املا اور تلفظ اردو زبان و بیان سیریز

املا یا تلفظ کے فرق کے ساتھ ایک جیسے الفاظ!

اردو زبان و بیان سیریز از محمد فیصل شہزاد

گرمی کی شدت کی وجہ سے ہم نے تین دن کی چھٹی کی آج پھر حاضر ہیں!
آج ہم کچھ ایسے الفاظ کے بارے میں بات کریں گے، جن کا تلفظ تو ایک جیسے صوتی الفاظ کی وجہ سے ایک ہی ہوتا ہے مگر املا علیحدہ ہوتا ہے، مثلاً:
سدا۔ س سے ہمیشہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں سدا بہار یا سدا خوش رہو!
صدا۔ ص سے صدا گونج، گنبد کی آواز یا فقیروں کے مانگنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
صحیح۔ ص اور ح کے ساتھ درست کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جب کہ
سہی۔ یہ تاکید کے واسطے کہا جاتا ہے، یا کبھی شرط کے لیے جیسے (آؤ تو سہی)یا کبھی لاپروائی ظاہر کرنے کے لیے جیسے (ارے ہم دیوانے ہی سہی) وغیرہ
آزر۔ ز سے آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام ہے، جب کہ
آذر۔ ذ سے آذر کے معنی ہیں آگ
حامی۔ ح سے حامی کے معنی ہیں ، حمایت کرنے والا، جب کہ
ہامی۔ ہ سے ہامی کے معنی اقرار کرنا ہے۔

اب ان الفاظ کا ذکر جو ایک معنی میں "الف" سے اور دوسرے معنی میں "ہ" سے درست ہیں۔ مثلا:
پارا۔ ایک خاص دھات کو کہتے ہیں جو حرارت سے بے حد حساس ہوتی ہے، اس کا دوسرا نام سیماب بھی ہے، انگریزی میں اسے مرکری کہتے ہیں مگر:
پارہ۔ ٹکڑے کو کہا جاتا ہے جیسے کہتے ہیں: تو نے میرے دل کو پارہ پارہ کر دیا۔
خاصا۔ کے معنی موزوں یا اچھے کے ہیں عموما ہم کہتے ہیں کہ اچھا خاصا تو ہے وہ!جب کہ
خاصہ۔ ہ کے ساتھ خاصہ نہایت نفیس اور خاص چیز کو کہتے ہیں جو امراء کے لائق ہو! مثلا ہم کہتے ہیں کہ وہ تو خاصے کی چیز ہے!
زَہرا۔ (ز پر فتح اور) آخر میں الف کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا لقب ہے، جب کہ
زُہرہ۔ (ز پر پیش اور) آخر میں ہ کے ساتھ زہرہ ایک مشہور ستارے کا نام ہے۔
نالا۔ آخر میں الف کے ساتھ پانی کی چھوٹی سی گزر گاہ کو کہا جاتا ہے، جیسے ندی نالا وغیرہ، جب کہ
نالہ۔ آخر میں ہ کے ساتھ نالہ، فریاد کرنے کےمعنی میں کہا جاتا ہے۔ آہ و نالہ وغیرہ
دانا۔ آخر میں الف کے ساتھ دانا عقل مند کے لیے کہا جاتا ہے اسی سے دانائی ہے، جب کہ
دانہ۔ آخر میں ہ کے ساتھ دانہ آب و دانہ یا مثلا مرغیوں یا کڑیوں کو دانہ ڈالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے!

آخر میں ان الفاظ کا ذکر جن کا املا ایک جیسا مگر تلفظ علیحدہ اور معنی بھی الگ ہیں مثلاً:
کَش۔ ( بفتحہ اول ) ایک ایسا صیغہ جو کسی اسم کے بعد آ کر اسے اسم فاعل ترکیبی بنا دیتا ہے اور کھینچنے والا یا برداشت کرنے والا کے معنی دیتا ہے...جیسے محنت کَش وغیرہ
کُش۔ (ک پر پیش کے ساتھ) ایک ایسا صیغہ امر جو کسی اسم کے بعد آ کر اسے اسم فاعل ترکیبی بنا دیتا ہے اور قتل کرنے والا کے معنی دیتا ہے جیسے جراثیم کُش، کِرم کُش، خود کُش وغیرہ۔ (عموماً دوست خود کَش کہتے ہیں جو غلط ہے)
کَرَم۔ (ک اور ر پر زبر کے ساتھ)عربی کا مشہور لفظ ہے اور عنایت، مہربانی کے معنی میں آتا ہے، جب کہ
کِرم۔ (بکسر اول ، ر اور م پر سکون) کیڑے کو کہتے ہیں!
شِیر۔ (بیائے معروف)فارسی الاصل لفظ ہے۔ دودھ کو کہتے ہیں، اسی وجہ سے شِیر وشکر کی ترکیب ہے کہ جیسے دودھ اور چینی آپس میں مل جاتے ہیں، اسی طرح ایک جان دو قالب کے لیے کہا جاتا ہے۔ اسی طرح دودھ میں کھجور یا چھوہارے کو پکا کر ایک قسم کا میٹھا جو عموما ہمارے ہاں عید پر بنایا جاتا ہے کو شِیر خرما کہتے ہیں (شِیر دودھ کو اور خرما کھجور کو کہتے ہیں)، شِیر مادر (ماں کا دودھ) اور شِیر خوار (دودھ پینے والا بچہ) وغیرہ، جب کہ
شیر۔ (یائے مجہول) یہ بھی فارسی الاصل لفظ ہے اور یہ جنگل کے بادشاہ کو کہا جاتا ہے! اسی سے شیر دل، شیر خدا کی تراکیب استعمال کی جاتی ہیں!
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ کیوں؟

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں