محمد فیصل شہزاد صاحب کی ایک مزاح سے بھرپور مضمون

  • بولنے والی ایک ان تھک مشین

مدیر خواتین کا اسلام

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

محمد فیصل شہزاد صاحب کی ایک مضاحیہ مضمون

بعض لوگ گویا بولنے والی مشین ہوتے ہی۔ایک اَن تھک مشین۔ آپ نے ایسے ہی ان سے رسما پوچھ لیا کہ وہ آج دعوت میں تاخیر سے کیوں آئے ہیں ؟تو بس گویا غضب ہو گیا ان کے چہرے پریکایک ایک مخصوص چمک آ جائے گی جو کسی معصوم شکار کو دیکھ کر کسی سفاک شکاری کے چہرے پر نمودار ہوتی ہے بس پھر وہ ہوں گے اور آپ کے کان

وہ دو الفاظ میں یہ بتانے کی بجائے کہ بائک پنکچر ہو گئی تھی۔اسٹارٹ دو دن قبل سے لیں گے جب ان کی بائک ان کے پڑوسی نے مانگ لی تھی۔بلکہ اس سے بھی قبل پڑوسی کی شخصیت کا مکمل احاطہ کرنا اور اس واقعے کا پس منظر، پیش منظر اور تمام جزئیات نہایت تفصیل سے بتانا ان کے لیے فرض کا درجہ ہو گا اور آپ کے لیے سننا واجب۔ کیوں کہ آپ بدقسمتی سے ایک اچھے سامع اور مروت کے پتلے ہیں۔سو دل ہی دل میں اپنی مروت کو گالیاں دینے کے باوجود چہرے پرحیرت اور آنکھوں میں تجسس کی جھوٹی چمک لیے ہمہ تن گوش ہونے کی اداکاری کرنا اور بیچ بیچ میں 'ہوں ہاں' کرنا آپ کے لیے واجب ہے تا کہ اسے آپ کی دلچسپی کا اندازہ رہے!
پھر یقین کریں ایسے لوگوں کا ذخیرہ الفاظ گرچہ بہت ہی محدود ہوتا ہے، مگر دہراؤ غضب کا ہوتا ہے وہ کسی بھی چھوٹی سی بات کے بخیے ادھیڑنا، پھر سینا، پھر ادھیڑنا اور وہ بھی بار بار، بار بار کرنے کے ماہر ہوتے ہیں سو زبان کی گاڑی چلتی رہتی ہے اور سامع کی کھوپڑی ابلتی رہتی ہے…

مجھے اعتراف ہے کہ مجھ میں ایک اچھا سامع بننے کی برائی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اور گھاگ باتونیوں اور کچھ متشاعروں نے میری اس صفت کو بھانپ لیا ہے۔ سو وہ اپنا شوق پورا کرنے کے لیے باقاعدہ مجھے گھیرتے ہیں اور میں اس کم بخت مروت کے ہاتھوں گھرے جانے پر مجبور۔ بس پھر وہ ہوتے ہیں اور ان کی ٹرٹرٹرٹرچلتی زبان۔ارے کیڑے پڑیں ایسی سماعت کو اور جہنم میں جائے ایسی مروت!
کبھی میں حیرت سے انہیں بولتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ وہ سانس بھی لے رہے ہیں کہ نہیں اسی طرح ایسے چند لوگوں کو دیکھ کر یہ بھی خیال آتا ہے کہ جب موٹاپا ورزش سے ختم ہو جاتا ہے تو پھر ان کی ٹھوڑی دہری کیوں ہے!؟ تکیہ کلام تو سب کا ہی ہوتا ہے مگر ان باتونی لوگوں کا تو تکیہ کلام بھی ایسا ہوتا ہے جو تپے ہوئے سامع کو مزید بھسم کر دے۔ پانچ منٹ مسلسل چلنے کے بعد ان کی زبان جو دَم لینے کو رکتی بھی ہے تو اس تکیہ کلام پر:
"اوہ میں بتا نہیں سکتا فیصل بھائی!"…اور میں سوچتا ہوں کہ کاش یہ سچ ہی ہوتا۔

پھر ستم تو یہ ہے کہ ایسے لوگ خود بہت برے سامع ہوتے ہیں آزمائی ہوئی بات ہے کہ ان کے کان صرف اسی وقت سنتے ہیں، جب وہ خود بول رہے ہوں کیوں کہ آپ ان باتونیوں سے کوئی بات شیئر کرنا چاہیں تو ان کے چہرے کے تاثرات سے، بدن بولی سے بلکہ کہنا چاہیے کہ ہرہر مسام سے ایسی بیزاری جھلکتی ہے کہ آپ کو شرمندہ ہو کر خاموش ہونا پڑتا ہے۔
ان کی یہ بے مروتی اور سفاکی دیکھ کر کئی بار سوچتا ہوں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ کرنا چاہیے مگر پھر وہی مروت آڑے آ جاتی ہے۔
اچھا ہم نے بھی بہت بول کر اپنے دل کے پھپھولے آج پھوڑ ہی لیے …ان میں سے چند میری فرینڈ لسٹ میں ہیں، اے کاش! آج تو وہ ہماری بھی سن لیں… اےکاش!
٭٭٭
پچھلی رات ایک دعوت ولیمہ میں، ایک صاحب سے وجہ تاخیر پوچھ بیٹھنے پر مسلسل دو گھنٹے دماغ کی دہی بنانے پر نہایت بے چارگی سے کی گئی پوسٹ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

9 Shares
Share9
+1
Tweet
Share