اردو مرادفات

دل چاہتا ہے اور دو مرادفات کی تصحیح

اردو مرادفاتدل چاہتا ہے اور دو مرادفات کی تصحیح

اردو زبان و بیان سیریز! قسط 12 از محمد فیصل شہزاد

کافی عرصہ کے بعد سیریز کی یہ مختصر سی قسط پیش خدمت ہے کیوں کہ آج کل کسی چیز کا دل نہیں چاہ رہا کل چند محاوروں کا بلاتکار ہوتا دیکھا تو سوچا آج ایک بہت زیادہ استعمال ہونے والے محاورے کی تصحیح کر دی جائے!

دل کی چاہت کو اکثر لوگ عموما “دل کرتا ہے” سے تعبیر کرتے ہیں جب کہ “دل کرتا ہے” پنجابی روزمرہ ہو تو ہو اردو کا بہرحال نہیں ہے!
نوٹ فرما لیجیے کہ اردو میں اس مقصد کے لیے …”دل چاہتا ہے”. یا “جی چاہتا ہے” بولا جاتا ہے سو یہی کہا کیجیے!

مرادفات یعنی ہم معنی الفاظ (جو داخلا اپنا ایک جدا مفہوم رکھتے ہوں) کے ذیل میں دو عام غلطیاں نوٹ فرما لیجیے!
٭ ہدیہ اور عطیہ:
یہ دونوں مرادفہ الفاظ ہیں مگر معنوی فرق رکھتے ہیں جس کو عموما دوست ایک ہی معنی میں لکھتے بولتے ہیں یاد رکھیے کہ ادنیٰ سے اعلیٰ یعنی چھوٹا بڑے کو کچھ دے تو وہ تحفہ ہدیہ کہلاتا ہے جب کہ اعلیٰ سے ادنیٰ یعنی بڑا آدمی چھوٹے کو کچھ دے تو وہ انعام یا عطیہ کہلاتا ہے۔
عرض کرنا اور فرمانا:
یہ غلطی پہلے کی نسبت کم دیکھنے میں آتی ہے مگر بہرحال کی جاتی ہے۔
ادب کا تقاضا یہ ہے کہ چھوٹے چاہے عمر میں چھوٹے ہوں یا درجے میں، بڑوں سے عرض کریں…اور بڑے چھوٹوں سے فرماتے ہیں!
جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا: جب کہ صحابہ نے حضور سے عرض کیا:
صحابی رسول نے تابعی سے فرمایا اور تابعی نے صحابی سے عرض کیا وغیرہ وغیرہ

میرا خیال ہے کہ اب میں بھی آپ دوستوں سے “فرمانا” بند کر وں آپ سب مجھے ہدیہ دینے کے بارے میں سوچیں اور پھر کمنٹس میں عرض کریں۔

جواب دیجئے