جدا مفہوم رکھنے والے بظاہر ہم معنی الفاظ!  اردو زبان و بیان سیریز

داخلاً جدا مفہوم رکھنے والے ، بظاہر ہم معنی الفاظ!

 اردو زبان و بیان سیریز از محمد فیصل شہزاد

اچھا جی دوستو!طویل غیر حاضری کے بعدخادم حاضر ہے اور پیش خدمت ہے اردو زبان و بیان سیریز کی تیرھویں قسط!
جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہی ہیں کہ یہ کوئی باقاعدہ کلاس تو ہے نہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر کسی طے شدہ ترتیب سے لی جائے۔ بلکہ یہ سیریز فیس بکی ساتھیوں کی پوسٹس ہی کی مرہون منت ہے۔ جب اردو زبان و بیان کے حوالے سے کوئی غلطی بار بار تحریروں میں نظر آنے لگے توتصحیح کے لیے خودبخود طبیعت مائل ہو جاتی ہے۔مگر اگر پوسٹ پر ہی کچھ عرض کیا جائے تو یہ اکثر احباب کو گراں گزرتا ہے۔ اس لیے یہی بہتر رہتا ہے کہ عمومی انداز میں ایک سیریز میں خود اپنے سیکھنے کی نیت سے اپنی بات رکھ دی جائے۔
آج کی سیریز کا ہمارا موضوع وہ الفاظ یا اصطلاحات ہیں جو عموما ہم معنی الفاظ کے طور پر ایک دوسرے کی جگہ بکثرت بولے لکھے جاتے ہیں جب کہ یہ الفاظ داخلاً اپنا ایک جدا مفہوم رکھتے ہیں گو عموما رواج میں ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی جگہ ہم معنی الفاظ کے طور پر چل بھی جاتے ہیں مگر بہرحال صحیح بولنے کی عادت ڈالنی چاہیے کہ کبھی کبھی ان مرادف الفاظ میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے عبارت کا مفہوم بالکل بدل بھی جاتا ہے!
فی الحال صرف دس مرادفات پیش خدمت ہیں:
1 علم غیب اور کشف:
ان دونوں اصطلاحات میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے فیس بک پر بھی اب بڑے جھگڑے ہونے لگے ہیں... یاد رکھیے کہ علم غیب وہ علم ہے جو بلاواسطہ ہوتا ہے،یہ عالم الغیب یعنی خالق کائنات کے ساتھ خاص ہے جب کہ اس کے برخلاف جو علم بذریعہ کشف ہو، اس میں چونکہ کشف ایک واسطہ ہے، لہٰذا وہ علم غیب نہیں ہو سکتا اور یہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے!
2) حسن اور جمال:
حسن تحیر کو کہتے ہیں اور جمال کشش کو حسن کے لیے بہترین مثال حسن یوسف علیہ السلام ہے اور قرآن سے ہی اس حسن کی مثال بھی ہے کہ عالم حیرت میں عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔جب کہ جمال کے لیے بہترین مثال جمال محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جمال محمدی میں حیرت کم کشش زیادہ تھی۔ اور حیرت کی بہرحال ایک حد ہے، کشش کی کوئی حد نہیں وہ بڑھتی رہتی ہے جیسا کہ سیرت صحابہ سے واضح ہے!
3) اِذن اور اجازت:
کسی کام کے وقوع سے قبل اجازت طلب کرنے کو اِذن کہنا چاہیے جب کہ اجازت کام کی تکمیل کے بعد رخصت لینے کو کہا جاتا ہے۔
4) پرہیز گاری اور تقویٰ:
پرہیز گاری محض دنیاداری سے گریز کرنے کو کہتے ہیں جب کہ تقویٰ شرع میں امور ممنوعہ سے اجتناب کو کہا جاتا ہے۔
5)آل اور ذریت:
آل میں قرابت دار مثلا بھائی کے بیٹے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن ذریت محض نسل ہوتی ہے گویا ذریت آل میں شامل ہے لیکن تمام آل ذریت میں شامل نہیں۔
6) کثیر اور وافر:
کثیر کا تعلق عدد سے ہے جب کہ وافر کی نسبت حجم اور وزن سے ہے!
7) راحت اور فرحت:
راحت کا تعلق جسم سے ہے اور فرحت کا تعلق دل سے یعنی کسی فعل سے جسم کو آرام اور سکون ملے تو کہتے ہیں راحت پہنچ رہی ہے ، جب کہ کسی بات سے قلب کو مسرت ہو تو کہا جائے گا کہ یہ بات باعث فرحت ہے!
8) استغفار اور توبہ:
استغفار سے مراد گزشتہ گناہوں سے بخشش طلبی ہے جب کہ توبہ سے مراد آیندہ گناہ نہ کرنے کا عہد۔
9) فضل اور احسان:
فضل محض لطف و کرم ہے جو بغیر کسی سبب اور جواز کے کیا جاتا ہے جب کہ احسان کبھی واجب ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا!
10)پتا اور معلوم:
یہ دونوں الفاظ مختلف اللسان ہی نہیں ، معنوی طور پر بھی بہت مختلف ہیں مگر اب عام بول چال میں یہ دونوں لفظ ہم معنی ہی استعمال ہوتے ہیں۔ لفظ پتا ہندی الاصل ہے اور یہ محض کسی سمت یا مقام کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ معلوم عربی الاصل لفظ ہے اور یہ علم سے مشتق ہے۔ بعد از علم کسی بات کے اظہار کو معلوم کہتے ہیں۔

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں