اردو زبان و بیان سیریزقسط دوئم از محمد فیصل شہزاد

لفظ عوام کا بطور مونث استعمال! محمد فیصل شہزاد

اردو زبان و بیان سیریز قسط2

ایک بڑی غلطی جو آج کل پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر عام نظر آتی ہے ، وہ ہے لفظ "عوام" کو بطور مونث استعمال کرنا مثلا" عوام تو پاگل ہو گئی ہے " یا "اب عوام ہی اس با ت کا فیصلہ کرے گی" وغیرہ۔
یہ غلط ہے۔ لفظ عوام کو مذکر کے طور پر جمع کے صیغے میں استعمال کرنا صحیح ہے۔ یہ غلطی غالباً اس لیے کی جاتی ہے کہ اردو میں لفظ "پبلک" مونث کے طور پر بولا اور لکھا جاتا ہے جو کہ بالکل درست ہے۔ مگر لفظ عوام کو مونث واحد لکھنا اور بولنا غلط ہے۔ مذکورہ بالا جملے اس طرح درست ہوں گے ۔ "عوام تو پاگل ہو گئے ہیں" اور "اب عوام ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔"
ویسے مفہوم کے اعتبار سے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عوام پاگل ہو گئے ہیں۔
مگر عوام فیصلہ کریں گے۔یہ مفہوم کے اعتبار سے بالکل غلط ہے کیوں کہ عوام تو کاالانعام ہیں ان سے فیصلہ منوایا جاتا ہے ، فیصلہ کروایا نہیں جاتا۔

اس سلسلے کی پہلی قسط پڑھیں

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں