غیرت مر گئی ہے میری - مکالمہ آرائی از سیٹھ وسیم طارق

غیرت مر گئی ہے میری - مکالمہ آرائی

 بقلم سیٹھ وسیم طارق صاحب

میں اور میرا دوست سیالکوٹ اسٹیشن پہ بیٹھے چائے کی چسکیاں بھرنے میں مصروف تھے کہ ایک صحتمند نوجوان کالے رنگ کا بال بکھڑے ہوئے اور نومولود گرد آلود داڑھی رکھے ہوئے ہمارے سامنے مسکینوں جیسی شکل بنا کر کھڑا ہوگیا اور ہاتھ کے اشارے سے اپنے گونگے اور بہرے ہونے کا یقین دلاتے ہوئے مدد کی اپیل کرنے لگا۔ اس کی ایسی حالت دیکھ کر میرا تو دل پسیج گیا لیکن میں بہت حیران ہوا کہ میرا دوست جو کہ بہت خدا ترس بندہ ہے اس کو مانگنے والے کی حالت اور طریقہ کو دیکھ کر ذرا بھی ترس نہیں آیا اور نہ ہی اس نے اب تک جیب میں بٹوہ نکالنے کیلئے اپنے ہاتھوں کو جنبش دی ہے وہ اس کی التجائی منت سماجت کو پس پشت ڈال کر چائے کی مٹھاس چکھنے میں مگن تھا۔
ہوسکتا ہے دوست کے پاس کھلے پیسے نہ ہوں ایسا حسن ظن پیدا کر کے میں نے مانگنے والے کی مدد کی خاطر جیب میں پیسے نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا تو اتنے میں چائے والا چائے کے کپ اٹھائے ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے نصیحتی انداز میں ہمیں بولا او باو جی اس کو پیسے مت دینا بہت بڑا فراڈیہ ہے یہ۔ یہ گونگا بہرہ نہیں ہے ایکٹنگ کر رہا ہے ٹھیک ٹھاک بول سکتا ہے۔ ویسے ہی ہڈ حرام ہے۔ اس کی نصیحت پوری ہونے سے پہلے ہی میں مانگنے والے کے ہاتھ میں پیسے رکھ چکا تھا۔ میں اس وقت چونکا جب اس نے پیسے ہاتھ میں پکڑ کر کہا بڑی مہربانی باو جی ۔۔۔ اللہ تہانوں خوش رکھے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ میرا دوست ساتھ بیٹھا میری حیرانگی کو دیکر ہنسنے لگ گیا اور مانگنے والا دعائیں دے کر آگے بڑھ گیا۔ میں نے اس کو پیچھے آواز دی اور اپنے پاس بلایا اور سے پوچھا کہ تم جب بول سکتے تھے تو ایسا ناٹک کیوں کیا ؟؟ وہ بولا بس جی باو جی کم کرنا میرے واسطے موت اے۔ میرے کولوں کم نئیں ہوندا۔ ٹھیک ہے تم کام نئیں کر سکتے لیکن تم ویسے بول کر بھی مانگ سکتے تھے۔ جھوٹ کیوں بولا کہ میں گونگا بہرہ ہوں۔
اتنی دیر میں چائے والا چائے بانٹ کر واپس آگیا اور آتے ہی کہا کہ باو جی آپ کو کہا تھا کہ یہ فراڈیا ہے۔ اس کی ویسے غیرت مر چکی ہے۔ یہ تو جس سے مانگتا ہے اگر وہ پیسے نہ دے تو اس کو گالیاں بھی نکالتا ہے۔ وہ بھی گندی گندی گالیاں ۔۔۔ اس کو پیسے دیکر اپنے پیسے حرام کرنے والی بات ہے۔چائے والے کی بات سن کر اس مانگنے والے کو ذرا غصہ آیا اور چائے والے کو ایک دو گالی ٹھوک دی وہ بھی گندی والی۔ گالی سن کر چائے والا بھی پنجابی ہونے کا ثبوت دیکر چلاگیا پھر میں نے مانگنے والے سے پوچھا اوئے بات سنو جب تم ٹھیک ٹھاک ہٹے کٹے ہو ہاتھ پاوں سلامت ہیں تو دیہاڑی لگایا کرو مانگتے کیوں ہو ؟؟
میرا سوال دوبارہ سن کر وہ بولا باو جی چائے والے نے آپ کو بتایا نہیں کہ میری غیرت مر چکی ہے۔ میں کما کر نہیں کھا سکتا میں بے غیرت ہو گیا ہوں۔ کام کرنا جوان بندے کی موت ہوتی ہے میں اس لیے مانگتا ہوں ۔ میری غیرت مر چکی ہے یہ نہیں اب زندہ ہو سکتی۔
اتنا کہہ کر وہ چلا گیا بعد میں اپنے دوست سے میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کی منت سماجت کو دیکھتے ہوئے اس کی مدد کیلئے پیسے کیوں نہیں نکالے تو اس نے مجھے بتایا کہ دو دن پہلے میں یہاں پہ چائے پینے آیا تھا تو میرے ساتھ تھوڑے فاصلے پر پانچ چھ وکیل بیٹھے چائے پی رہے تھے تو یہی مانگنے والا ان سے پیسے مانگنے آ گیا۔ بالکل ایسی ہی ایکٹنگ کر رہا تھا جیسی اب کر رہا تھا۔ تو ان وکیلوں میں سے ایک وکیل نے اس کو کہا کہ تم بول کر دکھاؤ پھر ہم سب دس دس روپے دیں گے۔ میرا دوست کہتا کہ میں بھی ایسے ہی حیران ہوگیا تھا جیسے اب آپ ہوئے تھے۔ وہ کچھ دیر ٹال مٹول سے کام لیتا رہا کہ مجھے واقعی بولنا نہیں آتا اس لیے میری مدد کردیں۔ لیکن وکیل بھی بضد تھے کہ بھائی بولو گے تو دس دس روپے دے دیں گے ورنہ کچھ بھی نہیں ملے گا۔ کہتا ہے کہ وہ دس سیکنڈ ان سب کو دیکھتا رہا پھر منہ کھول کر کہتا کہ " لاو دے دو اب دس دس روپے "۔
پھر بیچارے وکیلوں کو دس دس روپے دینے پڑ گئے اور میں اس کی طرف دیکھتا رہ گیا کہ کیسے کیسے طریقے ہیں ان لوگوں کے پاس مانگنے کیلئے

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں