہیلمٹ اور یا گاڑی کے کاغذوں کے بغیر گزرنا پڑے اور وہ گزرنے بھی دے بغیر کسی چوں چراں کے تو وہ پولیس والا ہماری نظر میں ایک اچھا ایماندار اور فرض شناس پولیس مین ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہی پولیس والا کسی دوسرے کو اس طرح ہی گزرنے دے تو ہمارا پہلا جملہ ہی یہ ہوتا ہے کہ ڈرامہ لگایا ہوا کھڑے ہو کر کچھ کرتے ہی نہیں سارا دن بندوق تانے کھڑے رہتے ہیں۔ مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں دہشت گرد بغیر چیکنگ کے ناکوں سے گزر جاتے ہیں ان کو پرواہ ہی نہیں ذرا بھی۔ ہڈ حرام نہ ہوں تو۔

گھر کی بات کریں تو ساس کی نظر میں بہو نے گھر کا سارا ماحول خراب کیا ہوتا ہے۔ سگے بھائیوں کو آپس میں لڑوایا ہوا ہے۔ میری بہو میری تو ذرا بھی عزت نہیں کرتی۔ اور دیکھو تو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں آئی کو تو آج گھر علیحدہ کرنے کا بھی رٹا لگا لیا ہے۔ پتا نہیں کیا تربیت دی ہے اس کو اس کے والدین نے۔ اور ساتھ ہی اپنی لاڈلی اور بہت ہی اچھی تربیت والی بیٹی کا فون آتا ہے امی تمہارے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کر کے آج ہم نے اپنا علیحدہ گھر لے لیا ہے۔ میرے ساس اور سسر جٹھانی کے گھر ہی رہتے ہیں میں نے نہیں رکھا ان کو۔ اچھا کیا ناں۔۔۔ ؟ بہت اچھا کیا میری بیٹی چلو اب تو سکھی سے اپنی مرضی سے رہ سکے گی کوئی روک ٹوک والا نہ ہوگا۔ جیتی رہ میری بچی۔

بقول شاعر کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر کوئی فرعون ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی چھوٹا ہے تو کوئی بڑا۔ معاشرے کے بگاڑپن میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ایک نے پوڑی سڑک کا فنڈ ہڑپ لیا ہے تو دوسرے نے گلی کی اینٹیں اپنی عمارت میں لگوا لی ہیں۔ کسی نے ہزار کی کرپشن کر لی تو کسی نے ارب کا ہندسہ پار کر لیا ہے۔ کوئی ملازم ہو کر بھی کام پہ نہیں جاتا تو کوئی جاکر بھی کام نہیں کرتا۔ معاشرہ ہم سے ہے جب تک ہم نہیں سدھریں گے معاشرہ خاک سدھرے گا۔ میرے حقوق مجھے پلیٹ میں مل جانے چاہئے لیکن میری ذمہ داریوں کے متعلق کوئی سوال نہ کرے۔ ایسی دی تیسی اودی۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں