اردو زبان و بیان سیریز قسط سوئم

اردو زبان و بیان سیریز قسط 3 از محمد فیصل شہزاد

چند الفاظ کا تلفظ درست کیجیے

آج تلفظ پر بات کریں گے لیکن اس سے پہلے ایک بات کی وضاحت کہ ہم اس سیریز میں دبستان دہلی کو معیار بنا رہے ہیں کیوں کہ اردو کے اکثریتی حلقوں میں دبستان دہلی کے برتاؤ کو شروع ہی سے تقدم حاصل ہے۔ پاکستان میں بھی الفاظ کی صحت کے بارے میں دبستان دہلی کو مستند سمجھا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں چند الفاظ کے غلط تلفظ کی طرف یوں تو بے شمار الفاظ ہیں جن کا تلفظ ہم غلط بولتے ہیں اور میں خود بھی کئی برس سے اپنا تلفظ درست کر رہا ہوں کیوں کہ املا تو مطالعے کی وجہ سے بہت جلد درست ہو جاتا ہے ، مگر تلفظ کا تعلق چونکہ سننے سے ہے، اس لیے اس میں بڑی غلطیاں رہ جاتی ہیں۔
آج ہم صرف ان چار الفاظ کا تلفظ درست کریں گے، جو دینیات کے الفاظ ہیں اور مسلمان ان الفاظ کو اکثر بولتے ہیں مگرستر فیصد انہیں غلط تلفظ کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
1۔ سب سے پہلے تو ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک مصطفیٰ!
مُصطفیٰ ط پر پیش کے ساتھ عموما کہا جاتا ہے جب کہ درست مُصطَفیٰ یعنی ط پر زبر کے ساتھ ہے۔
2۔ استغفار۔ الف اور ت پر زبر کے ساتھ غلط جب کہ الف اور ت کے زیر کے ساتھ "اِستِغفار" درست ہے (چونکہ اَستغفراللہ میں الف اور ت پر زبر پڑھا جاتا ہے اس لیے اِستغفار کو بھی اََستَغفار کہہ دیا جاتا ہے،جو درست نہیں)
3۔ توکل۔ تَو کَل میں عموماً ک پرتشدید زبر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، جب کہ درست ک پر تشدید پیش کے ساتھ ہے۔
4۔ منطق۔ منطِق کے ط پر زبر غلط اور زیر درست ہے یعنی منطَق درست تلفظ نہیں بلکہ منطِق درست ہے!

بقلم محمد فیصل شہزاد

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں