زبان کے معاملے میں قیاس

زبان کے معاملے میں قیاس؟

اردو زبان و بیان سیریز 11

مصنف محمد فیصل شہزاد

پچھلے دنوں ایک پوسٹ پر ایک ادبی بحث پڑھنے کو مل بہت خوشی ہوئی کہ ان مباحث سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی قوم اتنی بھی "بے ادب" نہیں ہوئی ہے۔البتہ صاحب پوسٹ کے نقطہ نظر سے ہمیں اختلاف تھا، مگر اپنی عادت کی وجہ سے وہاں اختلاف کا ماحول نہیں بنایا، بس ایک اختلافی کمنٹ کر کے آ گئے کہ باقی بات اپنی وال پر اپنی سیریز میں کریں گے!
وہاں تو شہروں اور ملکوں کے ناموں کے آخر میں"ہ" کی بجائے "الف" لگانے کی بحث چلی تھی، اس کی تفصیل ان شاء اللہ کسی اور مضون میں بس آج ایک اصولی بات کہیں گے کہ یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ زبان کے معاملے میں قیاس نہیں چلتا… بلکہ کسی ترکیب یا لفظ کی خواص میں قبولیت ہی اس کے درست ہونے کی دلیل ہے مثلاً لفظ مزاج کو لے لیجیے یہ لفظ پرسش احوال کی نسبت سے واحد کی بجائے جمع بولا جاتا ہے۔ جوش صاحب کہتے تھے کہ "آپ کے مزاج کیسے ہیں" کہنا غلط ہے کیوں کہ "مزاج" تو ایک ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ زبان کے معاملے میں قیاس ہے۔ کیوں کہ اگر منطق ہی نکالنی ہے تو پھر بقول شمس الرحمن فاروقی صاحب:
"اسی اعتبار سے "آپ کے باپ کون تھے؟" اور "آپ کے والد کہاں کے تھے؟" کی جگہ "آپ کا باپ کون تھا" ہھی بولنا چاہیے کیوں کہ "باپ" بھی تو ایک ہی ہوسکتا ہے اور ایسے جملے بولنے والے کے لیے مندرجہ بالا منطق کی رو سے یہ گمان گذر سکتا ہے کہ لاحول ولاقوۃ کسی کے بیک وقت دو باپ ہیں!؟
ایک صاحب نے فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں"،"اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں" وغیرہ فقرے "مائل شرک اور قابل ترک" ہیں کیوں کہ ان سے گمان گذرتا ہے کہ نعوذباللہ، ایک سے زیادہ اللہ ہیں۔ بے شک بہت سے علماء کرام نے اللہ رب العزت کو صیغہ واحد سے پکارنے کو زیادہ بہتر جانا اور یہ غایت توحید کی وجہ سے کہا گیا، مگر اس کو مائل شرک اور قابل ترک کہنا درست نہیں۔ بس اپنے اپنے ذوق کی بات ہے۔حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ارشاد کے مطابق دونوں ہی ٹھیک ہیں۔ اور خود حضرت جمع کے صیغے میں بولا کرتے تھے کہ اس میں ادب زیادہ ہے!
اب کچھ شعر سے مثالیں ملاحظہ فرمائیے: تسلیم لکھنوی نے مزاج کو جمع لکھا ہے:
کہیے صاحب! مزاج کیسے ہیں؟
کل تو شعلہ تھے، آج کیسے ہیں؟
علامہ اقبال نےبھی اپنی نظم "گائے اور بکری" میں مزاج کو مروج صیغے میں نظم کیا ہے:
کیوں بڑی بی، مزاج کیسے ہیں؟
گائے بولی کہ خیر، اچھے ہیں

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں