اردو زبان و بیان سیریز از محمد فیصل شہزاد

اردوزبان و بیان سیریز قسط1

محمد فیصل شہزاد صاحب ’’ خواتین کا اسلام ‘‘ کے مدیر ہیں۔ زبان و بیان کےحوالے سے ان کا یہ سلسلہ فیس بک پر شروع ہوا تھا اب ان کی اجازت سے اردو زمین پر شایع کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی قسط حاضر ہے۔

سوا یا علاوہ کے استعمال میں غلطی!

پچھلے ہفتے ایک پوسٹ پر کمنٹ میں ایک لفظ پر بھائی تصور سمیع سے بات چلی تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ایک سلسلہ ایسا ہونا چاہیے جس میں ہم اردو زبان و بیان کے حوالے سے مل کر کچھ سیکھ سکیں۔ ان کے کہنے پر ارادہ تو اسی دن کر لیا تھا لیکن اپنی بے بضاعتی کی وجہ سے پھر ارادہ موخر کر لیا، کیوں کہ ایک تو میں خود ابھی اردو زبان و بیان کے حوالے سے سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں، یعنی مبتدی ہوں اسی وجہ سے اکثر فاش غلطیاں کر جاتا ہوں۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر تھی کہ اردو محض بولی ٹھولی نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کا ایک لسانی مجموعہ ہے... یوں اردو کا دامن بہت وسیع ہے اور دبستان لکھنو، دبستان اودھ اور دبستان دلی کی تقسیم کی وجہ سے کئی الفاظ اتنے مختلف طریقے سے برتے جاتے ہیں کہ بالکل ممکن ہے کہ ایک بے فائدہ بحث چھڑ جائے، مگر پھر ایک ہفتے میں ہی چند پوسٹس ایسی نظر آئیں کہ کمزور پڑتا ارادہ پھر سے قوت پکڑ گیا! اور یہ خیال ہوا کہ اگر میں سکھانے کی نیت کروں تو پھر تو واقعی مسئلہ ہے لیکن اگر میں خود بھی اصلاح زبان کی نیت کر لوں تو اس طرح ساتھیوں کے ساتھ میرا بھی فائدہ ہو گا۔ ہم سب مل کر سیکھیں گے ان شاء اللہ۔ کیوں کہ اردو زبان و بیان میں بڑے اہل زبان نے بھی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اس لیے کسی ساتھی نے میری اصلاح کی تو شکریے کے ساتھ قبول کی جائے گی۔ مگر انداز تعمیری اور مثبت ہو کہ اسی سے طرفین کو فائدہ ہوتا ہے!
شروع کرنے کے لیے کوئی متعین ترتیب نہیں رکھی ہے۔ املا ، تلفظ، غلط العام اور غلط العوام ان شاء اللہ سب ہی زیر بحث آئیں گے... لیکن کوئی خاص ترتیب نہیں ہو گی... بس جو لفظ ، ترکیب یا جملہ کسی پوسٹ پر کھٹک گیا، کوشش کی جائے گی کہ ان شاء اللہ اس پردلچسپ انداز میں نام لیے بغیر بات کی جائے۔ کوشش کروں گا کہ لغات سے مدد نہ لوں۔کیوں کہ لغات کئی الفاظ اور تراکیب کے حوالے سے باہم متضاد ہیں۔
اب ہم اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے سلسلہ شروع کرتے ہیں...
1- اکثر دیکھا کہ "سوا" اور "علاوہ" کے استعمال میں اکثر ساتھی غلطی کرجاتے ہیں۔ ان دونوں الفاظ کا اصل مفہوم ایک دوسرے کے الٹ ہے... اگرچہ "سوا" کے بجائے "علاوہ" کا لفظ استعمال کرنے سے بعض اوقات کام چل جاتا ہے، لیکن دراصل یہ غلط ہوتا ہے... کیوں کہ لفظ "علاوہ" کا مفہوم ہے:"یہ بھی اور مزید یہ بھی"
جب کہ لفظ "سوا" کا معنی ہے: صرف یعنی استثناء!
مثلا اس جملے کو دیکھیے:
اسلام ایک ضابطہ حیات ہے، اسلام کے علاوہ دیگر ازم (نظام) کفر و شرک کی دعوت دیتے ہیں!
اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام بھی اور دیگر تمام نظام بھی کفرو شرک کی دعوت دیتےہیں، حالاں کہ لکھنے والے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر باقی تمام نظام کفرو وشرک کی دعوت دیتے ہیں۔ صحیح عبارت یوں ہونی چاہیے تھی:
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کے سوا (اسلام کے استثنیٰ کے ساتھ) دیگر تمام نظام کفرو شرک کی دعوت دیتے ہیں! اس ضمن میں مثالیں اور بھی دی جا سکتی ہیں، مگر صرف نمونہ دکھانا مقصود تھا۔

تحریر: محمد فیصل شہزاد

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں