املا کی دو غلطیاں اردو زبان و بیان سیریز

املا کی دو غلطیاں

اردو املا

اردو زبان و بیان سیریز 5 محمد فیصل شہزاد

کسی بھی تحریر کی خوبصورتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس زبان میں لکھی جائے، اس کے قواعد کے مطابق لکھی جائے۔ ہمارے ہاں تذکیر و تانیث، واحد جمع، درست تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ املا کی غلطیاں بھی عام ہیں!
آج کی کلاس میں ہم چند عام استعمال ہونے والی املا کی اغلاط کے بارے میں جانیں گے
1۔جھوٹا یا جوٹھا؟
دراصل جیسا کہ میں نے پہلی قسط میں عرض کیا تھا کہ یہ سیریز بھی فیس بک ہی کی وجہ سے شروع ہوئی ہے آج ایک پوسٹ میں بچے ہوئے کھانے یا مشروب کے لیے لفظ ”جھوٹا“ دیکھا تو خیال آیا کہ یہ لفظ عام روزمرہ بول چال میں کثرت سے بولا جاتا ہے اور بچہ بچہ یہ بات کہتا ہے کہ میں اس کا ”جھوٹا“ نہیں کھاتا! ... عموماً بڑے بھی یہاں لفظ ”جھوٹا“ ہی کہتے ہیں جو درست نہیں!
اصل لفظ ”جوٹھا“ ہے ... جو پس خوردہ، مستعمل ، بچے ہوئے کھانے یا مشروب کے لیے کہا جانا چاہیے، مگر ہمارے ہاں آج کل تقریباً ایک جیسے تلفظ کی وجہ سے”جھوٹا“ کہا جانے لگا ہے، جس کے معنی بتانے کی ضرورت نہیں!
اور دونوں کے معنی میں تفاوت صاف ظاہر ہے!
2۔فاش یا فحش؟
دوسری دلچسپ اور معنی خیز املا کی غلطی فاش اور فحش کا استعمال ہے!
عموماً ہمارے دوست جب کسی بڑی اور صریح غلطی کی طرف کسی کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ” فحش“ غلطی ہے!اس طرح کہنا خود ایک فاش غلطی ہے۔بلکہ کہنا چاہیے کہ یہ” فاش“ غلطی ہے۔ دراصل فاش کا معنی ہے کھلی ، صریح۔ جب کہ فحش کے معنی معروف ہیں یعنی بے ہودہ ، شرمناک اور بے حیائی کی باتوں یا جنسی بدکلامی کو فحش گوئی کہتے ہیں۔ اب اگر ہم کسی کی صریح غلطی کو ظاہر کرنے کے لیے یہ کہیں کہ فلاں نے فحش غلطی کی ہے۔تو نہ صرف ہم نے غلط کہا بلکہ ہم نے ایک طرح اس پر”بہتان“ بھی لگا دیا ہے۔
ویسے... برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ
غلطیاں فحش بھی ہو سکتی ہیں بلکہ ہوتی ہیں۔جن کا خمیازہ اچھے لوگ بھگتتے ہیں۔
مثلاً سب سے پہلے تو فحش غلطیاں کرنے والے گستاخان رسول کے غلیظ والدین ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا ایمان ہے۔ کیوں کہ خود خالق کائنات اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنےو الے کو ”زنیم“ یعنی حرامی کہہ رہے ہیں تو یہ قیامت تک کے لیے کلیہ ہو گیا کہ گستاخی کرنے والا یقیناً حرامی ہو گا۔اور یوں ثابت ہوا کہ وہ اپنے والدین کی فحش غلطی ہے!
اس کے علاوہ بھی کچھ لوگ فحش ” غلطیاں“ کرتے ہیں ان "غلطیوں" کو صرف میں اور آپ ہی نہیں، صحابہ کرام ، اسلاف و اکابر کے پاک نفوس بھی وصال کے صدیاں گزرنے کے باوجود بھگتتے ہیں۔ اور یوں ان کے نامہ اعمال میں لاکھوں نیکیوں کا اضافہ ہو جاتا ہے کتنے خوش نصیب ہیں ناں ہمارے اسلاف ؟

دوستوں سے شیئر کریں

تبصرہ کریں